اسلام آباد میں درخت، الرجی اور پالیسی کا امتحان

کالم نگار: شہزاد حسین بھٹی

اسلام آباد میں حالیہ دنوں درختوں کی کٹائی نے ایک بار پھر یہ بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے کہ ترقی، صحتِ عامہ اور ماحولیات کے درمیان توازن کیسے قائم رکھا جائے۔ ایک ایسا شہر جو اپنی سبزہ زاری اور منصوبہ بندی کے باعث ملک بھر میں مثال سمجھا جاتا تھا، وہاں ہزاروں درختوں کا اچانک کٹ جانا عوام کے لیے فطری طور پر تشویش کا باعث بنا۔

عوامی ردعمل کے بعد حکومت نے وضاحت پیش کی اور وزیرِ موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ اقدام جنگلات کی کٹائی نہیں بلکہ ماحولیاتی بحالی کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق تقریباً 29 ہزار پیپر مل بیری کے درخت ہٹائے گئے جو غیر مقامی ہیں اور الرجی اور دمے کے مریضوں کے لیے شدید مسائل پیدا کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عمل سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے تحت کیا گیا۔

پیپر مل بیری کا معاملہ محض ایک ماحولیاتی بحث نہیں بلکہ صحتِ عامہ کا سنجیدہ مسئلہ بھی ہے۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد کے الرجی سینٹر کے مطابق ہر سال دو لاکھ سے زائد مریض الرجی کے علاج کے لیے رجوع کرتے ہیں، جن میں نمایاں تعداد پولن الرجی کے متاثرین کی ہوتی ہے۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ اسلام آباد میں الرجی ایک معمولی نہیں بلکہ مستقل اور بڑھتا ہوا مسئلہ ہے۔

این آئی ایچ کے اعداد و شمار کے مطابق حالیہ برسوں میں پولن الرجی کے لیے ویکسین لگوانے والے مریضوں کی تعداد ہزاروں میں رہی ہے۔ بعض برسوں میں اس میں کمی دیکھی گئی، جسے ماہرین پیپر مل بیری کی مرحلہ وار کٹائی اور عوامی آگاہی سے جوڑتے ہیں، تاہم وہ اس بات پر متفق ہیں کہ اس رجحان کو حتمی نتیجہ قرار دینے کے لیے مزید تحقیق ناگزیر ہے۔

سپریم کورٹ کے احکامات میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ الرجی پھیلانے والے غیر مقامی درختوں کو ختم کیا جائے، مگر اس کے ساتھ متبادل شجرکاری کو یقینی بنایا جائے تاکہ شہر کا قدرتی ایکو سسٹم متاثر نہ ہو۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں حکومتی پالیسی کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔

شہریوں کی شکایات اس پالیسی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہیں۔ شکرپڑیاں، H-8 اور چک شہزاد جیسے علاقوں کے مکینوں کا کہنا ہے کہ وہاں صرف پیپر مل بیری نہیں بلکہ کئی پرانے، صحت مند اور سایہ دار درخت بھی کاٹے گئے۔ ان کے نزدیک مسئلہ صرف الرجی کا نہیں بلکہ سبز ورثے کے نقصان کا بھی ہے۔

سی ڈی اے کا مؤقف ہے کہ ان علاقوں میں 90 فیصد سے زائد درخت پیپر مل بیری کے تھے اور کٹائی تکنیکی سروے کے بعد کی گئی۔ تاہم ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات میں شفاف ڈیٹا، واضح نقشے اور عوامی مشاورت اعتماد کی بحالی کے لیے ناگزیر ہوتے ہیں، جو اس معاملے میں کم نظر آئے۔

حکومت نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ہر ایک درخت کے بدلے تین نئے پودے لگائے جا رہے ہیں، وہ بھی مقامی اقسام کے۔ منصوبے کے مطابق پھلدار درخت اور مقامی چیڑ شامل ہیں، جبکہ شجرکاری مہم کے تحت 30 ہزار پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ بظاہر یہ اعداد و شمار حوصلہ افزا ہیں، مگر اصل سوال ان پودوں کی بقا اور نگہداشت کا ہے۔

جنوری میں شجرکاری مہم کے آغاز پر یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا کہ سرد موسم میں پودے زندہ نہیں رہ پائیں گے۔ سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ چیڑ جیسے درخت سردیوں میں لگائے جا سکتے ہیں، مگر ماہرین یاد دلاتے ہیں کہ شجرکاری محض پودا لگانے کا نام نہیں بلکہ برسوں پر محیط دیکھ بھال کا تقاضا کرتی ہے۔

ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ ماحولیات، صحت اور جنگلی حیات سے متعلق اداروں کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان ماضی میں بھی مسائل پیدا کرتا رہا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اب سی ڈی اے، ای پی اے اور اسلام آباد وائلڈ لائف بورڈ کے درمیان بہتر رابطہ قائم کیا جا رہا ہے، تاکہ مستقبل میں فیصلے زیادہ مربوط اور مؤثر ہوں۔

آخرکار اصل سوال یہ نہیں کہ پیپر مل بیری کے درخت کاٹے جائیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ یہ سب کچھ کس حد تک شفاف، سائنسی اور عوامی اعتماد کے ساتھ ہو رہا ہے۔ این آئی ایچ کے اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ الرجی ایک حقیقی مسئلہ ہے، مگر اس کا حل ایسا ہونا چاہیے جو صحت کے ساتھ ساتھ ایکو سسٹم کو بھی محفوظ رکھے۔ اگر اسلام آباد کو واقعی ایک ماحولیاتی ماڈل شہر بنانا ہے تو پالیسی، عملدرآمد اور احتساب تینوں کو ایک ساتھ چلنا ہوگا۔

Comments are closed.