ایس ای سی پی میں اصلاحات کیلئے وزیراعظم نے وفاقی وزیر قانون کی سربراہی میں کمیٹی قائم؛ ایس ای سی پی کے انفورسمنٹ رجیم کو مؤثر بنانے کی لیے تجاویز پر غور
اسلام آباد، یکم اپریل: وزیراعظم مھمد شہباز شریف نے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) میں ریگولیٹری اصلاحات لانے ، کمیشن کی انفرسمنٹ کو فعال اور موثر بنانے کے لیے سفارشات تیار کرنے کے لیے وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
کمیٹی کا پہلا اجلاس وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں ایس ای سی پی کی انفورسمنٹ بہتر بنانے، زیر التواء مقدمات کے تیز ترین حل ، عاءد کردہ جرمانوں کی ریکوری اور سرمایہ کاروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔
وزیر اعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی کے دیگر ارکان میں وفاقی سیکرٹری کابینہ کامران یوسف، سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال ، سیکرٹری قانون و انصاف راجہ نعیم ، چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر سدھو اور چیئرمین کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان شامل فرید احمد تارڈ شامل ہیں۔
چیئرمین ایس ای سی پی، ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے اجلاس کو بتایا کہ ایس ای سی پی سے متعلق دو ہزار سے زائد مقدمات عدالتوں میں زیر التواء ہیں، جس کے باعث کمیشن کے احکامات پر عمل درآمد میں تاخیر اور عائد کردہ جرمانوں کی وصولی انتہائی کم ہے۔ انہوں نے ایس ای سی پی کی انفورسمنٹ رجیم اور کمیشن کو بااختیار بنانے اور عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کے فوری فیصلوں کے لیے خصوصی ٹربیونلز کے قیام کی تجویز دی۔ انہوں نے بین الاقوامی طرز عمل، خصوصاً برطانیہ کے ماڈل کی روشنی میں، کپیٹل مارکیٹ سے متعلق خلاف ورزیوں کے لیے فوجداری کارروائی کے بجائے سول نظام اپنانے کی بھی تجویز دی۔
اس موقع پر وفاقی وزیر قانون اعظم نزیر تارڈ نے کہا کہ کسی بھی ریگولیٹری قانون پر عمل درآمد کو بہتر بنانے کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات پر بھی توجہ دی جائے۔ وفاقی وزیر قانون نے ایس ای سی پی کے چئیرمین ڈاکٹر کبیر سدھو کو ایس ای سی پی کے ریگولیٹری سسٹم کو مکممل طور پر ڈیجیٹلائز کرنے کی ہدایت کی تا کہ کمپنیوں کی فائلنگ کے وقت جعلسازی و دھوکہ دہی کی روک تھام کی جا سکے۔ اس طریق سے کم بھی عدالتوں میں جانے والے مقدامات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔
اس حوالے سے ایس ای سی پی نے جاری اقدامات پر بریفنگ دی، جن میں سینٹرل ڈپازٹری سسٹم کے ذریعے شیئرز کو الیکٹرانک شکل میں منتقل کرنے کا اقدام شامل ہے، جس سے شفافیت میں اضافہ اور کاغذی فراڈ میں کمی آئے گی۔
اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ایس ای سی پی کے نفاذی اختیارات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، جس کے لیے قانون سازی اور بعض جرائم کو ڈی کرمنلائز کر کے سول جرمانوں کے ذریعے مؤثر نفاذ ممکن بنایا جائے گا۔
وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ ایس ای سی پی آئندہ اجلاس میں جامع اصلاحاتی منصوبہ پیش کرے، جس میں ٹربیونلز کے قیام، ریکوری نظام، قانونی ترامیم اور ادارہ جاتی کارکردگی کو بہتر بنانے کے اقدامات شامل ہوں۔
Comments are closed.