جب ریاست شہری کو “ایکسپورٹ” سمجھنے لگے

Engineer Iftikhar Chaudhary
تحریر: انجینئر افتخار چودھری

Engineer Iftikhar Chaudhary

چند روز قبل ایک بااثر سیاسی شخصیت نے نہایت سادگی سے فرمایا کہ ہماری سب سے بڑی ایکسپورٹ “مین پاور” ہے۔ بظاہر یہ ایک معاشی جملہ تھا، ترقی اور زرِمبادلہ کی زبان میں ادا کیا گیا بیان۔ مگر اگر اس کے لفظوں کو ذرا ٹھہر کر سنا جائے تو اس میں ہمارے عہد کی سب سے بڑی المیہ داستان پوشیدہ ہے۔ جب کوئی ریاست اپنے نوجوانوں، اپنے تعلیم یافتہ طبقے، اپنے ہنرمند افراد کو شہری نہیں بلکہ “ایکسپورٹ آئٹم” سمجھنے لگے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ ملک اپنے لوگوں کے لیے گھر بھی رہ جاتا ہے یا صرف ایک گودام بن کر رہ جاتا ہے؟
لوگ ملک کیوں چھوڑتے ہیں؟
کیا محض زیادہ تنخواہ کے لیے؟
یا اس سکون کے لیے جو انہیں اپنے ہی وطن میں میسر نہیں؟
اصل مسئلہ معیشت سے پہلے وقار کا ہے۔ انسان صرف روزی کا طالب نہیں ہوتا، وہ عزت، یقین اور انصاف بھی چاہتا ہے۔ جس معاشرے میں قانون کمزور کے لیے سخت اور طاقتور کے لیے نرم ہو، جہاں آئین کتابوں میں محفوظ اور عمل میں معطل ہو، وہاں ہجرت جرم نہیں رہتی، فطری ردعمل بن جاتی ہے۔
مگر یہ کہانی صرف ریاست کی نہیں، فرد کی بھی ہے۔
ایک شخص صبح دفتر جاتا ہے۔ میز پر فائلیں رکھی ہیں، دیوار پر قائدین کی تصاویر آویزاں ہیں، اور چہرے پر رسمی مسکراہٹ۔ مگر دل میں ہلچل ہے۔ اسے وہ باتیں کہنا پڑتی ہیں جن پر اس کا یقین نہیں۔ اسے ان فیصلوں کی توثیق کرنا پڑتی ہے جن سے اس کا ضمیر مطمئن نہیں۔ اسے ان لوگوں کے سامنے سر جھکانا پڑتا ہے جنہیں وہ دل سے تسلیم نہیں کرتا۔
وہ سمجھتا ہے کہ وہ صرف نوکری کر رہا ہے۔
مگر حقیقت میں وہ روز اپنی روح سے سمجھوتہ کر رہا ہوتا ہے۔
بوریس پاسترناک نے کہا تھا کہ اعصابی نظام کوئی افسانہ نہیں، یہ ہمارے جسم کا حصہ ہے۔ روح بھی ہمارے اندر اسی طرح موجود ہے جیسے دانت—جسے لگاتار دبایا جائے تو درد اٹھتا ہے۔ یہی درد آج ہمارے معاشرے میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، چڑچڑاپن اور بے یقینی کی صورت ظاہر ہو رہا ہے۔
ہم نے “نوکری” کو اس درجہ تقدیس دے دی ہے کہ اس کے نام پر ہر سمجھوتہ جائز قرار دے دیا ہے۔ حالانکہ ہر وہ کام جو تنخواہ دے، ضروری نہیں کہ وقار بھی دے۔ ہر وہ ادارہ جو عہدہ دے، ضروری نہیں کہ احترام بھی دے۔
ہمارے بچپن کی ایک تصویر ذہن میں ابھرتی ہے۔ ایک بچہ سکول جانے سے انکاری ہے۔ دادی اماں اسے ڈانٹ ڈپٹ کر، کبھی مار پیٹ کر کے سکول بھیجتی ہیں۔ وہ بچہ پڑھتا تو ہے مگر طلب کے بغیر۔ اس کے لیے کتاب بوجھ ہے۔ علم زبردستی نہیں آتا، شوق سے آتا ہے۔
اسی طرح پیشہ بھی محض حاضری سے نہیں نبھتا، یقین سے نبھتا ہے۔ جب یقین رخصت ہو جائے تو کام عبادت نہیں رہتا، محض مجبوری رہ جاتا ہے۔
یہی مجبوری جب اجتماعی صورت اختیار کر لے تو قومیں اندر سے کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔ لوگ کام تو کرتے ہیں مگر لگن کے بغیر، تقریریں تو ہوتی ہیں مگر سچ کے بغیر، فیصلے تو صادر ہوتے ہیں مگر انصاف کے بغیر۔ اور پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ نوجوان کیوں جا رہے ہیں، ڈاکٹر کیوں بیرونِ ملک جا رہے ہیں، ہنرمند کیوں دوسرے ملکوں کی صنعت سنبھال رہے ہیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ کون جا رہا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ اسے روکنے کے لیے کیا کیا گیا؟
ریاست اگر اپنے شہری کو تحفظ، انصاف اور میرٹ دے تو وہ مشکلات کے باوجود ڈٹا رہتا ہے۔ مگر جب شہری کو یہ احساس ہو جائے کہ اس کی قدر صرف زرِمبادلہ کے اعداد و شمار تک محدود ہے، تو اس کا دل ٹوٹنے لگتا ہے۔
اسی طرح فرد کے لیے بھی فیصلہ آسان نہیں ہوتا۔ نوکری چھوڑ دینا، نظام سے اختلاف کرنا، یا ہجرت کا سوچنا—یہ سب آسان راستے نہیں۔ مگر بعض اوقات خاموش رہنا زیادہ نقصان دہ ہوتا ہے۔ اگر کوئی پیشہ روز آپ سے آپ کا سچ چھین لے، اگر کوئی ماحول آپ کو اپنی ہی نظر میں چھوٹا کر دے، تو اس پر نظرِ ثانی کرنا بغاوت نہیں، خودی کا دفاع ہے۔
وطن سے محبت ایک عظیم جذبہ ہے، مگر محبت یک طرفہ نہیں ہو سکتی۔ محبت کا تقاضا ہے کہ ریاست بھی اپنے شہریوں کو صرف وسائل نہیں بلکہ انسان سمجھے۔ انہیں برآمدی مال نہیں بلکہ مستقبل کا معمار جانے۔
پاکستان زندہ باد کا نعرہ اپنی جگہ محترم، مگر اس نعرے کی اصل روح تب زندہ رہتی ہے جب پاکستانی بھی عزت اور یقین کے ساتھ زندہ رہیں۔
ریاستیں نعروں سے نہیں، انصاف سے مضبوط ہوتی ہیں۔
اور انسان صرف تنخواہ سے نہیں، وقار سے زندہ رہتا ہے۔

Comments are closed.