ماں ہر شر سے اماں

تحریر: عقیدت /محمدعلی

MUHAMMAD Ali Columnistدین فطرت اسلام نے ماں کو بہت منفرد اورممتازمقام عطاء کیا ہے۔ ناتواں سے ناتواں ”ماں“بھی ہرشر سے اماں ہوتی ہے، بیٹوں اوربیٹیوں کیلئے ان کی ماں کاکوئی متبادل نہیں ہوسکتا۔دنیا کی ہر”ماں“کاوجوداپنے بچوں کیلئے ایک پورا جہاں اورآفات وبلیات سے جائے اماں ہے۔ بچوں کیلئے ان کی محبوب ماؤں کے وجود تپتی دھوپ میں ٹھنڈی چھاؤں سے ہوتے ہیں،ہرماں اپنی ممتاکے آب حیات سے اپنے بچوں کوسیراب کرتی ہے۔دنیا کی کسی چلچلاتی دھوپ سے ماں کا روپ سروپ نہیں گہنا تا۔ماں کی شخصیت مہر و محبت، ایثار و احساس،استقامت اور خلوص و وفا کا ایک استعارہ ہے۔ ہرماں اپنے بچوں کی رازدار،وفادار،ان کیلئے ایک شجر سایہ داراورسرمایہ افتخار ہے۔ماں باپ کی اطاعت میں عزت،عفت اورعافیت کے رازپنہاں ہیں۔مجھ سمیت ہرطفل کیلئے ماں کی آغوش سے بہتر کوئی مکتب نہیں ہوسکتا۔ یہ کائنات کا سب سے زیادہ سچا،سُچا اورسودوزیاں سے بے نیاز رشتہ ہے،میری بھی ایک ماں ہیں اورمیں بھی ایک باپ ہوں جبکہ میں نے بیسیوں والدین کوخوشی خوشی اپنے بچوں کیلئے اپنا آپ قربان کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ماں کی طرح ہرباپ بھی زندگی بھر اورباربار اپنے بچوں کامان رکھتا ہے۔
ماں کی ذات ہماری زندگی کی تاریک راہوں میں مینارہ نور ہے۔ ہم جس بہشت کیلئے دن رات نیک اعمال کرتے ہیں وہ ہمارے معبود برحق نے ہماری ماؤں کے قدموں تلے رکھ دی ہے،جس نے اس فلسفہ کوسمجھ لیا وہ مرادمقصود پاگیا۔ہماری ”ماں“ہمارے نظام خاندان کی اساس اور اسلامی تہذیب کا بنیادی نشان بلکہ طرہّ امتیاز ہے۔ یہ اسلام کی اعلیٰ اخلاقی اور معاشرتی قدروں کی امین اور پرخلوص سچے جذبوں کی آئینہ دار ہے۔ہرمذہب سمیت رنگ ونسل میں ماں کی کوئی مثل نہیں،”ماں“ ایک بینظیررشتہ اورجنت تک یقینی رسائی کارستہ ہے۔ماں کیلئے دنیا کی مختلف زبانوں اورمختلف تہذیبوں کے ورثے اور ادب میں جو الفاظ تخلیق کئے گئے، وہ اس کے بلند مقام کا استعارہ اور ماں سے عقیدت و محبت کا حسین اظہار ہیں۔ جبکہ دین فطرت اور دین رحمت نے ”ماں“کی عظمت، خدمت اور اس کی اطاعت و فرماں برداری کا جو درس دیا، وہ سب سے منفرد اور بے مثال ہے۔ اسلام میں خالقِ حقیقی ربّ العزت کے بعد خالق مجازی ماں اور اس کی مامتا کو سب سے عظیم گردانا گیا ہے۔
اللہ پاک نے جہاں ماؤں کوسراپا خلوص و وفا اور ایثار و محبت بنایا ہے وہاں معبود برحق کسی باپ کی اپنے بچوں کے حق میں کوئی دعا رد نہیں فرماتا۔میں نے کسی ماں اورباپ کواپنے بچوں کی پرورش کے دوران سودوزیاں تودرکنار اپنی زندگی تک کی پرواہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا،ہم سے کوئی اپنے ماں باپ کی وفاؤں کاصلہ اس طرح نہیں دے سکتا جس طرح دینے کاحق ہے۔میں نے اپنی زندگی میں کئی نیک نام شخصیات دیکھی ہیں،ہروہ انسان جواپنے ماں باپ کافرمانبرداراوروفادارہوکامیابی وکامرانی اورنیک نامی اس کامقدربن جاتی ہے۔نبی رحمت سیّدناحضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ واصحبہٰ وبارک وسلم نے ارشاد فرمایا: ” اگر میری ماں زندہ ہوتیں اور میں عشاء کی نماز شروع کرچکا ہوتا اس دوران وہ مجھے اپنے حجرے سے پکارتیں: اے محمد! تواللہ کی قسم! میں نماز چھوڑ کر ان کے پاس حاضر ہوتا اور ان کے قدموں سے لپٹ جاتا”۔