وفاقی دارالحکومت میں وزارت قومی تاریخ و ادبی ورثہ کے ذیلی ادارے لوک ورثہ کی معروف ڈپٹی ڈائریکٹر خاتون کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے،وزارت سمیت وزیراعظم ہاوس میں بھی پریشانی کی لہر دوڑ گئی ہے،معلومات کے مطابق ڈپٹی ڈائریکٹر حنا انور نے 2003 میں لوک ورثہ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مفتی عکسی کی مدد سے اس وقت کے ایڈمن افسر شفیق الرحمن اور کمپیوٹر آپریٹر وحید الرحمان نے کوہاٹ ضلع سے جعلی ڈومیسائل بنواکر کے پی کے کوٹہ پر نوکری حاصل کی،اور نوکری کے کچھ عرصہ بعد حنا انور نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مفتی عکسی سے شادی بھی کر لی اور یوں وہ پورے لوک ورثہ کی ملکہ بن گئیں ،2009 میں مذکورہ ڈپٹی ڈائریکٹر نے اپنے کاغذات کو قانونی روپ میں دھارنے کے لیے پھر ڈومیسائل بنوایا اور باقاعدہ فائلز میں جمع کر لیا اور یوں حنا انور کو کسی ڈر و خوف نہ رہا ،مفتی عکسی کی ریٹائرمنٹ کے بعد حنا انور سے طلاق لے لی،ذرائع لوک ورثہ کا کہنا ہے حنا انور کو جب ایگزیکٹو ڈائریکٹر فوزیہ سعید کے دور میں کرپشن،اقربا پروری پر نوکری سے برخواست کر دیا گیا تھا تو انہوں نے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا اور یوں دو تین سال کیس چلتا رہا تو عدالت نے معاملہ ایک کمیٹی کے سپرد کیا،بعد ازاں وزارت کے اعلیٰ افسران نے پھر مہربانی کر کے حنا انور کو نوکری پر بحال کر دیا ،اس دوران بھی وہ خبروں کی زینت بنی رہیں کبھی انکے ایک اور شوہر نوید کے نام پر مقدمات بازی اور کبھی ٹینڈرز میں لاکھوں روپے کرپشن پر تاہم قسمت کی دیوی ان پر مہربان رہی اور وہ ہر مشکل پر قابو پاتی چلی گئیں ،اب شاہ ریز بنگش نامی شہری نے کس کے گھیرا ڈال دیا اور کوہاٹ ضلع میں مقدمہ نمبر 82 تھانہ کینٹ میں درج کروا دیا،مقدمہ زیر دفعات 419,420 اور 34 درج ہوا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ڈپٹی ڈائریکٹر حنا انور کا ڈومیسائل جعلی ہے اور اس دوران انہوں نے کروڑوں کی مد میں حکومت سےجو رقم حاصل کی وہ بھی واپس کرنا ہونگی،ذرائع کا کہنا ہے حنا انور نے اپنے آپ کو اس مقدمے سے بچانے کے لیے پھر افسران کو شیشہ میں اتارنے کے لیے تگ و دو شروع کر دی ہے#
Trending
- قرض، تشہیر اور کنگال عوام
- لوک ورثہ کی ڈپٹی ڈائریکٹر کے خلاف مقدمہ درج
- یورپ کی مشرق وسطیٰ کی پالیسی پر نظر ثانی: مفادات اور اقدار میں توازن۔
- تھانہ ترنول کے علاقے میں نجی گھر میں مبینہ غیر قانونی گردوں کی پیوندکاری کا انکشاف
- پی ٹی آئی رہنماؤں پر مقدمہ درج
- راجہ محمد رفیق کیانی مرحوم کی زندگی سی ڈی اے ملازمین کی فلاح و بہبود اور ادارے کی ترقی کے لیے وقف تھی
- بلوچستان دہشت گردی
- جب ریاست شہری کو “ایکسپورٹ” سمجھنے لگے
- ادارے کے وسیع تر مفاد میں سی بی اے یونین کے ساتھ باضابطہ اجلاس منعقد کر کے اعتماد میں لیا جائے
- آئی ایس ایس آئی اور انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل پولیٹکس اینڈ اکونومکس کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کی تقریب
لوک ورثہ کی ڈپٹی ڈائریکٹر کے خلاف مقدمہ درج
Next Post
Comments are closed.