الطاف احمد بٹ کی نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے نومنتخب عہدیداران کو مبارکباد

Altaf Ahmed Buttکل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما اور چیئرمین جموں و کشمیر سالویشن موومنٹ الطاف احمد بٹ نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے نومنتخب عہدیداران کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے نیشنل پریس کلب کی قیادت اور الیکشن کمیٹی کو شفاف، جمہوری اور پُرامن انتخابات کے انعقاد پر خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ یہ عمل صحافتی برادری کی جمہوری اقدار سے وابستگی اور ادارہ جاتی وقار کا مظہر ہے۔

انہوں نے نومنتخب صدر عبدالرزاق سیال، سیکرٹری ڈاکٹر فرقان راؤ، سیکرٹری فنانس عابد عباسی، نائب صدور احتشام الحق، بشیر چوہدری اور عثمان خان، نائب صدر (خواتین) سحرش قریشی سمیت دیگر عہدیداران کو مبارکباد دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ صحافتی برادری کو درپیش مسائل کے حل، پیشہ ورانہ حقوق کے تحفظ اور آزادیٔ صحافت کے فروغ کے لیے مؤثر کردار ادا کریں گے۔

الطاف احمد بٹ نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے تاریخی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ بھارتی غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے مسئلے کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے میں ہمیشہ پیش پیش رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پریس کلب بارہا ایک مضبوط پلیٹ فارم کے طور پر سامنے آیا جہاں صحافیوں، سول سوسائٹی اور کشمیری نمائندوں نے کشمیری عوام کی جدوجہد اور ان پر ڈھائے جانے والے مظالم کو دنیا کے سامنے رکھا۔

انہوں نے کہا نیشنل پریس کلب ہمیشہ مسئلہ کشمیر کے لیے ایک مضبوط قلعے کی حیثیت رکھتا رہا ہے۔انہوں نے یاد دلایا کہ امرناتھ شرائن بورڈ زمین تنازعہ، برہان وانی کی شہادت اور 5 اگست 2019 کے بعد پیدا ہونے والی سنگین صورتحال—جب بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت آرٹیکل 370 اور 35A کو منسوخ کیا—جیسے اہم مواقع پر بھی پریس کلب نے کشمیری عوام کی آواز کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ نومنتخب قیادت اس روایت کو مزید مضبوط بناتے ہوئے مسئلہ کشمیر سمیت دیگر اہم انسانی حقوق کے معاملات کو قومی اور عالمی میڈیا کے ایجنڈے کا حصہ بنانے میں اپنا فعال کردار ادا کرے گی۔

بیان کے اختتام پر الطاف احمد بٹ نے اس امید کا اظہار کیا کہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد آئندہ بھی آزاد صحافت اور صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کا ایک مؤثر اور متحرک مرکز بنا رہے گا

Comments are closed.