او جی ڈی سی نے مالی سال 2025-26 کے ششماہی نتائج کا اعلان کر دیا
کمپنی کی تاریخ کا سب سے بڑا4.25 روپے فی شیئر عبوری نقد منافع دینے کا اعلان۔ تر جمان او جی ڈی سی
آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے 23 فروری 2026 کو منعقدہ اجلاس میں 31 دسمبر 2025 کو ختم ہونے والی ششماہی مدت کے مالی نتائج کی منظوری دے دی اور 4.25 روپے فی شیئر (42.50 فیصد) دوسرے عبوری نقد منافع کا اعلان کیا، جو کمپنی کی تاریخ کا سب سے بڑا دوسرا سہ ماہی منافع ہے۔ اس طرح ششماہی مدت کے لیے مجموعی عبوری منافع 7.75 روپے فی شیئر تک پہنچ گیا، جو کمپنی کی تاریخ کی بلند ترین ششماہی ادائیگی ہے۔
او جی ڈی سی کی نیٹ سیل 192.830 ارب روپے رہی جبکہ بعد از ٹیکس خالص منافع 73.019 ارب روپے رہا، فی حصص آمدن (ای پی ایس) 16.98 روپے رہی۔ ششماہی نتائج پر ایس این جی پی ایل اور یو پی ایل کی جانب سے سسٹم لوڈ کی پابندیوں کے باعث جبری پیداواری کمی اور خام تیل کی اوسط قیمت میں کمی کے اثرات مرتب ہوئے، تاہم ان اثرات کو جزوی طور پر گیس کی بہتر حاصل شدہ قیمتوں اور شرح مبادلہ میں بہتری نے متوازن کیا۔ مذکورہ مدت کے دوران کمپنی نے کارپوریٹ ٹیکس، منافع جات، رائلٹی اور دیگر حکومتی محصولات کی مد میں قومی خزانے کو 120 ارب روپے ادا کیے، جبکہ تیل و گیس کی پیداوار کے ذریعے درآمدی متبادل کے نتیجے میں تقریباً 1.4 ارب امریکی ڈالر کے زرمبادلہ کی بچت کا تخمینہ لگایا گیا۔
ششماہی مدت کے دوران او جی ڈی سی کی خام تیل کی یومیہ پیداوار 31,848 بیرل، قدرتی گیس کی پیداوار 626 ملین مکعب کیوبک فٹ یومیہ اور ایل پی جی کی پیداوار 636 ٹن یومیہ رہی۔ آپریشنل لحاظ سے کمپنی نے اس عرصے میں پانچ کنوؤں کی کھدائی شروع کی، جبکہ تسلسل کے ساتھ جاری تلاش کے نتیجے میں چار تیل و گیس کی نئی دریافتیں ہوئیں، جس سے کمپنی کے ہائیڈرو کاربن وسائل کے ذخائر میں مزید اضافہ ہوا۔ کمپنی نے اکتوبر 2025 کی بولی میں تیل و گیس کی تلاش کے لیے آٹھ آف شور بلاکس کے حقوق بھی حاصل کیے۔
ترقیاتی محاذ پر جھل مگسی منصوبہ کامیابی سے مکمل کر کے فعال کر دیا گیا ہے، جہاں اس وقت تقریباً 14 ملین مکعب کیوبک فٹ یومیہ گیس کے ساتھ کنڈنسیٹ بھی حاصل ہو رہا ہے، جبکہ دکھنی کمپریشن منصوبہ مقررہ وقت سے پہلے مکمل کر لیا گیا ہے۔ دیگر اہم کمپریشن منصوبے بھی منصوبہ بندی کے مطابق جاری ہیں۔کم پیداوار اور خام تیل و ایل پی جی کی کم حاصل شدہ قیمتوں کے باعث فروخت آمدن پر 36.468 ارب روپے کا منفی اثر پڑا، تاہم اسے جزوی طور پر گیس کی بہتر قیمتوں اور شرح مبادلہ میں بہتری نے متوازن کیا۔ وصولیوں میں نمایاں بہتری آئی، گیس وصولیوں کی شرح 156 فیصد اور مجموعی وصولیوں کی شرح 125 فیصد تک پہنچ گئی، جس سے پہلے سے موجود واجبات میں اضافے کے رجحان کا خاتمہ ہوا۔
او جی ڈی سی اپنے پائیداری سفر کو جاری رکھتے ہوئے ماحولیاتی، سماجی اورای ایس جی حکمت عملی کو مزید مضبوط بنا رہی ہے اور اپنے آپریشنز اور ویلیو چین میں ای ایس جی عوامل کو مربوط کر رہی ہے۔بورڈ نے انتظامیہ کی جانب سے آپریشنل کارکردگی، مالی نظم و ضبط اور شیئر ہولڈرز کو بہتر منافع کی فراہمی پر مسلسل توجہ کو سراہا، جس کے نتیجے میں کمپنی پاکستان کے تلاش و پیداوار کے شعبے میں اپنی قائدانہ حیثیت برقرار رکھتے ہوئے تاریخ کے بلند ترین دوسرے سہ ماہی اور ششماہی منافع کا اعلان کرنے میں کامیاب ہوئی۔
Comments are closed.