راولپنڈی/اسلام آباد جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے صدر گل قیصر خان، سیکرٹری رانا خرم شہزاد ایوبی اظہر سلطان، خالد سعید، انوار زیدی، یاسر مرزا، انوار الحق مغل، مدثر صدیقی، سردار ہیرا لال، علی باقر،حسن محمود، ساجد اعوان، خرم ابن شبیر، ملک تصور، کاشف ارسلان
اور دیگر نے اپنے بیان میں روزنامہ ایکسپریس کے سینیئر سٹاف رپورٹر صالح مغل کو دوران ڈیوٹی نیب اہلکاروں کی طرف سے بحریہ ٹاؤن کے دفاتر کے اندر لے جا کر زبردستی حبس بے جا میں رکھنے، ہراساں کرنے اور تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے ریاستی اداروں کی کھلے عام غنڈہ گردی قرار دیا ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے انہوں نے کہا کہ نیب اہلکاروں نے جب بحریہ ٹاؤن کے دفاتر میں چھاپہ مارا تو صالح مغل اس واقعہ کی کوریج کے لیے وہاں موجود تھے اور اپنی صحافتی ڈیوٹی ادا کررہے تھے کہ اس دوران متعدد اہلکاروں نے انھیں زبردستی پکڑ لیا اور تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے بحریہ ٹاؤن کے دفاتر کے اندر لے گئے اور قدرے ویران حصے میں لے جا کر دونوں موبائل فون چھین کر توڑ دیے اور کئی گھنٹوں تک غیر قانونی طور حبس بے جا میں رکھنے کے بعد دھمکیاں دیں کہ اگر دوبارہ نظر آئے تو تمھاری خیر نہیں، قیادت نے نیب اہلکاروں کی اس کھلی غنڈہ گردی کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ افسوسناک واقعہ صحافیوں کو صحافتی ذمہ داریاں روکنے کے مترادف ہے اور صحافیوں کو پیغام ہے کہ وہ ذمہ دار صحافت سے دور رہیں
Trending
- قرض، تشہیر اور کنگال عوام
- لوک ورثہ کی ڈپٹی ڈائریکٹر کے خلاف مقدمہ درج
- یورپ کی مشرق وسطیٰ کی پالیسی پر نظر ثانی: مفادات اور اقدار میں توازن۔
- تھانہ ترنول کے علاقے میں نجی گھر میں مبینہ غیر قانونی گردوں کی پیوندکاری کا انکشاف
- پی ٹی آئی رہنماؤں پر مقدمہ درج
- راجہ محمد رفیق کیانی مرحوم کی زندگی سی ڈی اے ملازمین کی فلاح و بہبود اور ادارے کی ترقی کے لیے وقف تھی
- بلوچستان دہشت گردی
- جب ریاست شہری کو “ایکسپورٹ” سمجھنے لگے
- ادارے کے وسیع تر مفاد میں سی بی اے یونین کے ساتھ باضابطہ اجلاس منعقد کر کے اعتماد میں لیا جائے
- آئی ایس ایس آئی اور انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل پولیٹکس اینڈ اکونومکس کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کی تقریب
روزنامہ ایکسپریس کے سینیئر سٹاف رپورٹر صالح مغل کو دوران ڈیوٹی نیب اہلکاروں کی طرف سے بحریہ ٹاؤن کے دفاتر کے اندر لے جا کر زبردستی حبس بے جا میں رکھا
Prev Post
Next Post
Comments are closed.