Trending
- اسلام آباد کا ماحولیاتی بحران: سی ڈی اے انوائرمنٹ ونگ میں پیشہ ورانہ کمی کے سنگین انکشافات
- اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن، درجنوں مشکوک افراد حراست میں
- ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی: حقیقت، بیانیہ اور زمینی صورتحال کا جائزہ
- پرویز الٰہی کی پی ٹی آئی سے علیحدگی اور پیپلز پارٹی میں شمولیت؟ اہم سیاسی پیش رفت کی اطلاعات
- سی ڈی اے بھرتیاں: نسٹ (NUST) کا شفاف ترین انتخابی عمل ‘اپنوں’ کی بھینٹ چڑھنے کا خدشہ
- کسٹم کلکٹریٹ سرگودھا میں کرپشن اور سرکاری سامان کی غیر قانونی فروخت کا انکشاف
- سی سی پی نے ”آئس کریم“کیس میں 35 ملین روپے جرمانہ وصول کر لیا
- ایران جنگ سے عرب معیشت کو 186 ارب ڈالر نقصان، عالمی بحران سنگین ہونے لگا
- امریکا کی ایران حکمت عملی ناکام، بدلتے اہداف پر ماہرین کے سوالات
- ای چالان کے نام پر جعلی SMS فراڈ، سیف سٹی کی وارننگ — شہری محتاط رہیں
اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت کی کہ وہ 24 مارچ کے حکم پر عملدرآمد کرے، جس کے تحت سابق وزیرِ اعظم عمران خان سے ہفتے میں دو بار ملاقاتوں کا شیڈول بحال کیا گیا تھا۔
اس موقع پر جنید اکبر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج بھی ملاقات نہیں دی تو میرا پارٹی کو مشورہ ہے ہم عدالتوں پر عدم اعتماد کریں، اگر عدالتیں انصاف نہیں دے سکتیں تو ان عدالتوں میں یونیورسٹیز کھولی جائیں کسی کا فائدہ ہوگا۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ افغانستان ہمارا سینٹرل ایشیا کا گیٹ وے ہے، خیبرپختونخوا کی بہترین تجارت ان کے ساتھ 78 سال سے ہوتی رہی ہے، قبائلی اپنے ملک، بارڈ سمیت اپنی حفاظت جانتے ہیں، 2001 کے بعد وہاں فوج آئی اور ملٹری آپریشن کے بعد وہاں حالات تھوڑے خراب ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں ڈیمانڈ کرتا ہوں کہ این ایف سی کا میٹنگ جلدی بلائیں اور ہمارا 350 ارب شیئر دیں، این ایف سی میں ہمارے بقایا جات 2200ارب سے زائد ہیں، یہ دہشت گردی ختم کرنے میں سیریس ہوتے تو ہمارے پیسے دیتے یہ سیدھی سیدھی ان کی بے حسی ہے۔

Comments are closed.