الغازی ٹریکٹر کیس از سر نو کارروائی کے لیے کمپٹیشن کمیشن کے سپرد
اسلام آباد
شمشاد مانگٹ
کمپٹیشن اپیلٹ ٹرابیونل نے الغازی ٹریکٹرز لمیٹڈ کے خلاف گمراہ کن مارکیٹنگ پر عائد 40 ملین روپے جرمانے کے کیس میں از سر نو کارروائی کے لیے کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان کو واپس بھیج دیا ہے۔ اپیلٹ ٹربیونل نے اپنے فیصلے میں ہدایت کی ہے کہ کمیشن شو کاز نوٹس کے مرحلے سے کارروائی دوبارہ شروع کرے اور 90 دن کے اندر فیصلہ جاری کرے۔
سماعت کے دوران، اپیل کنندہ (الغازی ٹریکٹرز) نے پنجاب ایگریکلچرل مکینائزیشن ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی ایک رپورٹ پیش کی، جس کے مطابق انہوں نے اپنے اشتہارات میں دعویٰ کیا تھا کہ ان کے ٹریکٹر دیگر ٹریکٹرز کے مقابلے میں ایندھن کی 30 فیصد تک بچت فراہم کرتے ہیں۔ ٹرابیونل نے کمیشن کو یہ تجویز دی کہ آئندہ کارروائی میں پنجاب ایگریکلچرل مکینائزیشن ریسرچ انسٹیٹیوٹ کو بھی نوٹس جاری کیا جائے اور اس کی رپورٹ کے مندرجات و نتائج پر ماہرانہ رائے حاصل کی جائے۔
ٹربیونل نے مزید کہا کہ اگر کمیشن مناسب سمجھے تو وہ دیگر ٹریکٹر بنانے والی کمپنیوں سے بھی رائے طلب کر سکتا ہے، جن کے ٹریکٹرز کا موازنہ انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ میں کیا گیا تھا۔
کیس کی تفصیلات: کمپٹیشن کمیشن نے الغازی ٹریکٹرز پر گمراہ کن مارکیٹنگ کے الزام میں 4 کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا تھا، کیونکہ کمپنی نے اپنے اشتہارات میں دعویٰ کیا تھا کہ اس کے ٹریکٹر ایندھن کی بچت میں 30 فیصد تک بہتر ہیں۔ اس دعوے کی حمایت میں الغازی ٹریکٹرز نے پنجاب ایگریکلچرل مکینائزیشن ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ پیش کی تھی، جس میں ان کے ٹریکٹرز کی ایندھن کی بچت کا موازنہ کیا گیا تھا۔
کمپٹیشن کمیشن کی تحقیقات میں یہ سامنے آیا کہ انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ میں الغازی ٹریکٹرز کے ٹریکٹرز کا موازنہ سرٹیفائی یا اینڈورس نہیں کیا گیا تھا اور نہ ہی رپورٹ میں تمام ماڈلز کا جائزہ لیا گیا تھا، بلکہ صرف محدود ماڈلز کا موازنہ کیا گیا تھا۔ انسٹیٹیوٹ نے کمپنی کو اپنے نام کے غلط استعمال سے بھی باز رہنے کی ہدایت کی تھی۔
آگے کا لائحہ عمل: کمپٹیشن کمیشن اب ٹرابیونل کی ہدایات کے مطابق از سر نو کارروائی شروع کرے گا، جس میں انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ کی مزید جانچ پڑتال کی جائے گی اور تمام متعلقہ اداروں سے رائے طلب کی جائے گی۔ اس کے بعد کمیشن فیصلے کی تیاری کرے گا۔
اختتام: اس کیس کی دوبارہ کارروائی کا مقصد مارکیٹنگ کے غیر اخلاقی طریقوں کو روکا جا سکے اور صارفین کو گمراہ کن معلومات سے بچایا جا سکے۔ یہ فیصلہ کاروباری برادری کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ کسی بھی دعوے کو ثابت کرنے کے لیے مناسب تحقیق اور ثبوت کی ضرورت ہے۔
Comments are closed.