تحریر : محمد ناصر اقبال خان
میں پھر کہتاہوں ”عمرؓ “ کوسمجھناہوتوایک”عمر“کافی نہیں،بحیثیت حکمران حضرت عمرفاروق ؓ کے نزدیک ایک نجس کتا بھی بہت اہم تھا جبکہ عہدحاضر کے حکمرانوں کی نگاہ میں زندہ انسانوں کی بھی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔وہ فرض منصبی کی بجا آوری کے دوران اپنے کسی دوست کی تشریف آوری پر سرکاری دیا بجھا دیا کرتے تھے جبکہ عہد حاضر میں حکمرانوں کی ذاتی شہرت کیلئے قومی دولت کاناجائز استعمال کیا جاتا ہے۔فاروق اعظم حضرت عمر ؓ کاشمار عشرہ مبشرہ میں ہوتا تھا لیکن اس کے باوجود وہ اللہ ربّ العزت کی بارگاہ میں جوابدہی کے ڈر سے تڑپ جاتے اور زاروقطاررو تے تھے۔آج پنجاب سمیت ملک بھر سے شہداء اوربسنت متاثرین کے جنازے اٹھ رہے ہیں لیکن ہمارے حکمرانوں کے چہروں سے کسی قسم کااحساس زیاں تک نہیں جھلکتا۔فتنہ بسنت کے نتیجہ میں ایک صحافی زین ملک سمیت آٹھ سے دس انسانوں کی دلخراش موت کے باوجود ہماراشہرلاہورشہرخموشاں کامنظر پیش کررہا ہے، جومعاشرہ بیگناہ انسانوں کی ناحق موت پربھی خاموش رہے وہ زندہ نہیں ہوسکتا۔”جوتے مارنیوالے بندے بڑھادو“ والی کہایت ہماری معاشرت پرصادق آتی ہے۔ہمارے گاؤں کے اندرآج بھی اگر کسی گھر میں صف ماتم بچھی ہوتووہاں ”بیاہ“ والی حویلی میں کوئی شہنائی نہیں بجاتا توپھرتخت اسلام آبا دمیں امام بارگاہ کے اندر کھیلی گئی خون کی ہولی کے باوجود تخت لاہورمیں جشن بسنت کیوں منایاگیا۔اگر تخت لاہور پربراجمان حکمران کے دل میں درد یاڈر ہوتا تویقیناسانحہ اسلام آباد کے فوری بعد جشن بسنت منسوخ یامحدود کردیا جاتا لیکن الٹا اس بیہودگی کادورانیہ مزید پانچ گھنٹوں کیلئے بڑھادیا گیا۔جشن بسنت کے نام پرہونیوالی بدتمیزی،بے حیائی اوربیہودگی پر ہمارے علماء کی مجرمانہ خاموشی بھی ایک بڑاسوالیہ نشان ہے۔اسلامی ریاست کے علماء تواسلامی تعلیمات کی روشنی میں ارباب اقتدار واختیار کوجھنجوڑتے اور حکومت کی سمت سیدھی کرنے کیلئے حکمرانوں کی لگام کھینچتے ہیں لیکن ہمارے تو مذہبی رہنماؤں نے مصلحت کی چادراوڑھ لی ہے۔ اسلام آباد میں ایک مسجد کی شہادت پر مزاحمت اورحکومت کومسجد کی دوبارہ تعمیر کیلئے مجبورکرنیوالے علماء حضرات بیسیوں انسانوں کی شہادتوں پرکیوں خاموش ہیں۔ا نہوں نے اسلامی ریاست کی نظریاتی اساس کیخلاف بسنت نامی جارحیت کے باوجود چپ کاروزہ کیوں نہیں توڑا۔
گیارہ برس قبل راقم کے کالم بعنوان”شوراورشعور“ میں ایک فقرہ”شعبدہ بازاپنے”شور“سے ”شعور“ کودبارہے ہیں“ شامل تھا جس پر منفرد اسلوب کے کالم نگارتوفیق بٹ نے بھی اپنے مخصوص انداز سے تبصرہ کیا تھا۔ یہ کہنا ”شعور سے پیٹ نہیں بھرتا“قومی ضمیرکے ساتھ بھونڈا مذاق ہے۔ پنجاب میں ”ہوائی“ اور”خلائی“منصوبوں کاشورہرگز شعور کامتبادل نہیں ہوسکتا۔پچاسی فیصد”اشتہاری“ منصوبوں کازمین پرکوئی وجود نہیں ہے۔پنجاب وہ صوبہ ہے جہاں ”ڈینگی“ مچھرکی بجائے ”ڈینگیں“ماری جاتی ہیں۔ بہرکیف معتوب ومغضوب فلسطینیوں کی طرح شدید بھوک کی صور ت میں مجبور اورمحصور افراد کے پیٹ گھاس پھوس سے بھی بھر جاتے ہیں لیکن اوپرکاخالی خانہ صرف شعور سے بھر تا ہے۔