کالم دار
آصف سلیم مٹھا
پاکستان کی گلیوں میں گھوم لیجیے، بازاروں میں پوچھ لیجیے، صنعتکاروں سے بات کر لیجیے ایک ہی فقرہ سنائی دے گا: “سانس لینا مشکل ہو گیا ہے۔” مہنگائی نے متوسط طبقے کی کمر توڑ دی، تنخواہ دار طبقہ قسطوں میں بٹ گیا، اور دیہاڑی دار طبقہ روزگار کی غیر یقینی میں دفن ہو چکا ہے۔ مگر ایوانِ اقتدار میں بیانیہ کچھ اور ہے: بیرونی دورے، عالمی کانفرنسیں، تصویری مسکراہٹیں اور بڑے بڑے اعلانات۔
حکومت غیر ملکی دوروں پر دورے کر رہی ہے، جبکہ اندرونِ ملک ہزاروں کارخانے بند ہو چکے ہیں۔ صنعتکار ٹیکسوں کے جال اور بجلی کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں کے ہاتھوں ہار مان چکے ہیں۔ جب بجلی کا بل منافع سے زیادہ ہو جائے تو فیکٹری کا گیٹ آخر کب تک کھلا رہ سکتا ہے؟
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق حکومت کے زیرِ انتظام 25 سرکاری اداروں کا مجموعی خسارہ 832 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ یہ محض ایک عدد نہیں، یہ قومی معیشت کے سینے پر رکھا ہوا بوجھ ہے وہ بوجھ جو آخرکار عوام کے کندھوں پر منتقل ہوتا ہے۔ ٹیکس بڑھا کر، بجلی مہنگی کر کے، گیس کی قیمتیں چڑھا کر، اور نئے نئے چالان ایجاد کر کے۔
چین، سعودی عرب، دبئی اور International Monetary Fund سے لیے گئے بھاری قرضے سود سمیت واپس کرنے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ قرضہ ترقی پر خرچ ہو رہا ہے یا خساروں کے گڑھے بھرنے پر؟ اگر قرض لے کر بھی صنعت نہیں چل رہی، روزگار نہیں بڑھ رہا، اور برآمدات میں پائیدار اضافہ نہیں ہو رہا تو پھر یہ رقم کہاں جذب ہو رہی ہے؟
عوام کو بجلی، گیس، تعلیمی فیسوں اور ٹریفک چالانوں میں ایسا الجھایا گیا ہے جیسے ریاست کا بنیادی ہدف محاصل اکٹھا کرنا ہو، نہ کہ معاشی سرگرمی کو زندہ رکھنا۔ ایک طرف بجٹ میں سختی کی باتیں، دوسری طرف تشہیری مہمات پر بے دریغ خرچ۔
جب مریم نواز اپنے منصوبے لانچ کرتی ہیں تو اربوں روپے کی ذاتی تشہیر پر سوال اٹھتے ہیں۔ اشتہارات، بل بورڈز، سوشل میڈیا کمپینز ترقی کا شور تو بہت ہے، مگر زمینی حقیقت کہاں ہے؟ اگر ترقی واقعی ہمہ گیر ہوتی تو اسے اشتہار کی ضرورت نہ پڑتی؛ وہ خود لوگوں کی زندگیوں میں نظر آتی۔
اور پھر سیاسی باب عمران خان کی حکومت انہی وسائل میں نظام چلا رہی تھی کم از کم یہ دعویٰ اس کے حامی کرتے ہیں کہ طاقت کے ایوانوں میں سیاسی بساط پلٹ دی گئی۔ قمر باجوہ پر الزام ہے کہ انہوں نے سیاسی صف بندیاں بدل کر اتحادیوں کو الگ کیا اور ایک ایسا عدم استحکام پیدا ہوا جس کی قیمت آج پوری قوم ادا کر رہی ہے۔ سیاسی عدم استحکام نے معیشت کی سانس روک دی، سرمایہ کار بھاگے، کرنسی گری، اور اعتماد ٹوٹا۔
آج عوام کنگال ہے۔ تنخواہ مہینے کے بیچ میں ختم ہو جاتی ہے۔ نوجوان ڈگری ہاتھ میں لیے روزگار کی تلاش میں دربدر ہیں۔ کاروباری طبقہ سرمایہ بچانے کی فکر میں ہے، بڑھانے کی نہیں۔ ایسے میں حکمران طبقہ اگر خود احتسابی کے بجائے تشہیر اور بیرونی دوروں میں مصروف رہے تو سوال تو اٹھیں گے۔
یہ کالم کسی فرد کی ذاتی دشمنی نہیں، ایک اجتماعی پکار ہے۔ قوم قرض کے سود میں جکڑی ہوئی ہے، صنعت بند ہے، ادارے خسارے میں ہیں، اور عوام بلوں میں ڈوبی ہوئی ہے۔ ایسے میں اصل ضرورت تصویری بیانیے کی نہیں، سخت معاشی فیصلوں، شفاف حکمرانی اور غیر ضروری اخراجات پر فوری قدغن کی ہے۔
ورنہ تاریخ بہت بے رحم ہوتی ہے۔ وہ اشتہارات نہیں دیکھتی، نتائج دیکھتی ہے۔ اور نتائج اگر یہی رہے تو آنے والی نسلیں پوچھیں گی: جب ملک معاشی گرداب میں ڈوب رہا تھا، تب حکمران کیا کر رہے تھے؟
Comments are closed.