کسٹم کلکٹریٹ سرگودھا میں کرپشن اور سرکاری سامان کی غیر قانونی فروخت کا انکشاف

بخدمت جناب ڈائریکٹر جنرل صاحب ملٹری انٹیلیجنس راولپنڈی
عنوان: کسٹم افسران و اہلکاران کی کرپشن و سرکاری گودام کا سامان ناجائز طور پہ فروخت کرنا

جناب عالی

گزارش ھے کہ 2024 کے دوران کسٹم کلکٹریٹ سرگودھا میں کرپشن کا بازار گرم تھا۔ ڈیرہ غازی خان(جو تب سرگودھا کلکٹریٹ میں تھا) کی چوٹی مل میں کسٹم کا گودام میں واقع تھا، جہاں سے:-

1- ڈپٹی کلکٹر کسٹم ڈاکٹر ذوھیب اپنے 2 اہلکاران عزیز الرحمن سپرینٹنڈنٹ اور حاجی محمد انسپکٹر کے ذریعے کروڑوں روپے کے سگریٹ، چھالیہ، ٹائر، iphones اور دیگر سامان فروخت کرتا رھا جس کی شکایت متعدد بار اس وقت کے کلکٹر علی عباس گردیزی کو کی مگر انہوں نے نہ تو ان افراد کے خلاف کوئی کارروائی کی اور نہ ھی اس اقدام کی روک تھام، کیونکہ شکایات کے بعد بھی DC کسٹم اور اس کے کارندوں نے مسلسل لوٹ مار جاری رکھی۔ جب اس امر کی نشاندھی ایک مرتبہ پھر کلکٹر کو کی تو اس تمام لوٹ مار کو cover کرنے کے لیئے شیڈول سے ھٹ کر(یعنی 26 جنوری سے قبل ھی) کلکٹر نے Destruction کے orders کر دیئے اور باقی بچ جانے والے سگریٹ، چھالیہ منشیات اور شراب وغیرہ کو Destroy کر کے بیچے جانے والے سامان پہ پردہ ڈال لیا گیا۔

نوٹ: ضابطہ کے تحت ھر سال 26 جنوری(International Customs Day) کے موقع پر ھر کلکٹریٹ میں ایسے ممنوعہ سامان کی Destruction کی جاتی ھے لیکن یہاں چونکہ بار بار شکایات آ رھی تھیں تو تمام تر غبن کو چھپانے کے لیئے کلکٹر کی خصوصی اجازت حاصل کر کے 26 جنوری سے قبل ھی Destruction کر دی گئی۔

طریقہ واردات:
عزیز الرحمن اور حاجی محمد نے 3 پرائیویٹ بندے رکھے ھوئے تھے جن کے نام یہ ھیں:

(i) عبداللہ سکنہ مرغئی(نزد کوٹ مٹھن) فون نمبر 03317516786، اس کی تحویل میں گودام کی چابیاں ھوتی تھیں اور جو سامان فروخت کرنا ھوتا تھا وہ عبداللہ گودام سے نکال کے گاڑیوں میں لوڈ کرواتا تھا۔

(ii) کمچی(عرفیت) سکنہ کوٹ چھٹہ(نزد ڈیرہ غازی خان)، یہ شخص ڈرائیور تھا اور فروخت کے لیئے جو سامان عبداللہ گاڑیوں میں لوڈ کرواتا تھا، کمچی ان گاڑیوں کو گودام سے لے جا کر متعلقہ پارٹیوں کو پہنچاتا تھا۔

(iii) داؤد خان سکنہ ڈیرہ غازی خان فون نمبر 03013771648، ایرانی ڈیزل کی جو گاڑیاں پکڑی جاتی تھیں اس کا ڈیزل اس شخص کے ذریعے فروخت کیا جاتا تھا اور بعد ازاں خالی گاڑیاں پیسے لے کر چھوڑ دی جاتی تھیں اور جن گاڑیوں کے مالکان پیسے نہیں دے سکتے تھے ان کے کیس بنا دیئے جاتے تھے۔