وزارت صحت سمیت سرکاری محکموں کی پریس ریلیز میں ”وزیراعلیٰ کے ویژن“ کی گردان سے عوام کاگمان تبدیل نہیں ہوسکتا۔ جو شعبدہ باز شبانہ روزشہرت کے پیچھے دوڑتے ہوں ان کادامن عزت سے خالی ہوجاتا ہے۔ہرانسان اپنی اپنی ترجیحات خود طے کرتا ہے،جو محض اپنا پیٹ بھرنے کی جستجواورجدوجہد میں رہتا ہو اس کیلئے شعورکوئی اہمیت نہیں رکھتا۔جوانسان شعور سے محروم ہواس کاضمیربھی ہرگز زندہ نہیں ہوسکتاکیونکہ ان دونوں کاآپس میں بہت گہرا تعلق ہے۔یادرکھیں ان پڑھ ہونا نہیں بلکہ حق کاانکار کرنا درحقیقت شعور کانہ ہونا ہے ورنہ ابوجہل بظاہر ایک زمانہ شاس سردار تھا لیکن وہ اپنی بیدار آنکھوں سے معجزے د یکھتے ہوئے بھی معبود برحق کے وجود سے مسلسل مجرمانہ چشم پوشی اورعرب میں جہالت کے گہرے اندھیروں کے بعد طلوع سحرکاانکار کرتا رہا۔جہاں شعور ہووہاں ”ڈر“ہوتا ہے جبکہ شعور سے عاری لوگ”نڈر“ ہوتے ہیں۔عزازیل یعنی ابلیس نڈر تھا ورنہ وہ اللہ تعالیٰ کی طاقت اورہیبت بارے علم ہوتے ہوئے بھی حکم الٰہی کی اطاعت اورحضرت آدم ؑ کوسجدہ کرنے سے انکار نہ کرتا۔حضرت آدم ؑ کے دل میں اللہ تعالیٰ کا ڈر تھا سو وہ جنت سے زمین پر اتارے جانے کے بعد اپنے معبود برحق کو منانے کیلئے توبہ استغفار کرتے رہے۔حضرت امام حسین ؑ بہادرتھے جبکہ پلید یذید نڈر تھا،یادرکھیں نڈرہوناخوبی نہیں بلکہ بدترین خامی ہے۔اگرڈر برا ہوتا تو قرآن مجید فرقان حمید میں متعدد مقامات پراللہ ربّ العزت سے ڈرنے کاحکم نہ ملتا۔ چاروں خلفائے راشدینؓ اورصحابی کرام ؓ بھی اللہ ربّ العزت سے ڈرتے اوراس کے احکامات کی اطاعت کرتے تھے۔جس کوبارگاہ الٰہی میں جوابدہی کی آگہی اوربازپرس کاڈر ہووہ نڈر نہیں ہوسکتا،یادرکھیں جوحکمران قدرت کے قہراوراس کی گرفت سے ڈرتے ہوں وہ اپنے عوام کی زندگی سے نہیں کھیلتے اورایساکوئی عاقبت نااندیشانہ فیصلہ یااقدام نہیں کرتے جس سے انسانوں کی قیمتی جانوں کے ضیاع کاخطرہ پیداہو۔سنجیدہ طبقات کے تحفظات اورشدیدخطرات کے باوجود فتنہ بسنت کے بوتل میں بندآدم خوربھوت کودندنانے کیلئے آزاد چھوڑدینا متنازعہ اقدام تھا۔ فتنہ بسنت نے بچوں سمیت آٹھ سے دس انسانوں کوموت کے گھاٹ اتاردیا ہے جبکہ تخت لاہور پربراجمان حکمران اظہارندامت اوراپنے متنازعہ فیصلے پرقوم سے معذرت کرنے کی بجائے الٹا اپنی نام نہاد کامیابی کے شادیانے بجارہے ہیں۔
آدم زاد کی پسند ناپسند اور ترجیحات سے اس کی فطرت اور تربیت کا پتہ چلتا ہے۔ خواتین وحضرات کی عادات واطوار سے ان کے حسب نسب کی علامات عیاں ہوتی ہیں،شعور سے پیٹ بھرے نہ بھرے لیکن گڈی ڈور سے ہرگز نہیں بھرسکتا۔پنجاب حکومت نے محض اپوزیشن کا 8فروری کاپروگرام ناکام بنانے کیلئے قومی وسائل سے اربوں روپے فتنہ بسنت کی تیاری اورتشہیر پرجھونک دیے ہیں،یہ خطیر سرمایہ ماہ صیام میں کئی ملین نادارومفلس عوام کی سحری وافطاری پرصرف کیاجاسکتا تھا۔ بدقسمتی سے پاکستانیوں کی بنیادی ضروریات اور حکمران اشرافیہ کی ترجیحات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔مقروض ملک میں فتنہ بسنت کے نام پرخطیروسائل اوربیش قیمت انسانی جانوں کاضیاع بدانتظامی اورکج فہمی کابدترین مظاہرہ تھا۔