بدمست ہاتھی

تحریر : ناصر محمود بٹ
موجودہ حالات میں پاکستان کی پوزیشن غیر معمولی اہمیت اختیار کرچکی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان ایک ایسے مرحلے پر کھڑا ہے جہاں وہ بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے اور ایک ”بدمست ہاتھی“ کی بے قابو کاروائیوں کو روکنے کی حکمت عملی میں کردار ادا کررہا ہے۔ پس پردہ وار کرنے والوں  کے درمیان ثالثی کروانا محض سفارتی عمل نہیں بلکہ جرأت، بصیرت اور غیر معمولی تدبر کا تقاضا کرتا ہے۔ دنیا یہ دیکھ چکی ہے کہ پاکستان نے آگے بڑھ کر ممکنہ عالمی تباہی کو ٹالنے کیلئے سنجیدہ کوششیں کی ہیں۔
دوسری جانب امریکی قیادت کے بیانات میں تضاد نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رکھا ہے۔ ایک طرف حالات کو معمول پر لانے کی بات کی جاتی ہے، جبکہ دوسری طرف مشرق ِ وسطیٰ میں Boots on Groundکے اشارے ملتے ہیں۔ اس طرز ِ عمل سے اعتماد کی فضا متاثر ہورہی ہے اور عالمی منظرنامہ غیر یقینی کیفیت کا شکار دکھائی دیتا ہے۔
بڑی طاقتوں کے درمیان ثالثی آج ایک ناگزیر ضرورت بن چکی ہے، اور موجودہ حالات میں یہ کردار مؤثر انداز میں ادا کرنے کی صلاحیت پاکستان کے پاس موجود ہے۔گزشتہ چند ماہ میں پاکستانی قیادت کی تعریفیں محض رسمی نہیں تھیں بلکہ ایک عملی ضرورت کا اظہار بھی تھیں، بلکہ یہ جابر قوتیں جانتی تھیں کہ اگر تصادم اپنی مطلوبہ سمت اختیار نہ کرسکا تو باعزت راستہ نکالنے کے لیے پاکستان ایک اہم کردار ادا کرسکتا ہے، آج حالات نے اسی حقیقت کو واضح کردیا ہے۔
پاکستان کے گردونواح میں کشیدگی کابڑھنا محض اتفاق نہیں بلکہ ایک مربوط سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ اگر ایران کو جوہری طاقت کے طور پر قبول کرنے میں Digestive Issueپایاجاتا ہے تو پاکستان جو ایک تسلیم شدہ جوہری قوت ہے، اس کے بارے میں خدشات و حسد کا ہونا بھی فطری امر ہے۔ ماضی میں افغانستان کے راستے پاکستان کی قوت کو آزمانے کی کوشش کی گئی۔ مگر اس کا انجام ناکامی کی صورت میں سامنے آیا، اب کبھی بھارت اور کبھی ایران کے تناظر میں دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی اختیار کی جارہی ہے۔ان تمام حالات کے باوجود پاکستان اپنی مدبرانہ اور جرأت مندانہ حکمت ِعملی پر قائم ہے۔ اس حقیقت کا ادراک نہ صرف دوستوں بلکہ مخالفین کو بھی ہے کہ پاکستان نے اپنی دفاعی سمت کا تعین بہت پہلے کرلیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان پر جتنا دباؤ بڑھایا جاتا ہے، یہ صورتحال مخالف قوتوں کے لیے پیچیدہ ہوتی چلی جاتی ہے۔
تاہم یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ عالمی سیاست میں مستقل دوستیوں کا تصور کمزور ہوتا ہے اور مفادات کو ہمیشہ فوقیت حاصل رہتی ہے۔ ایسے میں ایک باشعور اور ذمہ دار قیادت ہی حالات کا درست ادراک کرتے ہوئے قومی مفادات کا تحفظ یقینی بنا سکتی ہے۔ پاکستان کی قیادت یقینا اسی شعور کے ساتھ ان پیچیدہ حالات کاسامنا کررہی ہے۔

Comments are closed.