تحریر: حامد چوہدری
پاکستان کی سیاسی فضا میں 8 فروری ایک ایسا دن ہوگا جو حکومت،تحریک انصاف اور محمود اچکزئی تینوں کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوگااس احتجاج کا اثر اور دائرہ کار ہڑتال، کاروباری مراکز اور ٹرانسپورٹ بندش پر منحصر ہے، اور اسی کے مطابق مستقبل کے مذاکرات، پارٹی کے اعتماد اور سیاسی حکمت عملی کی سمت طے ہوگی
تحریک انصاف اور اس کے کارکنان کی سیاسی کامیابی کا امتحان اسی ہڑتال پر منحصر اگر یہ حکمت عملی تقریباً 70 فیصد تک کامیاب ثابت ہوئی تو مذاکرات کا عمل اور بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے امکانات روشن ہو جائیں گےلیکن اگر ہڑتال یا تجارتی اثر توقع کے مطابق نہ ہوا تو نہ صرف تحریک انصاف کی قیادت اور کے پی حکومت کی ساکھ پر سوال اٹھیں گےبلکہ محمود اچکزئی پر بھی اعتماد کی کمی ظاہر ہوگی اور پارٹی کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے
تحریک انصاف کے اندرونی حلقوں میں یہ رائے تھی کہ احتجاج سے قبل کوئی مذاکرات کا مرحلہ شروع کیا جائے مگر حکومت کی جانب سے نمایاں ردعمل نہ ملنے کی صورت میں سیاسی کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ تمام تر بوجھ محمود اچکزئی کے شانوں پر ڈال کر پارٹی قیادت باجماعت پچھلی صف میں کھڑی ہو
حکومت اس احتجاج کو ایک ٹیسٹ کیس کے طور پر دیکھ رہی ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے کہیں نہ کہیں حکمت عملی بھی ترتیب دے رہی ہے دیکھنا یہ ہوگا کہ حکومت ہڑتال کو کس حد تک ناکام بنانے میں کامیاب ہوسکتی ہےکیونکہ اس کے نتائج تحریک انصاف کی سیاسی بقاء اور متوقع مذاکرات کی سمت پر براہِ راست اثرانداز ہوں گے
دوسری جانب خیبرپختونخوا میں تیراہ کے عوامی انتظامات بھی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں احتجاج پر توجہ مرکوز ہونے کے باعث صوبائی حکومت پر تنقید بڑھتی نظر آرہی ہےاور پنجاب میں اسی روز بسنت منانے کے اعلان نے سیاسی حرکیات کو مزید پیچیدہ بنا دیا اس تناظر میں پنجاب کا ردعمل بھی غور طلب ہوگا چونکہ دہائی بعد لاہوریوں کو بسنت کا موقع فراہم کیا گیا
ہر گزرتا لمحہ سیاسی منظرنامے میں واضح تبدیلی لا سکتا ہے اور یہ دیکھنا ہوگا کہ کس کی حکمت عملی زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے اور کس کی پالیسی توقعات کے مطابق کامیاب نہیں چلتی
یہ 8 فروری کا دن ہی طے کرے گا کہ تحریک انصاف اور محمود اچکزئی کس حد تک کامیاب رہتے ہیں کس فریق کی ساکھ مضبوط ہوتی ہے اور کس کا بھاؤ کم اس دن کے اثرات آنے والے دنوں میں متوقع مذاکرات، پارٹی کے اندرونی اعتماد اور حکومتی حکمت عملی کی بنیاد پر طویل مدت کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہوں گے
حکومت اور انتظامیہ کی حکمت عملی اور احتجاج کا نتیجہ ہی یہ طے کرے گا کہ تحریک انصاف کی سیاسی بقاء محفوظ رہتی ہے یا مشکلات میں مزید اضافہ ہوتا ہےاور ساتھ ہی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے مواقع اور اپوزیشن کے لیے حکومتی نرمی کا دروازہ کس حد تک کھلتا ہےیا تحریک انصاف محمود اچکزئی کی قیادت میں اپنے مطالبات تسلیم کروانے میں کس حد تک کامیاب ہوتی ہےیہ دن تینوں جانب فیصلہ کن امتحان کے طور پر سامنے آئے گا اور مستقبل میں ملکی سیاسی صورتحال کو بھی ایک اہم موڑ دے گا
Comments are closed.