تحریر :محمد نفیس دانش
استاد : جامعہ دارالعلوم علائیہ شیخوپورہ
یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ تعلیم کسی بھی قوم کی تعمیر و ترقی کا بنیادی ستون ہے، اور امتحان وہ کسوٹی ہے جس پر تعلیمی نظام کی کامیابی یا ناکامی پرکھی جاتی ہے۔مثالی امتحان سسٹم کی بنیاد عدل، شفافیت اور قابلیت پر ہونی چاہیے۔ ایسا نظام جو صرف نمبر حاصل کرنے کی دوڑ نہ ہو بلکہ طلبہ کی فکری، اخلاقی اور عملی صلاحیتوں کو جانچنے کا ذریعہ بنے۔ امتحان کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ طالب علم نے کیا سیکھا، کیسے سیکھا اور وہ اس علم کو عملی زندگی میں کیسے استعمال کر سکتا ہے۔
ایک مثالی نظام میں سوالات محض رٹے پر مبنی نہیں ہوتے بلکہ فہم، تجزیہ اور تخلیقی سوچ کو ابھارنے والے ہوتے ہیں۔ اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ طلبہ کو سوالات کے جوابات یاد کروانے کے بجائے سوچنے، سوال کرنے اور دلیل دینے کی تربیت دیں۔ اسی طرح امتحانی پرچوں کی تیاری میں نصاب، عمر اور ذہنی سطح کو مدنظر رکھنا نہایت ضروری ہے۔
شفافیت مثالی امتحان سسٹم کی روح ہے۔ پرچہ سازی، نگرانی اور جانچ کے مراحل میں دیانت داری کو یقینی بنایا جائے تاکہ محنتی طالب علم کا حق ضائع نہ ہو۔ نقل، سفارش اور ناانصافی جیسے ناسور صرف ایک طالب علم ہی نہیں بلکہ پوری قوم کے مستقبل کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
آج اس کالم میں پاکستان کے مشہور و معروف اور قدیمی دینی ادارہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی شفافیت اور مثالی امتحانات کے حوالہ سے واضح کرنا تھا کہ
وفاق المدارس کے امتحانات کا نظم مثالی اور شاندار ہے ، بغیر سرکاری وسائل کے اتنے بڑے نظام کا چلنا اللہ کی مدد کے بعد منتظمین کی انتھک محنت ، دیانتداری ، اخلاص اور شاندار کاوشوں کا شاہکار ہے ، گذشتہ دنوں پرچے آؤٹ ہونے کے حوالے سے خبریں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو کچھ لوگوں نے وفاق المدارس کے پورے نظام پر انگلیاں اٹھانا شروع کر دیں ، یہ بات یاد رکھیں کہ جرم کہیں بھی ہو سکتا ہے ، مجرم کسی بھی روپ میں آسکتا ہے ، یہاں بھی جرم ہوا لیکن وفاق کے ذمہ داروں نے فوری محاسبہ و مواخذہ کیا ، کسی بھی تعلق کو خاطر میں لائے بغیر قانونی کارروائی کی گئی ، فوری محاسبے اور مواخذے کے بعد یقننا آئندہ کسی کو ایسا جرم کرنے کی جرات نہیں ہوگی ، لہذا وفاق المدارس کے نظم پر تنقید کرنے کے بجائے وفاق المدارس کے نظم کو سراہیں ، انہیں داد دیں کہ انہوں نے جرم کرنے والے کی پشت پناہی نہیں کی اور نہ ہی جرم پر آنکھیں بند کیں ، بلکہ جرم کرنے والوں کو تیز ترین انصاف کے ذریعے تنہا کر دیا ، آپ یقین کریں کہ آج کے دور میں شہروں کے ساتھ پہاڑوں اور ریگستانوں تک میں ایک ہی پرچہ ایک ہی وقت میں جو پہنچ رہا ہے ، یہ مثالی نظم ہے ، اس وقت پاکستان کے مشہور و معروف ادارے مثلاً جامعہ دارالعلوم کراچی، جامعہ بنوری ٹاؤن، جامعہ فاروقیہ کراچی، جامعہ اشرفیہ وغیرہ سب ہی ادارے وفاق المدارس سے ملحق ہیں ۔استاد محترم شیخ الاسلام حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب ، مولانا حنیف جالندھری صاحب اور وفاق المدارس کے تمام قائدین اور ممبران پر علماء کرام کا مکمل اعتماد ہے؛ لہذا سوشل میڈیا ورکرز اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ وفاق المدارس کے حوالے سے کبھی بھی کوئی منفی بات نظر آئے تو اس کی تحقیق کی جائے پھر اس کو پھیلایا جائے ۔
وفاق المدارس العربیہ کا امتحانات کا نظام مثالی اور شفافیت والا نظام ہے بلکہ قابل تقلید نظام ہے۔
Comments are closed.