اسلام آباد(وقائع نگار)پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر قرض کی منظوری کے ساتھ ہی عالمی مالیاتی فنڈنے دوسرے جائزے کے لیے شرائط پیش کر دیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے حکومت پاکستان سے ریئل اسٹیٹ اور زرعی شعبے پر ٹیکس عائد کرنے کا پلان مانگ لیا ہے۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس پراپرٹی سیکٹر اور زرعی شعبے سے محصولات بڑھانے کی صلاحیت موجود ہے۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ پراپرٹی سیکٹر اور زرعی شعبے پر ٹیکس عائد کر کے محصولات میں اضافہ کیا جائے۔ذرائع کا کہنا ہے ایف بی آر کا پلان آئی ایم ایف نے منظور کر لیا تو منی بجٹ آسکتا ہے تاہم پراپرٹی سیکٹر اور زرعی شعبے پر ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ نئی حکومت کو کرنا ہو گا۔
ذرائع کے مطابق پراپرٹی سیکٹر اور زرعی شعبے پر ٹیکس عائد کرنے کے لیے عالمی بینک سے معاونت لی جائے گی۔یاد رہے کہ چند روز قبل ہی پاکستان کو آئی ایم ایف سے 3 ارب ڈالر کے معاہدے کی پہلی قسط ایک ارب 20 کروڑ ڈالر موصول ہوئی تھی۔اس حوالے سے آئی ایم ایف حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کو معاشی استحکام کے لیے معاہدے کی شرائط پر سختی سے عمل درآمد کرنا ہو گا جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی ایم ڈی آئی ایم ایف کرسٹالینا جارجیوا کو یقین دہانی کروائی ہے کہ معاہدے پر ہر صورت عمل کیا جائے گا۔
Trending
- وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے سیاحت سردار یاسر الیاس خان کی تقرری کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا
- اسلام آباد میں درخت، الرجی اور پالیسی کا امتحان
- پاکستان کی موجودہ صورتحال
- قائداعظم یونیورسٹی گرلز ہاسٹل میں نوجوان کی دراندازی، ملزم گرفتار
- راولپنڈی میں نالہ لئی کے کنارے غیر قانونی تعمیرات جاری جبکہ ڈی سی و کمشنر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں
- سی ڈی اے مزدور یونین
- 2025 : کمپٹیشن کمیشن کی گمراہ کن تشہیر کے خلاف مؤثر کارروائیاں
- سیاسی بے یقینی اور معاشی دباؤ: 2025 کی کہانی
- جانے پر لوٹا، آنے پر خوش آمدید — یہ کیسی سیاست
- میان منظور احمد وٹو کا شمار اُن سیاست دانوں میں ہوتا ہے۔۔۔
Comments are closed.