سری لنکا ، سیلاب سے 123 اموات، عالمی مدد کی اپیل

سری لنکا ، سیلاب سے 123 اموات، عالمی مدد کی اپیل

کولمبو

سری لنکا نے سائیکلون ’ڈٹوا‘ کے باعث شدید بارشوں اور سیلاب میں ہلاکتوں کی تعداد 123 تک پہنچنے کے بعد بین الاقوامی مدد کی اپیل کی ہے، اور 130 افراد لاپتا بھی بتائے گئے۔

ڈیزاسٹر مینجمنٹ سینٹر (ڈی ایم سی) کے مطابق شدید موسمی نظام نے تقریباً 15 ہزار گھر تباہ کر دیے ہیں اور 44 ہزار افراد کو عارضی طور پر بنائے گئے ریاستی شیلٹرز میں منتقل ہونا پڑا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل سمپتھ کوتووگودا نے کہا کہ فوج، نیوی اور ایئر فورس کے ہزاروں اہلکاروں کی تعیناتی کے ساتھ ریلیف آپریشنز کو مضبوط بنایا گیا ہے۔

سائیکلون ڈٹوا ہفتے کے روز جزیرے سے دور جا رہا تھا اور شمال کی جانب پڑوسی بھارت کی طرف بڑھ رہا تھا، لیکن اس کے آنے سے پہلے ہی بڑے پیمانے پر تباہی ہو چکی تھی۔

کوٹو وگودا نے کہا کہ فوج کی مدد سے ریلیف آپریشنز جاری ہیں۔

کولمبو سے 115 کلومیٹر مشرق میں واقع مرکزی ضلع کنڈی میں تازہ لینڈ سلائیڈز آئی ہیں، جس کے باعث کئی مقامات پر مرکزی راستہ زیر آب ہے۔

ڈی ایم سی کے ایک اہلکار نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ فائبر آپٹک کیبلز کئی جگہوں پر ٹوٹ گئی ہیں اور موبائل فون کام نہیں کر رہے، کیوں کہ بیس اسٹیشنز پانی میں ڈوب گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ رابطے کی لائنیں بحال کرنے کے لیے ایک خصوصی یونٹ تعینات کیا گیا ہے، چائے کے پہاڑی علاقوں میں مٹی کے تودے گرنے کے بعد کئی دور دراز علاقے سڑک کے ذریعے ناقابل رسائی ہیں۔

حکومت نے بین الاقوامی مدد کی اپیل کی اور بیرون ملک سری لنکن شہریوں سے تقریباً نصف ملین متاثرہ افراد کی مدد کے لیے نقد عطیات دینے کی درخواست کی۔

حکام کے مطابق وزیر اعظم ہارینی امرسر یا نے کولمبو میں قائم سفارت کاروں سے ملاقات کی تاکہ انہیں صورتحال سے آگاہ کیا جا سکے اور ان کی حکومتوں کی مدد طلب کی جا سکے۔

بھارت نے سب سے پہلے ردعمل ظاہر کیا اور دو طیاروں میں امدادی سامان بھیجا، جبکہ کولمبو میں پہلے سے موجود بھارتی جنگی جہاز نے متاثرین کی مدد کے لیے اپنا راشن فراہم کیا۔

مودی نے ’ایکس‘ پر کہا کہ ہم صورتحال کے مطابق مزید امداد اور تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ادھر وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ریسکیو، بحالی اور ریلیف کے کاموں میں ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، جو ہمارے سری لنکن بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ یکجہتی کی علامت ہے۔

کم زمین والے علاقوں میں سیلاب بدھ کو مزید شدت اختیار کر گیا، جس کے باعث حکام نے کولمبو سے بھارتی سمندر میں بہنے والے کیلانی دریا کے کناروں پر رہنے والے افراد کے لیے انخلا کے احکامات جاری کیے تھے۔

ڈی ایم سی کے مطابق، کیلانی نے جمعے کی شام اپنے کناروں سے باہر بہنا شروع کر دیا، جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد کو عارضی شیلٹرز میں منتقل ہونا پڑا۔

ملک کے زیادہ تر حصوں،بشمول دارالحکومت میں بارشیں کم ہو گئی ہیں، لیکن جزیرے کے شمالی حصے میں سائیکلون ڈٹوا کے اثرات کی وجہ سے ابھی بھی بارشیں جاری ہیں۔

ڈی ایم سی کے اہلکاروں نے کہا کہ توقع ہے کہ سیلاب کی سطح 2016 میں ریکارڈ شدہ سطح سے زیادہ ہوگی، جب پورے ملک میں 71 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس ہفتے موسمی حالات سے متعلق ہلاکتیں پچھلے سال جون کے بعد سب سے زیادہ ہیں، جب شدید بارش کے بعد 26 افراد ہلاک ہوئے تھے، دسمبر میں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈز میں 17 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

سری لنکا میں صدی کے آغاز کے بعد سب سے شدید سیلاب جون 2003 میں دیکھے گئے تھے، جب 254 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

Comments are closed.