2- اس کے علاؤہ پیسے لے کر DC ڈاکٹر ذوھیب پکڑی گئی گاڑیاں، موٹر سائیکل اور دیگر سامان کم قیمت پر نیلام کرتا رھا۔

3- اس کے علاوہ DC ذوھیب نے قاسم اور عنایت نامی 2 پرائیویٹ بندے رکھے ھوئے تھے جن کے ذریعے ایرانی ڈیزل سمگلرز کی گاڑیاں مختلف چیک پوسٹوں اور کسٹم کے سکواڈز سے کراس کرواتا تھا۔ 2024-05-29 کو DC کے یہ دونوں کارندے ڈیزل سے بھرا ایک باؤزر لے کر جا رھے تھے(جو کوئٹہ کے حاجی عبدالعلی کا تھا)، عنایت باؤزر میں بیٹھا تھا جبکہ قاسم DC کا سرکاری ڈالہ نمبری LEG-17-911 چلا کر باؤزر کو پائلٹ کر رھا تھا۔ سرائے مہاجر(ضلع بھکر) میں کسٹم انسپکٹر فہیم ظفر نے یہ باؤزر روک لیا اور قاسم اور عنایت کو گرفتار کر لیا، جس پر DC ذوھیب خود موقع پر پہنچ گیا اور انسپکٹر فہیم کو دھمکیاں دے کر اور دباؤ ڈال کر باؤزر چھڑوانے کی کوشش کی۔ اس واقعہ کی وجہ سے DC ذوھیب اور DC ڈاکٹر جہانگیر کے درمیان تلخی ھوئی کہ باؤزر نہیں چھوڑنا، اس طرح ڈاکٹر جہانگیر اور انسپکٹر فہیم نے کیس بنا دیا تاھم DC ذوھیب کے دونوں کارندوں قاسم اور عنایت کو کلکٹر علی عباس گردیزی نے چھڑوا دیا۔ DC ڈاکٹر جہانگیر اس وقت کسٹم انٹیلیجنس کراچی جبکہ فہیم ظفر انسپکٹر ایئر پورٹ کلکٹریٹ لاھور تعینات ھیں۔

4- بعد ازاں کلکٹر علی عباس گردیزی کا تبادلہ ھو گیا اور اس دوران کلکٹر اپیل لاھور نے اپنے ایک order میں observation دی جس کے مطابق DC ذوھیب، عزیز الرحمن سپرینٹنڈنٹ اور حاجی محمد انسپکٹر نے ناجائز طور پہ کچھ ٹرک چھوڑ دیئے تھے۔ اس حوالے سے انکوائری شروع کی گئی اور اطہر نوید ایڈیشنل کلکٹر سرگودھا انکوائری افسر مقرر ھوئے۔ یہ انکوائری کچھ عرصہ چلتی رھی اور پھر خاموشی سے ٹھپ کر دی گئی۔

5- یاد رھے کہ ممنوعہ اشیاء کی خرد برد کو چھپانے کے لیئے قبل از وقت Destruction کر دی گئی جبکہ باقی خرد برد کردہ کروڑوں روپے مالیت کے سامان کو چھپانے کے لیئے خود ساختہ چوری/ڈکیتی کا ڈرامہ رچایا گیا کہ فلاں فلاں سامان گودام سے چوری ھو گیا اور تھانہ گدائی ڈیرہ غازی خان میں FIR نمبر 1097/24 درج کروائی گئی اور پولیس سے ساز باز کر کے اس معاملے کو بھی ٹھپ کروا لیا گیا۔ ایڈیشنل کلکٹر سرگودھا نے خود DPO ڈیرہ غازی خان کو مل کر جیو فینسنگ کروانے کے لیئے زور دیا جو کہ کبھی نہ کروائی گئی۔ دلچسپ امر یہ ھے کہ اس کیس میں آج تک نہ کوئی گرفتاری ھوئی نہ کوئی سامان کی برآمدگی اور تقریباً 2 سال گزر چکے اس طرح کیس تقریباً ختم ھی کر دیا گیا۔

العارض
عامر شاہ

Comments are closed.