نیشنل بُک فاؤنڈیشن کے گیارہویں قومی کتاب میلے کی اختتامی تقریب

نیشنل بُک فاؤنڈیشن وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے زیر اہتمام لوک ورثہ میں تین روزہ گیارہواں قومی کتاب میلہ آج اپنے اختتام کو پہنچا۔ یہ کتاب میلہ 25 نومبر سے 27 نومبر تین دن تک جاری رہا۔ اس کتاب میلے کا انعقاد ادارہ تعلیم و آگہی کے تعاون سے کیا گیا تھا۔ اس بھرپور اور شاندارقومی کتاب میلے کی اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی جناب علی اصغر ڈائریکٹر جنرل نیشنل کریکولم کونسل تھے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل بک فاؤنڈیشن اور ادارہ تعلیم و آگہی نے قومی کتاب میلے کا انعقاد کر کے بڑا اہم کام کیا ہے جس کی گونج دیر تک سنائی دیتی رہے گی۔ نیشنل بُک فاؤنڈیشن نے کتاب میلے کا انعقاد کر کے خصوصی طور پر بچوں کے لیے انتہائی دلچسپ اور معلوماتی پروگرامز کا اہتمام کیا۔ بچےہمارا قومی سرمایا ہیں دراصل اس پروگرام کے مہمانِ خصوصی میں نہیں بلکہ یہ تمام بچے ہیں۔ آپ ہی ہمارے اسٹارز اور ہمارے ہیروز ہیں۔

یہاں یہ سب سرگرمیاں بڑی کامیابی کے ساتھ سرانجام پائیں۔ سب سے مضبوط آپ کی بنیادیں یہ ہیں کہ جب آپ بڑے ہوں گے تو آپ نے جو کتاب پڑھی ہیں ان کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ کتاب لکھنے والوں سے ملاقاتوں اور کتاب کا ذکرشان سے کریں گے۔ڈاکٹر غلام علی ملاح چیئرمین (IBCC) نے کہا کہ لوک ورثہ میں نیشنل بُک فاؤنڈیشن کے قومی کتاب میلے کے انعقاد پر مجھے نہایت خوشی ہوئی ہے۔ان کتاب میلے میں نوجوان نسل اور سکول اور کالجوں کے بچوں کا شامل ہونا ہمارے لیے بہت ضروری ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ لوگ کتاب کو دوست بنائیں اور کتاب پڑھنا اپنی عادت اور سوال پوچھنے کو اپنی طاقت بنائیں۔ اس طرح یہ کتاب میلہ نہیں بلکہ ایک تحریک ہے ۔جناب آفتاب بشیر سینئر جوائنٹ سیکرٹری وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت نے کہا کہ لوک ورثہ میں نیشنل بُک فاؤنڈیشن کے قومی کتاب میلے کے انعقاد پر لوگوں کو کتاب کے بہت قریب لانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ میری خواہش ہے کہ اگر آپ کتاب کا مطالعہ نہیں کریں گے تو آپ کے علم میں اضافہ نہیں ہو گا۔ ہمارے وزیرِ تعلیم ڈاکٹرخالد مقبول صدیقی ایک نہایت علمی وا دبی شخصیت ہیں اور کتاب بینی کے فروغ کے لیے بہت دلچسپی لیتے ہیں۔

اُن کی رہنمائی میں نیشنل بُک فاؤنڈیشن کامیابی کے ساتھ ایسے علمی و ادبی کام سرانجام دے رہا ہے۔جناب کاظم سعید چیئرمین ادارہ تعلیم و آگہی نے کہا کہ نیشنل بُک فاؤنڈیشن کا تین روزہ کتاب میلہ ادارہ تعلیم و آگہی کے تعاون سے کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا ہے۔ ادارہ تعلیم و آگہی بچوں کی تعلیم کے لیے بھر پور کوشش کرتا ہے ۔ میں ادارہ تعلیم و آگہی کی طرف سے وفاقی وزارتِ تعلیم ، نیشنل بُک فاؤنڈیشن ، اساتذہ اور بچوں کا انتہائی شکر گزار ہوں۔ اساتذہ ہی بچوں کے مستقبل کے لیے ان کی رہنمائی کر سکتے ہیں۔نیشنل بُک فاؤنڈیشن کے مینجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر کامران جہانگیر نے کہا میں نے دیکھا کہ کتاب میلے میں نہ صرف عوام کا ہجوم بلکہ کتابوں کے 100 سے زائد اسٹالز پر کتابیں خریدنے والے کثیر تعداد کے ساتھ کتاب میلے کی رونق کو دوبالا کررہے تھے۔ مجھے اس کتاب میلے کے اختتام پر محسوس ہورہا ہے کہ یہ میلہ ابھی کچھ دن اور جاری رہنا چاہیے۔ ہم نے گیارہواں قومی میلے کا انعقاد وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی ہدایت پر کیا ہے۔

یہ قومی کتاب میلہ نیشنل بُک فاؤنڈیشن کی روایت کے مطابق کر رہے ہیں ۔ہم اس کے بعد کراچی ، لاہور اور بڑے شہروں میں اسے ہی کتاب میلے منعقد کریں گے۔اختتامی تقریب میں اسکولوں کے طلبہ کو مضمون نویسی کے مقابلوں میں کامیابی حاصل کرنے والوں کو مہمان ِ گرامی نے انعامات تقسیم کیے۔ تاکہ ان کی حوصلہ افزائی کی جائے اور بچے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں۔جناب علی اصغر ، ڈاکٹر غلام علی ملاح، ڈاکٹر کامران جہانگیر ، جناب کاظم سعید، محمد ایوب جمالی، ڈاکٹر محمد وقاص سلیم اور جناب مراد علی مہمند بھی شامل تھے۔یہ ایک معلوماتی اور کتاب کے حوالے کئی پروگرامز منعقد کیے گئے ہیں جن میں کتابوں کی تقریب پذئرائی اور کتاب خوانی، آؤ بچو سنو کہانی، ادبی رابطے معاصر ادب کے رحجانات، مشاعرہ ، غزل نائیٹ اور بچوں کے کئی طرح دلچسپ پروگرامزشامل تھے۔ ان سب پروگراموں نے کتاب میلے کی رونق کو بڑھایا ۔اختتامی تقریب کی نظامت نازیہ رحمن نے کی تقریب کے شرکاء، ادباء، دانشوروں، صحافیوں، اہل قلم کے علاوہ اسکولز کے طلبہ کی کثیر تعداد شامل تھی۔

Comments are closed.