تحریر: صوفی عابد چشتی نظامی نیازی
میں آپ کے سامنے ملکِ موجودہ صورتحال، گورننس، استحکام اور مختلف صوبوں کی کارکردگی پر چند گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔
میں کسی ایک حکومت، کسی ایک ادارے یا کسی ایک صوبے کی بات نہیں کر رہا، بلکہ میں بات کر رہا ہوں ریاستِ پاکستان کے سفر کی پاکستان نے پچھلے کچھ برسوں میں نہایت مشکل ادوار دیکھے ہیں۔ ماضی میں بدامنی، معاشی عدم استحکام اور انتظامی کمزوریوں نے ریاستی ڈھانچے کو بری طرح متاثر کیا اس سفر کی جو مشکلات، قربانیوں اور آزمائشوں سے گزر کر آج ایک بہتر سمت کی طرف بڑھ رہا ہے
الحمدللہ، آج ریاستی اداروں میں پہلے سے زیادہ نظم و ضبط نظر آتا ہے، کئی شعبوں میں کنٹرول بحال ہوا ہے اور ترقیاتی منصوبے عملی شکل اختیار کر رہے ہیں۔ ملکی اسٹیبلشمنٹ کی یہ انتھک کوشش قابلِ تحسین ہے کہ ملک سے دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ہو، پاکستان مالی استحکام کی طرف بڑھے اور ایک محفوظ، مضبوط ریاست کے طور پر ابھرے۔ فیٹف جیسے عالمی چیلنجز ہوں یا معاشی دباؤ، ان تمام محاذوں پر سنجیدہ محنت جاری ہے، جو یقیناً ایک مثبت پیش رفت ہے
آج ریاستی رِٹ پہلے سے زیادہ مضبوط نظر آتی ہے، کئی شعبوں میں کنٹرول بحال ہوا ہے، ترقیاتی منصوبے کاغذوں سے نکل کر زمین پر آ رہے ہیں، اور پاکستان ایک بار پھر دنیا میں اپنا مثبت تشخرر قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے
بالخصوص میں یہاں فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر اور ان کی پوری ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں، جنہوں نے نہایت مشکل حالات میں ملک کی باگ ڈور سنبھالی۔ جس عزم، دیانت، اور خاموش مگر مسلسل محنت کے ساتھ وہ اور ان کی ٹیم مختلف اندرونی و بیرونی چیلنجز کا مقابلہ کر رہے ہیں، وہ تاریخ میں ایک روشن باب کے طور پر لکھا جائے گا۔
دنیا نے دیکھا کہ کس طرح پاکستان نے سفارتی، دفاعی اور اسٹریٹجک محاذ پر اپنے مؤقف کو مضبوطی سے پیش کیا دنیا نے دیکھا کہ کس طرح بھارت جیسے جارحانہ رویے رکھنے والے ملک کو مؤثر، باوقار اور فیصلہ کن انداز میں جواب دیا گیا—نہ صرف میدان میں بلکہ سفارت کاری میں بھی یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کمزور نہیں، بلکہ ایک ذمہ دار اور باوقار ریاست ہے
اسی طرح، ملک کے اندر فتنہ خوارج اور دہشتگرد عناصر کے خلاف جو بھرپور جدوجہد جاری ہے، وہ پوری قوم کی دعاؤں اور حمایت کی مستحق ہے۔ ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے محافظوں کو مزید کامیابیاں عطا فرمائے، تاکہ یہ ناسور ہمیشہ کے لیے ختم ہو اور پاکستان میں امن، خوشحالی اور استحکام مکمل طور پر قائم ہو
اگر ہم صوبائی سطح پر بات کریں تو یہ بات ماننی پڑے گی کہ پنجاب کی گورننس مجموعی طور پر دیگر صوبوں سے بہتر نظر آتی ہے۔ پالیسی لیول پر کام ہو رہا ہے، انتظامی فیصلے بہتر ہیں، فائل ورک میں تیزی آئی ہے اور کئی ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔
مگر سوال پھر وہی ہے
کیا اس ترقی کا فائدہ عام آدمی تک پہنچ رہا ہے؟
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ابھی تک نچلی سطح پر عوام وہ فرق واضح طور پر محسوس نہیں کر پا رہیں
اسپتالوں میں سہولیات، عدالتوں میں بروقت انصاف، سبزی منڈی، فروٹ منڈی اور گوشت کی قیمتوں میں کنٹرول—یہ سب وہ شعبے ہیں جہاں ابھی گرفت مضبوط نہیں ہو سکی۔
روٹی کا دوبارہ مہنگا ہونا اس بات کی علامت ہے کہ پالیسی اور عمل کے درمیان ابھی بھی خلا موجود ہے۔
پنجاب حکومت کو چاہیے کہ وہ صرف اوپر سے نہیں بلکہ نچلی سطح تک سخت نگرانی اور مؤثر کنٹرول قائم کرے، تاکہ ترقی کے ثمرات واقعی عوام کی دہلیز تک پہنچیں۔
اگر ہم سندھ کی بات کریں تو وہاں کا انفراسٹرکچر—سڑکیں، نکاسیٔ آب، اسپتال اور تعلیمی ادارے—انتہائی خراب حالت میں ہیں۔ سندھ حکومت کو سنجیدگی، دیانت اور عملی اقدامات کے ساتھ اس شعبے پر توجہ دینا ہوگی، کیونکہ مضبوط انفراسٹرکچر کے بغیر ترقی ایک خواب ہی رہتی ہے۔
اسی طرح بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے عوام بھی اس ملک کے اتنے ہی وفادار اور اتنے ہی حق دار ہیں۔
وہاں بھی خوشحالی آنی چاہیے، روزگار کے مواقع پیدا ہونے چاہئیں، تعلیم اور صحت کی سہولیات ملنی چاہئیں، کیونکہ پاکستان تبھی مضبوط ہوگا جب اس کا ہر صوبہ مضبوط ہوگا
پاکستان آج درست سمت میں گامزن ہے۔ ریاستی ادارے متحرک ہیں، نیت موجود ہے، قربانیاں دی جا رہی ہیں، اور حالات پہلے سے کہیں بہتر ہیں۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ امن کے ساتھ ساتھ مہنگائی، غربت اور بدانتظامی کا بھی خاتمہ ہو، تاکہ عام آدمی سکھ کا سانس لے سکے۔
میں دعا گو ہو ں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک، ہمارے اداروں، اور ہمارے قائدین کو مزید کامیابیاں عطا فرمائے،
پاکستان کو امن، استحکام اور خوشحالی کی راہ پر تیزی سے گامزن کرے
Comments are closed.