تحریر: ناصرمحمود بٹ
آج بلوچستان میں جاری دہشتگردی محض چند مقامی یا خارجی شرپسند عناصر کا مسئلہ نہیں، بلکہ اس کے پس پردہ ایک طویل اور تلخ تاریخ چھپی ہوئی ہے۔ اگر دیانتداری سے دیکھا جائے تو اس تمام صورتحال کا سب سے پہلا اور بڑا قصور اُن صاحب ِ اقتدار طبقات پر عائد ہوتا ہے جو دہائیوں تک پاکستان اور اس کے صوبوں پر اپنے گروہی مفادات کے تحت قابض رہے۔نہ کبھی انفراسٹرکچر کو سنجیدگی سے ترقی دی گئی، نہ ہی عام آدمی کی زندگی میں ایسا کوئی انقلاب برپا کیاگیا جس کے ذریعے وہ اپنی اور اپنے خاندان کی معاشی حالت بہتر بنا سکتا یہ حقیقت ہے کہ جتنا بھی رو لیاجائے محض شکوے شکایتیں حالات نہیں بدل سکتے مگر یہ بھی ایک ناقابل ِ تردید سچ ہے کہ انہی داخلی کوتاہیوں نے حالات کو اس نہج تک پہنچایا کہ آج بیرونی قوتیں بلوچستان کے راستے پاکستان کو غیرمستحکم کرنے میں پیش پیش ہیں۔ ان قوتوں میں سر فہرست بھارت ہے، جس کے مداخلت کے ناقابل ِ تردید شواہد موجود ہیں،جبکہ دوسرے نمبر پر پاکستان کا ازلی دشمن اسرائیل کھڑا نظرآتا ہے۔ اسرائیلی حکمرانوں کے بیانات بارہا اس حقیقت کی نشاندہی کرچکے ہیں کہ انہیں سب سے زیادہ خطرہ پاکستان سے ہے کیونکہ یہ واحد اسلامی ایٹمی طاقت ہے جو اِن کے وجود کو چیلنج کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے یہی خوف اور یہی ذہنیت ان قوتوں کو چین سے بیٹھنے نہیں دیتی اور برسوں سے پاکستان کے خلاف محاذ آرائی جاری ہے۔اس تمام صورتحال میں پاکستان افواج اور دیگر انٹیلی جنس ادارے خاموش تماشائی نہیں، وہ نہ صرف دشمن کی ہر سازش کا بھرپور جواب دے رہے ہیں بلکہ بلاخوف و خطر جام ِ شہادت نوش کرکے دنیا کے سامنے قربانی کی ایسی امثال قائم کررہے ہیں جو عصر ِ حاضر میں کم ہی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ ہمیں پورا یقین ہے کہ ہماری افواج ان ظالم عناصر کو انجام تک پہنچا کر ہی دم لیں گی، انشاء اللہ تاہم بلوچستان کے معاملے میں یہ مانناپڑے گا کہ ماضی میں بھی ہمارے ارباب اختیار سے سنگین غلطیاں ہوئیں اور بدقسمتی سے آج بھی کچھ نہ کچھ دہراؤ جاری ہے، بیرونی دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ بعض اندرونی کمزور اور بھٹکے ہوئے عناصر بھی اس کھیل کا حصہ بن چکے ہیں جو کسی حد تک نظام میں سرایت کرچکے ہیں۔ ایسے لوگوں کو محض طاقت کے ذریعے مزید دیوار سے لگانے کے بجائے انہیں واپس قومی دھارے میں لانے کی سنجیدہ کوششیں کرنا ہوں گی اس کے لیے طویل المدتی کونسلنگ، اعتماد سازی اور معاشی بحالی ناگزیر ہے۔
اگر ان کے کاروبار بند کردیئے جائیں،نوکریاں چھین لی جائیں اور انہیں مزید محرومی کی طرف دھکیلا جائے تو یہ مسئلہ حل ہونے کے بجائے مزید بگڑے گا، اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ انہیں یہ باور کروایا جائے کہ ان کا مستقبل ایک مضبوط اور مستحکم پاکستان کے ساتھ ہی وابستہ ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ کسی بھی بیرونی طاقت نے ان قبائل کو سوائے دھوکے کے کچھ نہیں دیا، آج کی عالمی صورتحال کو دیکھ کر اگر ہمارے مقامی لوگ یہ حقیقت سمجھ لیں کہ انہیں صرف لڑایاجارہا ہے تو بہت سی گریں خودبخود کھل سکتی ہیں، خصوصاً یہ حقیقت بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ بیشتر غیر مسلم طاقتیں اپنے علاوہ دوسروں کو انسان سمجھنے تک آمادہ نہیں ہوتیں، جب یہ شعور ہمارے لوگوں میں بیدار ہوجائے گا تو حالات بدلنے میں دیر نہیں لگے گی۔ اس کے بعد ضرورت اس بات کی ہے کہ بلوچستان کے عوام کو تیزی سے ترقیاتی منصوبوں، خصوصاً سی پیک جیسے منصوبوں میں شامل کیاجائے تاکہ وہ عسکریت پسندی کی ذہنیت سے نکل کر تعمیرو ترقی کی راہ پر گامز ن ہوں۔
خوشحالی ہر انسان کا خواب ہے اور ہر انسان کا حق بھی اگر بلوچستان کو اس کی اصل صلاحیت کے مطابق استعمال کیاجائے وہاں کے لوگوں کو باعزت روزگار فراہم کیاجائے اور انہیں قومی ترقی کا حقیقی حصہ بنایاجائے تو پھر دیکھیئے کہ زندگی کس طرح تیزی سے اپنی اصل منزل کی طرف دوڑتی ہے۔
Comments are closed.