افغانستان میں دہشت گردی کے مراکز اور دہشت گرد تنظیموں کی قیادت موجود ہے ، ترجمان پاک فوج
راولپنڈی
شمشاد مانگٹ
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ طالبان رجیم کا یہ دعویٰ کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے لوگ ہجرت کرکے آئے ہیں، مہمان ہیں، غیر منطقی ہیں، اگر وہ پاکستانی ہیں، تو انہیں ہمارے حوالے کریں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق 25 نومبر کو ڈی جی آئی ایس پی آر کی سینئر صحافیوں سے ملکی سلامتی کے امور پر تفصیلاً گفتگو ہوئی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے سینئر صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ یہ کیسے مہمان ہیں، جو مسلح ہوکر پاکستان آتے اور دہشتگردی کرتے ہیں؟ امریکی اور نیٹو افواج نے افغانستان سے انخلا کے وقت 7 ارب 20 کروڑ ڈالر سے زائد کا اسلحہ افغانستان میں چھوڑ دیا، یہی اسلحہ دہشتگردی میں استعمال ہو رہا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردی کے مراکز اور دہشت گرد تنظیموں کی قیادت موجود ہے، افغانستان سے دوحہ معاہدے پر پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے، پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان طالبان دہشت گردوں کی سہولت کاری بند کریں۔
انہوں نے کہا کہ نان کسٹم پیڈ گاڑیاں خود کش حملوں میں استعمال ہوتی ہیں، لاکھوں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں صوبے میں گھوم رہی ہوں تو انہیں روکنا کس کی ذمہ داری ہے؟ دہشتگرد تشکیلیں، اسمگلنگ اور غیرقانونی تجارت روکنا کس کی ذمہ داری ہے؟ خوارج دہشتگرد پولیٹیکل ٹیرر کرائم گٹھ جوڑ کے سہولت کار ہیں, سرحدی علاقوں میں انتہائی مضبوط پولیٹیکل ٹیرر کرائم گٹھ جوڑ ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ رواں سال ملک میں مجموعی طور پر ایک ہزار 873 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا، جن میں 136 افغان باشندے شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ رواں سال ملک بھر میں 67 ہزار 23 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے گئے، خیبرپختونخوا میں 12 ہزار 857 اور صوبہ بلوچستان میں 53 ہزار 309 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے گئے،
انہوں نے بتایا کہ 4 نومبر 2025 سے اب تک دہشتگردی کے خلاف 4 ہزار 910 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، ان آپریشنز کے دوران 206 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بارڈرمینجمنٹ پر سیکیورٹی اداروں کےخلاف پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، پاک افغان سرحد انتہائی مشکل اور دشوار گزار راستوں پر مشتمل ہے، خیبرپختونخوا میں پاک افغان سرحد 1229 کلومیٹر پر محیط ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں پاک افغان سرحد پر 20 کراسنگ پوائنٹس موجودہیں، پاک افغان سرحد پرچوکیوں کا فاصلہ 20 سے 25 کلومیٹر بھی ہے، آبزرویشن اور فائر کور نہ ہونے پر بارڈر فینس مؤثر نہیں۔
انہوں نے کہاکہ ہر 2 سے 5 کلومیٹر پر قلعہ بنانے اور ڈرون سے نگرانی کے لیے کثیر وسائل درکار ہوں گے، پنجاب اور سندھ کے برعکس خیبرپختونخوا میں بارڈر کے اطراف منقسم گاؤں موجود ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں سرحد پر موجودہ صورتحال میں آمد و رفت کنٹرول کرنا چیلنج ہے، دنیا میں بارڈر مینجمنٹ دونوں اطراف کے ممالک ملکر کرتے ہیں، لیکن طالبان حکام دہشتگردوں کی سرپرستی اور سہولت کاری کر رہے ہیں۔

Comments are closed.