راقم آج بھی منشیات کے استعمال،ہوائی فائرنگ اور قاتل بسنت کے نتیجہ میں ہونیوالی اموات کوحادثات نہیں سمجھتا کیونکہ یہ قتل عمد ہیں۔ اب آٹھ سے دس مقتول پتنگ بازوں کے قاتل کوشناخت،گرفتارکرنااوراسے انصاف کے کٹہرے سے تختہ دار تک پہنچانا ریاست کافرض اوراس پرانسانیت کاقرض ہے۔ میں بار بار کہتا رہا اگر ایک بار فتنہ بسنت کا بند ٹوٹ گیا تو پھر معاشرے میں بیہودگی،آوارگی اوربے حیائی کا سیلاب امڈ آئے گا۔اپوزیشن قیادت قید میں ہے لیکن معاشرے میں بیسیوں ”عمیری“ دندناتے پھررہے ہیں اوران کے ہاتھوں قومی حمیت کاجنازہ اٹھ رہا ہے جبکہ کوئی عمیری اپنی عیاری سے قانون کی گرفت میں نہیں آتا۔میں پھر کہتا ہوں بے حیائی ہوشربا مہنگائی سے بڑا بحران اورخطرناک طوفان ہے، اس کے آگے مضبوطی سے بندباندھناہوگا۔فتنہ بسنت کانام نہادتہوار اب پتنگ بازی تک محدود نہیں رہا،اب اس کی کوکھ سے مزید کئی طرح کی اخلاقی برائیاں پیداہوگئی ہیں۔25برسوں بعدشروع کی جانیوالی فتنہ بسنت اب شایدآئندہ پچاس سال بعد بھی بندنہ ہو،یہ گناہ جاریہ ہے۔چھ سے آٹھ فروری کے دوران بسنت کی آڑ میں چھتوں کے”نیچے“ اور”اوپر“جوگناہ ہوئے ان کابوجھ حکمرانوں کوبھی اٹھانا ہوگا۔ تخت لاہور کا فتنہ بسنت کو مقدس فریضہ کے طور پر پیش کرنا بھی ایک قومی سانحہ ہے، ہزاروں افراد چھ فروری کے روز نمازِ جمعتہ المبارک اداکرنے کی بجائے پتنگ بازی کرتے رہے۔تین دنوں تک پتنگوں کے ساتھ انسانی خون کے چھینٹے بھی اڑتے رہے۔ فتنہ بسنت کے دوران جہاں شہریوں کی گردنیں کٹتی رہیں وہاں مقروض ریاست کی نیم مردہ معیشت کی گردن بھی کئی بار کٹی، اس فتنہ نے قومی حمیت کی گردن بھی کاٹ دی ہے۔پتنگ باز ووں نے ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ بار بارواپڈا کا بھی”بوکاٹا“ کیا۔
پاک فوج کے شیردل شاہینوں اور جانثار جانبازوں نے 10 مئی 2025ء کو اپنے فطری دشمن بھارت کو شکست فاش دی تھی لیکن فتنہ بسنت کے دوران پاکستان کے دل لاہور میں پتنگ بازی کے دوران فلمی گانوں کی صورت میں بھارتی ثقافت کا پرچم لہراتا رہا،یہ اقدام ہماری محبوب پاک فوج کے شہیدوں سے انتقام کے زمرے میں آتا ہے۔کوئی اسلامی معاشرت اورمقروض معیشت فتنہ بسنت کی متحمل نہیں ہوسکتی۔میں بزدار کے دوراقتدار میں اس نااہل پرسخت تنقیدکرتا رہا ہوں لیکن اس کے اقتدارمیں بھی بسنت پرپابندی برقرارتھی جبکہ ہماری ویژن والی حکومت کا بسنت منانے کے جوش میں ہوش جاتا رہا،لاہور سے آٹھ سے دس پتنگ بازوں کا جنازہ اٹھایاگیا ہے،اگرکوئی دردمند حکمران ہوتاتواپنے فیصلے کے نتیجہ میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پرمستعفی ہوجاتااورقوم سے باضابطہ معذرت کرتا۔ نام نہاد جشن بسنت نے لاہور کے کئی گھروں میں صف ماتم بچھادی ہے لہٰذاء اگر اب دوسرے شہروں میں فتنہ بسنت نے سراٹھایا تومرحومین کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ بہتر ہوگا مٹھی بھرمردہ ضمیر افراد کے”شوق“ کیلئے لاہور کے بعد دوسرے شہروں میں بیگناہ شہریوں کو موت کا”شاک“ نہ دیاجائے۔
Comments are closed.