کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے صارفین کو گمراہ کرنے والے ”آئس کریم“کیس میں دو فروزن ڈیزرٹ بنانے والی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 35 ملین روپے جرمانہ وصول کر لیا ہے۔
یہ کارروائی ایم/ایس پاکستان فروٹ جوس کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ کی شکایت پر کی گئی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ یونی لیور پاکستان اور فریز لینڈ کیمپینا اینگرو اپنی فروزن ڈیزرٹ مصنوعات کو ٹی وی اور سوشل میڈیا پر آئس کریم کے طور پر پیش کر کے صارفین کو گمراہ کر رہی ہیں۔
سی سی پی کی جانب سے کمپٹیشن ایکٹ 2010 کے تحت کی گئی انکوائری میں یہ ثابت ہوا کہ مذکورہ کمپنیوں نے صارفین کو غلط اور گمراہ کن معلومات فراہم کیں، جو قانون کی خلاف ورزی ہے۔ کمیشن نے دونوں کمپنیوں پر ابتدائی طور پر 75، 75 ملین روپے جرمانہ عائد کیا تھا جبکہ یونی لیور پاکستان پر اپنی مصنوعات کو ڈیری آئس کریم سے زیادہ صحت بخش ظاہر کرنے پر مزید 20 ملین روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا تھا۔
کمیشن نے اپنے فیصلے میں پاکستان اسٹینڈرڈ اینڈ کوالیٹی کنٹرول اتھارٹی اور پنجاب فوڈ ریگولیشنز 2018 کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ “آئس کریم” اور “فروزن ڈیزرٹ” دو الگ مصنوعات ہیں۔ آئس کریم دودھ، کریم یا دیگر ڈیری اجزاء سے تیار کی جاتی ہے، جبکہ فروزن ڈیزرٹ میں نباتاتی تیل شامل ہو سکتا ہے، اس لیے اسے آئس کریم کے طور پر پیش کرنا گمراہ کن ہے۔
سی سی پی نے کمپنیوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ فروزن ڈیزرٹ کو آئس کریم کے طور پر پیش کرنا بند کریں، تمام گمراہ کن اشتہارات واپس لیں اور اپنی مصنوعات کے بارے میں واضح معلومات فراہم کریں۔
کمپٹیشن اپیلیٹ ٹریبونل نے بھی کمیشن کے فیصلے کو برقرار رکھا اور اس عمل کو گمراہ کن مارکیٹنگ قرار دیا۔
سی سی پی کے مطابق جرمانے کی وصولی کمیشن کے احکامات پر مؤثر عملدرآمد کی عکاسی کرتی ہے اور اس سے صارفین کے تحفظ اور منصفانہ مسابقت کے فروغ کے عزم کو تقویت ملتی ہے۔
Comments are closed.