امریکا کی ایران حکمت عملی ناکام، بدلتے اہداف پر ماہرین کے سوالات

دوحا: محمد المصری کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران کے حوالے سے بار بار بدلتے اہداف دراصل اس کی مجموعی حکمت عملی کی ناکامی کی واضح علامت ہیں۔

دوحا انسٹیٹیوٹ فار گریجوایٹ اسٹڈیز سے وابستہ پروفیسر محمد المصری نے کہا کہ امریکا واضح طور پر ایران سے متعلق اپنے جنگی اہداف تبدیل کر چکا ہے، جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ اہم محاذوں پر کوئی نمایاں کامیابی حاصل نہیں کر سکا۔

الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ جنگ کے آغاز سے ہی متضاد بیانات دیتے آئے ہیں۔ ان کے اہداف کبھی مبہم ہوتے ہیں تو کبھی ایک دوسرے سے متصادم دکھائی دیتے ہیں۔

المصری کے مطابق امریکا ابتدا سے ہی ایک “مضبوط پیغام” دینے کی کوشش میں الجھا رہا۔ کبھی ایران میں حکومت کی تبدیلی کو ہدف بنایا گیا، تو کبھی معاہدے (ڈیل) کی بات کی گئی، اور کبھی توجہ صرف آبنائے ہرمز تک محدود کر دی گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں امریکی حکام ایران میں رجیم چینج کو اولین ترجیح قرار دے رہے تھے، تاہم اب خود امریکی حلقے اس بات کو تسلیم کر رہے ہیں کہ ایرانی نظام برقرار ہے اور اسے ہٹایا نہیں جا سکا۔

المصری کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے حوالے سے بھی بار بار اپنا مؤقف تبدیل کر رہے ہیں۔ اب وہ یہ تک کہہ رہے ہیں کہ نہ کوئی ڈیل ضروری ہے اور نہ ہی آبنائے ہرمز کا کھلا رہنا۔

دوسری جانب جے ڈی وینس کی جانب سے ثالثوں کو سخت پیغام بھیجے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی قیادت کے اندر بھی بے چینی بڑھ رہی ہے۔

پروفیسر المصری کے مطابق امریکی بیانیے میں یہ مسلسل تبدیلی اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکا اپنے ان مقاصد کے حصول میں ناکام رہا ہے جو وہ اس جنگ کے ذریعے حاصل کرنا چاہتا تھا۔

Comments are closed.