Trending
- اسرائیل کی غزہ میں جارحیت پر عالمی خاموشی
- ریاستہائے امریکہ
- وائٹ ہاؤس کے سالانہ صحافتی ڈنر میں فائرنگ، ڈونلڈ ٹرمپ بال بال بچ گئے، محفوظ مقام پر منتقل
- بدمست ہاتھی
- اسلام آباد معاہدہ: پاکستان کی سفارتی پیش رفت
- سی سی پی نے جاز انٹر نیشنل کو ٹی پی ایل انشورنس کے حصول کی منظوری دے دی
- سی ڈی اے مزدور یونین کا ورکرز ویلفیئر فنڈ کے تعلیمی فیصلے پر شدید احتجاج
- لیڈی کانسٹیبل عائشہ ریاض کے اغواء کا معاملہ: پولیس کی تحقیقات تیز
- آسٹریلیا میں پہلی بار خاتون آرمی چیف مقرر — تاریخ ساز فیصلہ
- کینیڈا کا امریکہ کو بڑا جھٹکا، دفاعی پالیسی میں اہم تبدیلی کا اعلان
انہوں نے کہا کہ پہلی بار ایک تیسرے ملک کو شامل کیا گیا تاکہ افغانستان کو یہ باور کرایا جا سکے کہ اسے دوحہ معاہدے پر عمل کرنا ہوگا، جس کے تحت وہ اپنی سرزمین کو کسی بھی شخص یا گروہ کو دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
انہوں نے سوال کیا کہ اگر دہشت گردی پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے، تو پھر یہ دہشت گرد افغانستان سے کیوں آتے ہیں؟ یہ بیان انہوں نے افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کے حالیہ تبصرے کے جواب میں دیا، جنہوں نے کہا تھا کہ دہشت گردی کسی ملک کا اندرونی معاملہ ہے۔

Comments are closed.