اسلام آباد(وقائع نگار)میر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی دوسری سیاسی جماعتوں سے بالکل مختلف جماعت ہے، ہماری کامیابی اور دنیا کی کامیابی کے تصور میں بڑا فرق ہے، ہماری کامیابی اور ناکامی کا تصور وہی ہے جو اللہ نے دیا ہے۔اپنے ایک بیان میں سراج الحق کا کہنا تھا کہ پاکستان میں موجود سیاسی جماعتیں بری طرح بے نقاب اور ناکام ہوگئی ہیں، ان کے ساتھ کوئی انقلاب کا پروگرام نہیں، آصف زرداری، شہباز شریف سمیت یہاں موجود سیاسی قیادت انجوائے کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں شرح سود میں اضافہ ہوا، جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ شرح سود پاکستان میں ہے، ہم نے کہا کہ سودی نظام اور پاکستان ساتھ ساتھ نہیں چل سکتا، یورپ سود کے خلاف نئے نظام کی طرف جا رہا ہے، جاپان میں شرح سود صفر ہوگیا ہے، ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے سودی نظام کے خاتمے کیلئے کچھ نہیں کیا۔امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ ہمیں حکومت ملی تو پاکستان میں سودی نظام کا خاتمہ کریں گے، ہم نے خیبرپختونخوا میں سود پر پابندی لگائی تھی، خیبرپختونخوا ایک قرض فری صوبہ بن گیا تھا، یہ چاہتے ہیں ججز، عوام ان کی مرضی کے مطابق فیصلہ کریں، یہ چاہتے ہیں قومی اسمبلی ان کی مرضی کے مطابق چلے، حقیقت میں یہ سب ایک پیج پر ہیں۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے قرضوں پر ان تین پارٹیوں کا اتفاق ہے، آج ہمیں امریکا اور برطانیہ کی طرف سے خطرہ نہیں، اس ملک کی تباہی اور بربادی کیلئے یہ لوگ کافی ہیں، انہوں نے معیشت، زراعت، تعلیمی نظام، صنعت کو تباہ کیا۔سراج الحق کا مزید کہنا تھا کہ ملک پر ظالم اور کرپٹ ٹولہ مسلط ہے، آج بجلی کی قیمتوں میں 7 روپے فی یونٹ اضافہ کیا گیا، ایک یونٹ کے استعمال کیلئے آپ کو 60 روپے دینے ہوں گے، ہمارے ملک میں تو 5 دریا بہتے ہیں پھر کیوں بجلی کی قلت ہے۔
Trending
- وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے سیاحت سردار یاسر الیاس خان کی تقرری کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا
- اسلام آباد میں درخت، الرجی اور پالیسی کا امتحان
- پاکستان کی موجودہ صورتحال
- قائداعظم یونیورسٹی گرلز ہاسٹل میں نوجوان کی دراندازی، ملزم گرفتار
- راولپنڈی میں نالہ لئی کے کنارے غیر قانونی تعمیرات جاری جبکہ ڈی سی و کمشنر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں
- سی ڈی اے مزدور یونین
- 2025 : کمپٹیشن کمیشن کی گمراہ کن تشہیر کے خلاف مؤثر کارروائیاں
- سیاسی بے یقینی اور معاشی دباؤ: 2025 کی کہانی
- جانے پر لوٹا، آنے پر خوش آمدید — یہ کیسی سیاست
- میان منظور احمد وٹو کا شمار اُن سیاست دانوں میں ہوتا ہے۔۔۔
Comments are closed.