ٹرمپ کا بورڈ آف “پیس”

تحریر : عبدالقیوم خان

Abdul Qayyum Khan ریاستیں جامد اکائیاں نہیں ہوتیں، نہ ہی ان کے فیصلے ہمیشہ ایک جیسے رہتے ہیں۔وقت،حالات اور مفادات کے بدلنے سے ریاستی رویے بھی بدلتے ہیں اور وقت کے تقاضوں کے مطابق بدلنے میں کوئی قباحت بھی نہیں اور یہی اصول پاکستان پر بھی لاگو ہوتا ہے۔مگر مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں ریاست اور عوام کے درمیان فاصلہ حد سے زیادہ بڑھ جائے اور چند مخصوص مفاداتی گروہ خود کو ریاست کا مترادف سمجھنے لگیں۔ایسی صورت میں فیصلے عوامی خواہشات،اجتماعی مفاد اور جمہوری اصولوں کے بجائے مقتدر اشرافیہ کے معاشی و سیاسی مفادات کے گرد گھومنے لگتے ہیں۔ یہی وہ بنیادی تضاد ہے جو آج نہ صرف پاکستان،ترقی پذیر ممالک بلکہ عالمی نظام میں بھی واضح نظر آتا ہے،جہاں ریاستی خودمختاری،خالص عوامی حق حکمرانی اور بین الاقوامی انصاف سب پر سوالیہ نشان ہے۔ڈالر پر مبنی عالمی معاشی نظام اور استحصالی سرمایہ دارانہ قوتیں اسی تضاد کی سب سے نمایاں مثال ہیں،جو آزادی،قانون اور برابری کے نعروں کے پیچھے طاقت، مفاد اور غلبے کی سیاست کو چھپائے ہوئے ہیں۔
امریکا کی قیادت میں قائم عالمی سامراجی نظام،خصوصاً ڈالر کی بالادستی،اک عرصے تک دنیا کو ایک”خاص توازن”میں رکھنے کا ذریعہ رہی،مگر اب یہی نظام اپنے داخلی تضادات کے باعث شدید بحران کا شکار ہےاور عالمی و علاقائی امن کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔ڈالر کو بطور عالمی کرنسی استعمال کرنا دراصل امریکا کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ اپنی معاشی ناکامیوں کا بوجھ پوری دنیا پر منتقل کر دے،جبکہ دیگر ممالک کو مالیاتی دباؤ،قرضوں اور پابندیوں کے ذریعے کنٹرول میں رکھا جائے۔یہی وجہ ہے کہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں آزاد تجارت اور منڈی کی بات تو کی جاتی ہے،مگر عملی طور پر طاقت ور ممالک ٹیرف،پابندیوں اور سپلائی چینز کو ہتھیار بنا کر کمزور ریاستوں کو جھکنے پر مجبور کرتے ہیں۔یہی استحصالی و سامراجی نظام جب متبادل قوتوں کا مقابلہ نہ کر پائے توکہیں 100 فیصد اور کہیں 500 فیصد تک ٹیرف بڑھائے جاتے ہیں تو کیا یہ کھلی منافقت اور کھلا تضاد نہیں،کیونکہ ایسے اقدامات نہ صرف ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن جیسے اداروں کے اصولوں کی نفی کرتے ہیں بلکہ عالمی معیشت کو مزید غیر یقینی اور نازک بنا رہے ہیں۔ اس طرزِ عمل سے واضح ہوتا ہے کہ سرمایہ داری کا موجودہ ڈھانچہ ترقی اور استحکام نہیں بلکہ خوف،عدم تحفظ،عدم مساوات اور جنگ و جبر پیدا کرتا چلا جا رہا ہے۔
اسی تناظر میں ٹرمپ کے غزہ اور فلسطین سے متعلق مجوزہ “بورڈ آف پیس” پر یورپی ممالک کا ردِعمل غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔فرانس،برطانیہ،ناروے،سویڈن، ڈنمارک اور خصوصا سپین کی جانب سے اس میں شرکت سے انکار اس بات کا ثبوت ہے کہ مغربی دنیا کے اندر بھی اب اس یک طرفہ عالمی قیادت پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ سپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز کا یہ کہنا کہ“ہم دعوت کی قدر کرتے ہیں مگر اسے مسترد کرتے ہیں”دراصل اس عالمی نظام کے منہ پر ایک واضح طمانچہ ہے جو فلسطین جیسے بنیادی انسانی مسئلے کو اقوام متحدہ کے فریم ورک سے باہر حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔فلسطین اتھارٹی کو نظرانداز کرنا اور فیصلہ فلسطینی عوام کی مرضی کے بغیر مسلط کرنا اسی آمرانہ استحصالی سوچ کی علامت ہے جو طاقت کو حق پر فوقیت دیتی ہے۔