کینیڈا کے وزیر اعظم نے ایک اہم بیان میں اعلان کیا ہے کہ امریکہ کو دفاعی اخراجات کی بڑی مقدار منتقل کرنے کا دور اب ختم ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں کینیڈا کی جانب سے دفاعی بجٹ کا بڑا حصہ امریکہ کے ساتھ وابستہ تھا، تاہم اب حکومت نے اس پالیسی میں بنیادی تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیر اعظم نے واضح کیا کہ آئندہ دفاعی بجٹ کا زیادہ تر حصہ ملک کے اندرونی استحکام، ترقیاتی منصوبوں اور قومی مفادات کے فروغ پر خرچ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کینیڈا اپنی خودمختاری کو مزید مضبوط بنانے اور داخلی صلاحیتوں کو بڑھانے پر توجہ دے رہا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس فیصلے کو عالمی سطح پر بدلتی ہوئی طاقت کے توازن کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک اپنی خارجہ اور دفاعی پالیسیوں میں زیادہ خودمختاری اختیار کرنے کی جانب بڑھ رہے ہیں، جس سے عالمی سیاست میں نئی صف بندیوں کا امکان پیدا ہو رہا ہے۔
دوسری جانب اس پیش رفت کو امریکہ کے عالمی اثر و رسوخ میں ممکنہ تبدیلی کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس حوالے سے مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ایک معمول کی پالیسی تبدیلی ہے، جبکہ دیگر اسے عالمی طاقت کے توازن میں بڑی تبدیلی کا اشارہ قرار دے رہے ہیں۔
Comments are closed.