پاکستان میں جب بھی کوئی خود کش دھماکا یا دہشت گردی کی واردات ہوتی ہے تو حسب روایت چند ہی لمحوں بعد ایک پرانی کہانی گردش کرنے لگتی ہے کہ جائے وقوعہ سے دہشت گرد کا شناختی کارڈبرآمد ہوگیا،یہ بیانیہ اب اس قدر گھسا پٹا اور ناقابل ِ یقین ہوچکا ہے کہ عوام الناس بھی اسے سنجیدگی سے لینے کے لیے تیار نہیں۔ اللہ کا واسطہ ہے خود کو دھوکا دینا بند کیجئے دنیا کا کوئی بھی شخص اپنے جیب میں شناختی کارڈ ڈال کر خود کش حملے کے لیے نہیں نکلتا۔ہاں یہ امکان ضرور موجود ہے کہ کسی جعلی شناختی کارڈ کے ذریعے جان بوجھ کر معاملے کا رخ کسی مخصوص سمت یا گروہ کی طرف موڑنے کی کوشش کی جائے بالکل اسی طرح جیسے وارداتوں میں جعلی نمبر پلیٹس والی گاڑیاں استعمال کی جاتی ہیں لیکن یہ مان لینا کہ ہر خود کش حملہ آور اپنی اصل شناخت ساتھ لے کر آیا تھا، محض سادگی نہیں بلکہ حقیقت سے فرار ہے۔ اصل اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو اس وقت ایک منظم عدم استحکام کرنے کی حکمت ِ عملی کا سامنا ہے۔ سب سے پہلے افغان مہاجرین کے معاملے کو ہی لے لیجئے یا تو انہیں باعزت طریقے سے مکمل طور پر واپس بھیجاجائے یا واضح سخت اور غیر مبہم ریاستی پالیسی کے تحت یہ طے کیاجائے کہ پاکستان میں ان کی رہائش کن شرائط کے ساتھ ممکن ہے۔یہ محض اتفاق نہیں کہ جیسے ہی انخلاء کی منصوبہ بندی کا اعلان ہوا ملک کے اندر دہشت گردی اور مختلف نوعیت کی مجرمانہ سرگرمیوں میں اچانک اضافہ دیکھنے میں آیا۔
دوسرا اور نہایت اہم پہلو پاکستان کی ایٹمی طاقت ہے جو عالمی سطح پر نہ صرف دشمنوں بلکہ بعض نام نہاد دوستوں کے لیے بھی ناقابل ِ برداشت حقیقت ہے۔ اسی تناظر میں ہمارے ہی کمزور، بھٹکے ہوئے اور غلط استعمال ہونے والے افراد کو ریاست، اداروں اور اپنے ہی عوام کے خلاف کھڑا کیاگیا تاکہ پاکستان کو اندر سے کمزور کیاجاسکے۔آج حالات ہم سب کے سامنے ہیں بلوچستان میں بالخصوص لیکن خیبر پختونخواہ سمیت ملک کے دیگر حصوں میں بھی دہشت گرد عناصر متحرک ہیں اور پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے درپے ہیں۔ ایسے میں یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ ہماری سیکورٹی فورسز دن رات ان وحشی گروہوں کے خلاف برسر پیکار ہیں، جانو ں کی قربانیاں دے رہی ہیں اور ایسی امثال قائم کررہی ہیں جن کی نظیر آج کی دنیامیں کم ہی ملتی ہے۔ ہم دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے ان محافظوں کو کامیابی اور سرخروئی عطافرمائے۔
یہ بات اب کھل کر سمجھنے کی ہے کہ دہشت گردانہ ذہنیت کا خاتمہ صرف پاکستا ن ہی کے مفاد میں نہیں بلکہ پوری دنیا کے امن سے جڑا ہوا ہے لہذا غیر ذمہ دارانہ، جذباتی اور گمراہ کن بیانات دینے کے بجائے ضروری ہے کہ پرانی اور ناقابل یقین کہانیوں کو حقیقت کا رنگ دینے کے بجائے اصل مجرموں کو انجام تک پہنچایاجائے۔ بے ہنگم بیانات ہمیں مسئلے کے حل کے قریب نہیں بلکہ اس سے مزید دور لے جاتے ہیں۔
Comments are closed.