کینیڈا کے وزیراعظم کی ورلڈ اکنامک فورم میں کی گئی تقریر بھی اسی حقیقت کی عکاس ہے،جہاں اس نے کھلے الفاظ میں کہا کہ بین الاقوامی قانون پر مبنی عالمی نظام کی کہانی جزوی طور پر جھوٹی ہے،کیونکہ طاقت ور ممالک خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں اور قانون کا اطلاق ملزم یا متاثرہ کی شناخت کے مطابق بدل جاتا ہے۔
یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی ادارے جیسے اقوام متحدہ،ڈبلیو ٹی او اور دیگر فورمز اپنی ساکھ اور افادیت کھوتے جا رہے ہیں۔جب یہ ادارے کمزور ممالک کو تحفظ فراہم نہ کر سکیں اور طاقت ور ریاستوں کے سامنے بے بس نظر آئیں تو پھر ریاستیں مجبور ہو جاتی ہیں کہ وہ اپنی بقا کے لیے خود راستے تلاش کریں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں دنیا تیزی سے ایک “محصور” یا بند نظام کی طرف بڑھ رہی ہے،جو زیادہ غریب، زیادہ نازک اور کم پائیدار ہوگا۔اس بند دنیا میں تعاون کے بجائے تصادم،انصاف کے بجائے طاقت،اور ترقی کے بجائے عدم استحکام غالب ہوگا”۔یہی وجہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کی متبادل قوتیں،جیسے چین،روس اور دیگر سوشلسٹ برابری پر مبنی معاشی ماڈلز،اب دنیا کی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔یہ ماڈلز کم از کم نظریاتی سطح پر وسائل کی منصفانہ تقسیم،اجتماعی فلاح اور یک طرفہ اجارہ داری کے خاتمے کی بات کرتے ہیں،جو عالمی سرمایہ داری کے کھوکھلے پن کو مزید بے نقاب کر رہی ہے۔
ایسے میں پاکستان جیسے ممالک کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ وہ عالمی طاقتوں کے اس کھیل میں کس حد تک اور کس بنیاد پر شامل ہوں۔“بورڈ آف پیس” جیسے فورمز میں شمولیت اگر عوامی حمایت،پارلیمانی منظوری اور شفاف بحث کے بغیر کی جائے تو یہ نہ صرف جمہوری اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ قومی سلامتی اور خودمختاری کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔جب فیصلے عوام کے بجائے چند اشرافیہ،غیر جمہوری قوتوں اور بیرونی آشیرباد کے تحت کیے جائیں تو ریاست اپنے اصل مقصد سے ہٹ جاتی ہے۔پاکستان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مفاد میں فیصلے کرے،مگر یہ مفاد عوامی ہونا چاہیے،نہ کہ مخصوص گروہوں کا۔موجودہ عالمی بحران میں دانش مندی کا تقاضا یہی تھا کہ پاکستان نہ اندھی تقلید کرتا اور نہ ہی ایک خاص گروہ کےوقتی فائدوں کے لیے خود کو ایسے متنازع اور غیر شفاف منصوبوں کا حصہ بناتا جو مستقبل میں مزید عدم استحکام کا باعث بنیں۔
“حقیقی خودمختاری”،”عوامی رائے کا احترام” یہ الفاظ ہیں تو گھسے پٹے لیکن ان میں دم ہے،یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو اس غیر یقینی اور استحصالی عالمی نظام میں عالمی برادری کے ساتھ ساتھ اپنے ہمسایوں سے بہتر تعلقات، باوقار مقام کا راستہ کھول سکتا ہے۔فی الحال تو امریکہ اسرائیل اور اس کی حواری قوتوں نے عالمی امن کو پیس کر رکھ دیا ہے۔پیس آف بورڈ ایسے فیصلے فلسطین کے لاکھوں لوگوں کی تباہی سے پہلے سود مند ہوتے نہ کہ ہزاروں بچوں،بوڑھوں،عورتوں کےخون کے بعد۔ وقت کے بہتے دھارے میں دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ آپ تاریخ کے اہم موڑ پر کس طرف کھڑے ہیں،ظالم یا مظلوم کے ساتھ۔

Comments are closed.