تحریر: شکیل احمد
امریکہ، اسرائیل و ایران جنگ کو آٹھ دن ہو گئے ہیں۔ ٹرمپ نے بظاہر نیتن یاہو کی ڈکٹیشن پر اپنے ایپسٹین کے جرائم کو چھپانے کے لیے جو جنگ شروع کی تھی، وہ اب امریکا اور اسرائیل کے لیے تباہی میں بدل رہی ہے۔ انتہائی سنسر کی وجہ سے ہلاکتوں کی اصل تعداد نہ تو اسرائیل سے اور نہ ہی امریکہ کی طرف سے بتائی جاتی ہے۔ بلکہ امریکہ کی طرف سے جنگ میں اپنی جھوٹی کامیابی کو ثابت کرنے کے لیے کچھ AI سے تیار کردہ ویڈیوز میڈیا کو رپورٹ کی گئ ہیں۔ اس پروپیگنڈے کے ساتھ ساتھ وہ خلیجی ممالک، یورپ اور دیگر ممالک کو بھی ایران کے خلاف جنگ میں گھسیٹ رہے ہیں۔ اسکے علاوہ، ایران و عراق سرحد پر کردوں کو مسلح کیا جا رہا ہے اور ایران میں زمینی حملے کرنے کے لیے انہیں فنڈز فراہم کیے جا رہے ہیں۔ مزید یہ کہ، وہ آذربائیجان، قبرص، آئل ریفائنریوں اور مشرق وسطیٰ کے ہوائی اڈوں کے خلاف جھوٹے فلیگ آپریشن کر کے ان ممالک کو ایران کو شکست دینے میں ان کی مدد کرنے پر اکسایا جا رہا ہے۔
ایران نے خلیجی ممالک پر حملہ کیا کیونکہ ان ممالک کی جانب سے وعدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران پر حملوں کے لیے استعمال کیا گیا۔ ایران صرف امریکی اڈوں، سی آئی اے کے مراکز، سفارت خانوں اور ان عمارتوں اور ہوٹلوں پر حملہ کر رہا ہے جو امریکی فوجیوں، ایجنٹوں اور کارندوں کے استعمال میں ہیں۔ اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات میں امریکی Amazon اور Microsoft پر حملے کئے جو امریکہ اور نیٹو کی فوجی support اور ان کے بینکنگ سسٹم کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ یعنی، ان سائٹس پر مبینہ طور پر حملہ کیا جاتا ہے جن میں براہ راست یا بالواسطہ امریکی مفادات ہوں۔ متحدہ عرب امارات سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے کیونکہ اسے امریکہ اور اسرائیل کا سب سے بڑا ایجنٹ سمجھا جاتا ہے۔
ایران نے اسرائیل کے مختلف شہروں پر حملہ کرکے بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا۔ لیکن اسرائیل میں ایسے شواہد کی ریکارڈنگ کی اجازت نہیں ہے، اس لیے حقیقی اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں لیکن ایرانی/آزادانہ دعووں کے مطابق اسرائیل میں 600 کے قریب اسرائیلی مارے گئے ہیں۔ اسی طرح، امریکی ہلاکتوں کے بارے میں اندآزہ ہے کہ ایرانی حملوں میں سینکڑوں امریکی فوجی اور کارندے مارے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ عراقی ملیشیا اور لبنانی حماس نے امریکی اور اسرائیلی انفراسٹرکچر کو بھاری نقصان پہنچایا۔ جبکہ ایران میں امریکہ نے 400 مقامات پر 5000 بم مار کے بھاری نقصان پہنچایا جس میں160 بچیوں سمیت 1100 ایرانی شہید ہوئے۔
ایرانی قیادت اور ان کے عوام کی قوت ارادی اور ایمان انکی کامیابی کی اصل وجہ ہیں۔ یہاں تک کہ کوئی موثر فضائیہ، فضائی دفاع اور بحریہ نہ ہونے کے باوجود، وہ اپنی بقا اور اسلام کے مقصد کے لیے تنہا بہادری سے لڑ رہے ہیں۔ یہ صرف وہی ہیں، جو فلسطین کے لیے لڑ تے ہیں۔ جبکہ باقی تمام امریکی غلام مسلمان بزدل حکمران اپنی ڈکٹیٹر شپ کی بقا کے لیے امریکا کا ساتھ دے رہے ہیں۔ اللہ فتح صرف انہی کو دیتا ہے جو راہ راست پر ہوں۔ یہاں تک کہ بائبل کے مطابق، تکبر آپ کے زوال کا باعث بنتا ہے اور آپ جنگیں ہار جاتے ہیں۔ ٹرمپ ایک متکبر، جنگی مجرم اور ریپسٹ ہے۔ امریکی سروے کے مطابق %80 فیصد امریکیوں نے ایرانی جنگ کے خلاف ہیں اور %60 فیصد کا خیال ہے کہ ٹرمپ پاگل ہے۔ تکبر میں آکر وہ مجوزہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو قتل کرنے کی دھمکی دے رہا ہے تاکہ اسکی مرضی کا سپریم لیڈر لگا یا جائے۔ نیز، دل برداشتہ ہو کر وہ اپنی کامیابی اور امریکہ کی بالادستی کو برقرار رکھنے کے لیے کے لیے پادریوں سے دعائیں کروا رہا ہے تاکہ جنگ کو سلیبی جنگ بنایا جائے۔
