بشارت /حافظہ فاریہ فاطمہ خان
ہمارے بزرگ جوشجرسایہ دار تھے
اللہ ربّ العزت نے اپنی رحمت سے ماں کو بہت منفرد اورممتازمقام عطاء فرمایاہے۔جواپنی اپنی ماؤں کی چھاؤں میں بیٹھتے ہیں انہیں کسی دھوپ کاڈر نہیں رہتا۔ ناتواں سے ناتواں ”ماں“بھی ہرشر سے اماں ہوتی ہے، بیٹوں اوربیٹیوں کیلئے ان کی ماں کاکوئی متبادل نہیں ہوسکتا۔دنیا کی ہر”ماں“کاوجوداپنے بچوں کیلئے ایک پورا جہاں اورآفات وبلیات سے جائے اماں ہے۔ بچوں کیلئے ان کی محبوب ماؤں کے وجود تپتی دھوپ میں ٹھنڈی چھاؤں سے ہوتے ہیں،ہرماں اپنی ممتاکے آب حیات سے اپنے بچوں کوسیراب کرتی ہے۔دنیا کی کسی چلچلاتی دھوپ سے ماں کا روپ سروپ نہیں گہنا تا۔ماں کی شخصیت مہر و محبت، ایثار و احساس،استقامت اور خلوص و وفا کا ایک استعارہ ہے۔ ہرماں اپنے بچوں کی رازدار،وفادار،ان کیلئے ایک شجر سایہ داراورسرمایہ افتخار ہے۔ماں باپ کی اطاعت میں عزت،عفت اورعافیت کے رازپنہاں ہیں۔مجھ سمیت ہرطفل کیلئے ماں کی آغوش سے بہتر کوئی مکتب نہیں ہوسکتا۔ یہ کائنات کا سب سے زیادہ سچا،سُچا اورسودوزیاں سے بے نیاز رشتہ ہے،میری بھی ایک ماں ہیں اورمیں بھی ایک باپ ہوں جبکہ میں نے بیسیوں والدین کوخوشی خوشی اپنے بچوں کیلئے اپنا آپ قربان کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ماں کی طرح ہرباپ بھی زندگی بھر اورباربار اپنے بچوں کامان رکھتا ہے۔
ماں کی ذات ہماری زندگی کی تاریک راہوں میں مینارہ نور ہے۔ ہم جس بہشت کیلئے دن رات نیک اعمال کرتے ہیں وہ ہمارے معبود برحق نے ہماری ماؤں کے قدموں تلے رکھ دی ہے،جس نے اس فلسفہ کوسمجھ لیا وہ مرادمقصود پاگیا۔ہماری ”ماں“ہمارے نظام خاندان کی اساس اور اسلامی تہذیب کا بنیادی نشان بلکہ طرہّ امتیاز ہے۔ یہ اسلام کی اعلیٰ اخلاقی اور معاشرتی قدروں کی امین اور پرخلوص سچے جذبوں کی آئینہ دار ہے۔ہرمذہب سمیت رنگ ونسل میں ماں کی کوئی مثل نہیں،”ماں“ ایک بینظیررشتہ اورجنت تک یقینی رسائی کارستہ ہے۔ماں کیلئے دنیا کی مختلف زبانوں اورمختلف تہذیبوں کے ورثے اور ادب میں جو الفاظ تخلیق کئے گئے، وہ اس کے بلند مقام کا استعارہ اور ماں سے عقیدت و محبت کا حسین اظہار ہیں۔ جبکہ دین فطرت اور دین رحمت نے ”ماں“کی عظمت، خدمت اور اس کی اطاعت و فرماں برداری کا جو درس دیا، وہ سب سے منفرد اور بے مثال ہے۔ اسلام میں خالقِ حقیقی ربّ العزت کے بعد خالق مجازی ماں اور اس کی مامتا کو سب سے عظیم گردانا گیا ہے۔
اللہ پاک نے جہاں ماؤں کوسراپا خلوص و وفا اور ایثار و محبت بنایا ہے وہاں معبود برحق کسی باپ کی اپنے بچوں کے حق میں کوئی دعا رد نہیں فرماتا۔میں نے کسی ماں اورباپ کواپنے بچوں کی پرورش کے دوران سودوزیاں تودرکنار اپنی زندگی تک کی پرواہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا،ہم سے کوئی اپنے ماں باپ کی وفاؤں کاصلہ اس طرح نہیں دے سکتا جس طرح دینے کاحق ہے۔میں نے اپنی زندگی میں کئی نیک نام شخصیات دیکھی ہیں،ہروہ انسان جواپنے ماں باپ کافرمانبرداراوروفادارہوکامیابی وکامرانی اورنیک نامی اس کامقدربن جاتی ہے۔نبی رحمت سیّدناحضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ واصحبہٰ وبارک وسلم نے ارشاد فرمایا: ” اگر میری ماں زندہ ہوتیں اور میں عشاء کی نماز شروع کرچکا ہوتا اس دوران وہ مجھے اپنے حجرے سے پکارتیں: اے محمد! تواللہ کی قسم! میں نماز چھوڑ کر ان کے پاس حاضر ہوتا اور ان کے قدموں سے لپٹ جاتا”۔حضرت اویس قرنی ؓ کامقام ماں سے محبت کاانعام ہے۔حضرت امام حسن ؑ شہید اورحضرت امام حسین ؑ شہید کی شخصیت میں ان کی والدہ طیبہ،طاہرہ، سیّدہ حضرت فاطمہ ؓ کی تربیت جھلکتی تھی۔میرادل کہتا ہے اللہ ربّ العزت کے ساتھ محبت کے سبھی راستے ماں باپ کے ساتھ والہانہ محبت اورعقیدت سے ہوکرجاتے ہیں۔جو بیٹے اوربیٹیاں اپنے ماں باپ کی اطاعت،ان سے محبت اوران کی خدمت کرتے ہیں وہ دنیا پرحکومت کرتے ہیں۔
