کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے ہمدرد اسکول آف لا، ہمدرد یونیورسٹی کراچی کے تعاون سے کمپیٹیشن قانون سے متعلق ایک آگاہی سیشن کا انعقاد کیا جس میں طلبہ اور اساتذہ کو سی سی پی کے کردار، اختیارات اور ذمہ داریوں سے آگاہ کیا گیا۔ یہ سیشن سی سی پی کی جاری تعلیمی آگاہی مہم کا حصہ تھا جس کا مقصد نوجوانوں میں کمپیٹیشن قانون سے متعلق شعور اجاگر کرنا ہے۔
سی سی پی کے وفد کی قیادت ممبر سی سی پی بشریٰ ناز ملک نے کی جبکہ وفد میں ڈائریکٹر جنرل مارکیٹ انٹیلی جنس یونٹ ڈاکٹر اکرام الحق، سیکرٹری کمیشن مریّم پرویز اور ڈائریکٹر کارٹیلز اینڈ ٹریڈ ابیوز ملیحہ قدوس بھی شامل تھیں۔ وفد کا استقبال ایسوسی ایٹ ڈین انور احمد، رجسٹرار کلیم احمد غیاث اور دیگر اساتذہ نے کیا۔
سیشن کے دوران حکام نے مختلف کیس اسٹڈیز کے ذریعے معیشت میں کارٹیل سازی اور دیگر کمپیٹیشن مخالف سرگرمیوں کی نشاندہی کی اور بتایا کہ سی سی پی ایسے عناصر کے خلاف کس طرح کارروائی کرتا ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر اکرام الحق نے سی سی پی کے مینڈیٹ اور فرائض پر روشنی ڈالی جبکہ مریّم پرویز نے کمپیٹیشن ایکٹ 2010 کی اہم شقوں اور گمراہ کن اشتہارات و کارپوریٹ انضمام سے متعلق معاملات کی وضاحت کی۔ ملیحہ قدوس نے غالب پوزیشن کے ناجائز استعمال اور کارٹیلز کے خلاف سی سی پی کی کارروائیوں سے آگاہ کیا۔
اس موقع پر بشریٰ ناز ملک نے کہا کہ پاکستان میں منصفانہ مسابقت کے فروغ کے لیے آگاہی انتہائی اہم ہے اور نوجوان وکلاء اور طلبہ میں شعور پیدا کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی سی پی کاروباری اداروں کے لیے مساوی مواقع کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے۔
تقریب کے اختتام پر سوال و جواب کی نشست بھی ہوئی جس میں طلبہ نے بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کیا جبکہ اساتذہ نے سی سی پی کی اس کاوش کو سراہتے ہوئے مستقبل میں بھی ایسے پروگرام جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا
Comments are closed.