حضرت اویس قرنی ؓ کامقام ماں سے محبت کاانعام ہے۔حضرت امام حسن ؑ شہید اورحضرت امام حسین ؑ شہید کی شخصیت میں ان کی والدہ طیبہ،طاہرہ، سیّدہ حضرت فاطمہ ؓ کی تربیت جھلکتی تھی۔میرادل کہتا ہے اللہ ربّ العزت کے ساتھ محبت کے سبھی راستے ماں باپ کے ساتھ والہانہ محبت اورعقیدت سے ہوکرجاتے ہیں۔جو بیٹے اوربیٹیاں اپنے ماں باپ کی اطاعت،ان سے محبت اوران کی خدمت کرتے ہیں وہ دنیا پرحکومت کرتے ہیں۔
  ہمارے عظیم اورمخلص والد حاجی محمدرمضان جہدمسلسل اورانتھک محنت کی علامت ہیں، وہ ہم تین بھائیوں اورایک ہمشیرہ کی پرورش اورتعلیم وتربیت کیلئے شبانہ روزمحنت کرتے رہے،انہوں نے اپنی باوفااورباصفا شریک حیات اورہماری شفیق ومہربان والدہ حاجن زینب بیگم کی تمام ضروریات اورخواہشات بھی پوری کرنے میں کبھی کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ اللہ ربّ العزت کے خاص لطف وکرم سے ہمارے والدین نے 1991ء میں ایک ساتھ فریضہ حج اداکیاتھا۔پچھلے سال23فروری 2025ء کو ہماری شفیق ومہربان والدہ اچانک ہم سے بچھڑ گئی تھیں،ہمارا گھر آج بھی ان کی یادوں اورباتوں کے عطر سے معطر اور مہکتا رہتاہے۔وہ نہایت خدمت گار، عبادت گزار اوروفاشعار تھیں۔ ان کی بے پایاں محبت،شفقت اورہرایک نصیحت ہمیں ہمیشہ یادرہے گی،ہم ان کے احسانات اوران کی مہربانیاں ہرگزفراموش نہیں کرسکتے۔وہ بہت اچھی مہمان نواز، بہت پرخلوص میزبان اورہم سب کے ساتھ نہایت مہربان تھیں۔ ہمارے والدحاجی محمدرمضان اورمجھ سمیت ہمارے اہل خانہ کو کسی نہ کسی بہانے اپنی بہشتی والدہ حاجن زینب بیگم مرحومہ مغفورہ سے وابستہ یادیں اورباتیں دہرا نے سے بہت سکون ملتاہے۔ ہماری بہشتی والدہ ہمارے والد اورہم بھائی بہنوں کے دل میں زندہ ہیں۔ ہماری اپنی والدہ کے ساتھ قلبی وابستگی اوروارفتگی آج بھی تازہ دم ہے۔ اس ماہ یعنی 23فروری2026ء کوہماری والدہ حاجن زینب بیگم مرحومہ کی پہلی برسی ہے،ہم آج بھی انہیں یادکرتے ہوئے رنجیدہ اور آبدیدہ ہوجاتے ہیں۔ماں جس عمر میں بھی بچھڑے،اس کی وفات سے جوخلاء پیداہوتا ہے وہ کبھی پرنہیں ہوسکتا۔ہماری والدہ مرحومہ اپنے پوتوں انجینئر فہدعلی، بیرسٹرحمادعلی،احمدعلی ایڈووکیٹ، محمدطاہرطارق،محمدجوادطارق اور محمدجاویدزبیر سمیت دوسرے پوتوں پوتیوں اورنواسوں نواسیوں کی تعلیمی کامیابیوں سے بیحد خوش ہوتی تھیں۔انہوں نے زندگی بھر ہمیں بہت محبت وشفقت سے نوازا اورہمارے ہرقدم پر ہماری کامیابی وکامرانی اورنیک نامی کیلئے ہمیں ڈھیروں دعائیں دیں لیکن سچ پوچھیں تو ہم ان کی خدمت،تربیت اوران سے بے پناہ محبت کاحق ادانہیں کرپائے۔ کاش زندگی نے انہیں مزید مہلت دی ہوتی اوران کاسایہ ہمارے سروں پرہمیشہ برقراررہتا۔ ہماری والدہ مرحومہ کی یادیں ہمارابیش قیمت اثاثہ ہیں،صمیم قلب سے دعا ہے اللہ تعالیٰ ہماری شفیق ومہربان ماں زینب بیگم سمیت ان سبھی ماؤں کی کامل مغفرت،بخشش،ان کے درجات بلنداورانہیں جنت الفردوس میں بلندمقام عطاء فرمائے جو اس دارفانی سے کوچ کرگئی ہیں۔

Comments are closed.