سپر پاورز کے اپنے منصوبے ہوتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ ایسے تمام شیطانی منصوبوں کو زیر کر دیتا ہے، جیسے ایران کو چین اور روس کی مدد بھیجی۔ چینی بیڈو ملٹری سیٹلائٹ امریکی اڈوں، تجارتی اداروں، ہوٹلوں اور عمارتوں کے مقامات کے بارے میں مکمل انٹیلی جنس فراہم کر رہا ہے۔ چینی جیمرز کے ذریعے ایران نے 4 امریکی F15 لڑاکا طیاروں کو مار گرایا۔ اسی طرح، روسی سیٹلائٹ امریکی اہداف کی نشاندہی کر رہا ہے۔ روس نے ایران کو طیارہ شکن میزائل بھی فراہم کیے ہیں۔ اب یہ چین اور روس کی پراکسی جنگ بن چکی ہےجس میں وہ ایران کے ذریعے امریکہ سے ہمیشہ کے لیے جان چھڑانا چاہتے ہیں۔
ایران کے پاس 31 لیول کا انتہائی اسٹریٹجک IRGC کمانڈ ڈھانچہ ہے، جو تہران کی مرکزی کمان سے رابطہ منقطع ہونے کے باوجود آزادانہ طور پر حملے کر سکتے ہیں۔ ایران 80,000 ڈرونز اور 5000 میزائلوں کے ساتھ ایرانی ساختہ ڈرونز اور میزائلوں میں خود کفیل ہے۔ جبکہ ان کے ICBM کی رینج 13,000 کلومیٹر تک ہے، جو امریکہ کو مارنے کے لیے کافی ہے۔ اگرچہ ان کے پاس امریکہ کے Aircraft Carriers Lincon, Ford کو ڈبونے کی صلاحیت ہے لیکن فی الحال وہ اپنے سستے ڈرونز کے ذریعے پیٹریاٹس اور تھاڈس انٹرسیپٹرز کے محدود ذخیرے کو ختم کرنے کے لیے امریکا اور اسرائیل کو تھکا رہے ہیں۔ ممکنہ طور پر، روس انہیں سیمسن آپشن کی طرح آخری حربہ کے طور پر جوہری وار ہیڈز بھی دے سکتا ہے۔ جبکہ امریکہ دوسرے ممالک سے اپنے Interceptors نکال کر Gulf میں لارہا ہے کیونکہ ان کی صلاحیت سالانہ 600 پیٹریاٹس اور 16 تھاڈز پیدا کرنے تک محدود ہے۔ جہاں ایک پیٹریاٹ کی قیمت 4$ ملیین وہاں ایرانی ڈرون کی قیمت صرف 30,000$ ہے۔
امریکہ اتحادیوں کا اعتماد بھی کھو رہا ہے، جیسا کہ خلیجی ممالک جنہوں نے امریکہ میں 5$ ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا تھا، اب و ہجنگ کی وجہ سے اپنے معاہدوں سے دستبردار ہورہے ہیں۔ آ بنائے حرمز کی بندش کی وجہ سے امریکی اتحادیوں کو نہ صرف تیل اور گیس کی قلت ہے جب کہ ان کی قیمتوں میں 30 فیصد اضافہ بھی ہو چکا ہے، اسٹاک مارکیٹ کریش کر رہی ہے، سفر اور سیاحت میں کمی ہوگئی ہے، لاجسٹک چین میں رکاوٹ کی وجہ سے اشیاء کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔
اب جبکہ امریکی اتحادی، جرنیل اور ماہرین اقتصادیات ٹرمپ سے جنگ بند کرنے کا کہہ رہے ہیں، ایران چین اور روس کے ساتھ مل کر جنگ روکنے کے لیے شرائط عائد کردے، جیسا کہ ایران کے خلاف پابندیاں ہٹانا، فلسطین کو آزاد کرنا اور خلیجی ممالک سے تمام امریکی اڈے زختم کرنا شامل ہوں۔
ایسے میں تمام امریکی غلام مسلمان حکمران جو فلسطینیوں کی نسل کشی کے لیے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگی جرائم میں شریک ہیں، انہیں غیرت دکھا کر فلسطین کو آزاد کرانے اور اپنی سرزمین کو امریکی جنگی مجرموں سے پاک کرنے کے لیے ایران کا ساتھ دینا چاہئے۔ شاید اس سے انکے فلسطینیوں کے خلاف ظلم کا کفارہ ادا ہو جائے۔
Comments are closed.