Trending
- اسلام آباد کا ماحولیاتی بحران: سی ڈی اے انوائرمنٹ ونگ میں پیشہ ورانہ کمی کے سنگین انکشافات
- اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن، درجنوں مشکوک افراد حراست میں
- ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی: حقیقت، بیانیہ اور زمینی صورتحال کا جائزہ
- پرویز الٰہی کی پی ٹی آئی سے علیحدگی اور پیپلز پارٹی میں شمولیت؟ اہم سیاسی پیش رفت کی اطلاعات
- سی ڈی اے بھرتیاں: نسٹ (NUST) کا شفاف ترین انتخابی عمل ‘اپنوں’ کی بھینٹ چڑھنے کا خدشہ
- کسٹم کلکٹریٹ سرگودھا میں کرپشن اور سرکاری سامان کی غیر قانونی فروخت کا انکشاف
- سی سی پی نے ”آئس کریم“کیس میں 35 ملین روپے جرمانہ وصول کر لیا
- ایران جنگ سے عرب معیشت کو 186 ارب ڈالر نقصان، عالمی بحران سنگین ہونے لگا
- امریکا کی ایران حکمت عملی ناکام، بدلتے اہداف پر ماہرین کے سوالات
- ای چالان کے نام پر جعلی SMS فراڈ، سیف سٹی کی وارننگ — شہری محتاط رہیں
انہوں نے کہا کہ پہلی بار ایک تیسرے ملک کو شامل کیا گیا تاکہ افغانستان کو یہ باور کرایا جا سکے کہ اسے دوحہ معاہدے پر عمل کرنا ہوگا، جس کے تحت وہ اپنی سرزمین کو کسی بھی شخص یا گروہ کو دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
انہوں نے سوال کیا کہ اگر دہشت گردی پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے، تو پھر یہ دہشت گرد افغانستان سے کیوں آتے ہیں؟ یہ بیان انہوں نے افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کے حالیہ تبصرے کے جواب میں دیا، جنہوں نے کہا تھا کہ دہشت گردی کسی ملک کا اندرونی معاملہ ہے۔

Comments are closed.