ہمارے داداجان اوردادی جان کانکاح 1965ء میں پاکستان اوربھارت کے درمیان ہونیوالی جنگ کے بعد ہوا تھا۔ ہمارے شفیق ومہربان داداجان حاجی امان اللہ خان مرحوم جہدمسلسل اورانتھک محنت کااستعارہ تھے، وہ اپنے پانچ بیٹوں اورایک بیٹی کی پرورش اورتعلیم وتربیت کیلئے شبانہ روزمحنت کرتے رہے۔وہ ستر کی دہائی میں اپنے بچوں کے روشن مستقبل کیلئے گاؤں سے ہجرت کرتے ہوئے انہیں شہر لاہورلے آئے تھے۔ ہمارے داداجان حاجی امان اللہ خان مرحوم نے اپنی باوفا،باصفا اورباحیاء شریک حیات اورہماری شفیق ومہربان دادی جان انورجبیں مرحومہ کی بنیادی ضروریات اورخواہشات پوری کرنے میں بھی کبھی کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ اللہ ربّ العزت کے خاص لطف وکرم سے ہمارے داداجان کو 1980ء کی دہائی میں باباجی مست اقبال شاہ مرحوم کے ہمراہ حج کی سعادت حاصل ہوئی جبکہ ہماری دادی جان انورجبیں مرحومہ، والدہ صائمہ شہزادی خان،پھوپھواورپھوپھا مسٹر اینڈمسزنویداحمدخان نے 2012ء میں ایک ساتھ فریضہ حج اداکیاتھا۔پچھلے سال 12شعبان،11فروری 2025ء کو ہماری شفیق ومہربان دادی جان مختصر علالت کے بعد ہم سے بچھڑ گئی تھیں،ہمارا گھر آج بھی ان کی یادوں اورباتوں کے عطر سے معطر اور مہکتا رہتاہے۔وہ نہایت نرم مزاج،عبادت گزار اوروفاشعار تھیں۔ ان کی بے پایاں محبت،شفقت اورہرایک نصیحت ہمیں ہمیشہ یادرہے گی،ہم ان اپنائیت اوران کی مہربانیاں ہرگزفراموش نہیں کرسکتے۔وہ بہت اچھی مہمان نواز، بہت پرخلوص میزبان اورہم سب کے ساتھ نہایت مہربان تھیں۔ ہمارے باباجان،ہماری ماماجان اورمجھ سمیت ہم بہنوں اوربھائی کواپنے بہشتی داداجان حاجی امان اللہ خان مرحوم اور ہماری بہشتی دادی جان انورجبیں مرحومہ مغفورہ سے وابستہ یادیں اورباتیں دہرا نے سے قلبی سکون ملتاہے۔
ہمارے بہشتی داداجان اورہماری بہشتی دادی جان ہم بھائی بہنوں کے قلوب میں زندہ ہیں۔ ہماری اپنے داداجان مرحوم اورہماری دادی جان مرحومہ کے ساتھ قلبی وابستگی اوروارفتگی آج بھی تازہ دم ہے۔ رواں ماہ11فروری2026ء کوہماری دادی جان انورجبیں مرحومہ کی پہلی برسی ہے،ہم آج بھی انہیں یادکرتے ہوئے رنجیدہ اور آبدیدہ ہوجاتے ہیں۔ہمارے بزرگ جس عمر میں بھی بچھڑیں،ان کی وفات سے جوخلاء پیداہوتا ہے وہ کبھی پرنہیں ہوسکتا۔ہمارے داداجان مرحوم اورہماری دادی جان مرحومہ اپنے پوتوں محمداحمدخان،محمدقاسم خان،محمدہاشم خان،حافظ محمدکونین ابراہیم خان،محمدموسیٰ خان،حافظ محمدابوبکرخان،حافظ محمدحسنین خان،اپنے نواسوں عبدالرحمن خان،حافظ عبداللہ خان،حافظ عبدالمنان خان اورمحمدعبداللہ بابر خان سمیت اپنی پوتیوں اور نواسیوں کی تعلیمی کامیابیوں سے بیحد خوش ہو تے تھے۔انہوں نے زندگی بھر ہمیں بہت محبت وشفقت سے نوازا اورہمارے ہرقدم پر ہماری کامیابی وکامرانی اورنیک نامی کیلئے ہمیں ڈھیروں دعائیں دیں لیکن سچ پوچھیں تو ہم دونوں بیش قیمت ہستیوں کی خدمت،تربیت اوران سے بے پناہ محبت کاحق ادانہیں کرپائے۔ کاش زندگی نے انہیں مزید مہلت دی ہوتی اوران کاسایہ ہمارے سروں پرہمیشہ برقراررہتا۔ہمارے بزرگ ہم سب کیلئے شجرسایہ دار ہوتے ہیں، ہمارے داداجان مرحوم اورہماری دادی جان مرحومہ کی یادیں ہمارابیش قیمت اثاثہ ہیں،صمیم قلب سے دعا ہے اللہ تعالیٰ ہماری شفیق ومہربان دادی جان انورجبیں مرحومہ سمیت ہرایک مرحوم بزرگ کی کامل مغفرت،بخشش،ان کے درجات بلنداورانہیں جنت الفردوس میں بلندمقام عطاء فرمائے جو اس دارفانی سے کوچ کرگئے ہیں۔
Comments are closed.