جولائی تا نومبر : ایف بی آر کو ہدف کے حصول میں شارٹ فال کا سامنا

جولائی تا نومبر : ایف بی آر کو ہدف کے حصول میں شارٹ فال کا سامنا

کراچی

ایف بی آر کو جولائی سے نومبر تک 5 ہزار 143 ارب کے ٹارگٹ میں 412 ارب کے شارٹ فال کا سامنا ہے۔

دستاویز کے مطابق نظرثانی شدہ ٹارگٹ میں ایف بی آر کو جولائی سے نومبر تک 314 ارب روپے، نومبر میں حقیقی ہدف ایک ہزار 35 ارب کے ٹارگٹ میں 139 ارب جبکہ نومبر میں نظرثانی شدہ 995 ارب روپے کے ہدف میں تقریباً 96 ارب کے شارٹ فال کا سامنا ہے۔

ایف بی آر کی جولائی سے نومبر تک مجموعی آمدن 4730 ارب روپے رہی، ایف بی آر نے نومبر کے دوران 896 ارب روپے کا ٹیکس جمع کیا ہے، جولائی سے نومبر انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور ایف ای ڈی آمدن ہدف سے کم رہی۔

دستاویز کے مطابق جولائی سے نومبر انکم ٹیکس کی مد میں 2233 ارب روپے اکٹھے کیے گئے، اسی عرصہ میں سیلز ٹیکس کی مد میں 1876 ارب روپے اکٹھے کیے گئے۔

جولائی سے نومبر ایف ای ڈی کی مد میں 326 ارب اور جولائی سے نومبر کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 548 ارب روپے اکٹھے کیے گئے۔

ذرائع کے مطابق جولائی سے نومبر انکم ٹیکس کا حقیقی ٹارگٹ 2367 ارب روپے اور سیلز ٹیکس کا حقیقی ٹارگٹ 1925 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا۔

جولائی سے نومبر ایف ای ڈی کا حقیقی ٹارگٹ 332 ارب، پہلے پانچ ماہ کے دوران کسٹمز ڈیوٹی کا حقیقی ٹارگٹ 519 ارب روپے مقرر تھا۔

ذرائع نے بتایا کہ جولائی سے نومبر انکم ٹیکس کا نظرثانی شدہ ہدف 2317 ارب ، سیلز ٹیکس کا نظرثانی شدہ ٹارگٹ 1883 ارب ، ایف ای ڈی کا نظرثانی شدہ ہدف 326 ارب اور کسٹمز ڈیوٹی کا نظرثانی شدہ ہدف 519 ارب روپے مقرر کیا گیا۔

نومبر میں انکم ٹیکس کی مد میں 403 ارب، سیلز ٹیکس کی مد میں 364 ارب جمع ہوئے، ایف ای ڈی کی مد میں 64 ارب، کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 108 ارب جمع کئے گئے۔

نومبر کے دوران انکم ٹیکس کا ہدف 439 ارب، سیلز ٹیکس کا ہدف 369 ارب، ایف ای ڈی ہدف 67 ارب، کسٹمز ڈیوٹی کا ہدف 112 ارب تھا، جولائی سے نومبر تک 255 ارب اور نومبر کے دوران 48 ارب ریفنڈز جاری کئے گئے۔

Comments are closed.