بشریٰ بی بی کی صحت پر تحریک انصاف کا شدید ردِعمل، خفیہ اسپتال منتقلی پر سوالات

Pakistan Tehreek-e-Insaf نے سابق خاتونِ اول بشریٰ بی بی کی صحت سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات پر شدید تشویش اور غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گزشتہ رات بشریٰ بی بی کو اچانک اور خفیہ انداز میں اسپتال منتقل کیا گیا اور بعد ازاں دوبارہ جیل واپس لے جایا گیا، جس پر کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔

تحریک انصاف کے مطابق پورا معاملہ غیر معمولی پراسراریت، غیر شفافیت اور انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں سے بھرپور ہے، جس نے عوامی سطح پر شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ پارٹی نے سوال اٹھایا کہ اگر بشریٰ بی بی کی طبیعت اس قدر خراب تھی کہ انہیں رات کے وقت فوری اسپتال منتقل کرنا پڑا تو حکومت اور جیل حکام اس حوالے سے مکمل تفصیلات قوم کے سامنے کیوں نہیں لا رہے۔

بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ عوام کو بتایا جائے کہ بشریٰ بی بی کو کس اسپتال منتقل کیا گیا، کون سے طبی معائنے اور ٹیسٹ کیے گئے، کن ڈاکٹروں نے ان کا معائنہ کیا اور کس بنیاد پر انہیں دوبارہ جیل منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ حکومتی خاموشی اس معاملے کو مزید مشکوک بنا رہی ہے۔

پارٹی نے دعویٰ کیا کہ بشریٰ بی بی کئی ماہ سے قیدِ تنہائی، ذہنی دباؤ اور غیر انسانی رویوں کا سامنا کر رہی ہیں جبکہ متعدد بار ان کی صحت کے حوالے سے خدشات کا اظہار بھی کیا جا چکا ہے۔ تحریک انصاف کے مطابق ان کے ذاتی معالجین کو رسائی نہ دینا، اہلِ خانہ سے ملاقاتوں میں رکاوٹ ڈالنا اور طبی معلومات کو خفیہ رکھنا انتہائی تشویشناک عمل ہے۔

تحریک انصاف نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بشریٰ بی بی کی مکمل اور شفاف میڈیکل رپورٹ فوری طور پر اہلِ خانہ اور قوم کے سامنے پیش کی جائے، ان کے ذاتی ڈاکٹروں کو بلا رکاوٹ رسائی دی جائے اور اہلِ خانہ کو فوری ملاقات کی اجازت فراہم کی جائے۔

پارٹی نے مزید مطالبہ کیا کہ Shifa International Hospital منتقل کر کے بشریٰ بی بی کو آزادانہ اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جائیں جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں اور آزاد میڈیکل بورڈ کو بھی ان کی صحت کا معائنہ کرنے کی اجازت دی جائے۔

Pakistan Tehreek-e-Insaf نے خبردار کیا کہ اگر خدانخواستہ بشریٰ بی بی کی صحت کو کوئی نقصان پہنچتا ہے تو اس کی مکمل سیاسی، اخلاقی اور قانونی ذمہ داری موجودہ حکومت، جیل حکام اور متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔

پارٹی نے قوم، انسانی حقوق کی تنظیموں، وکلاء برادری، سول سوسائٹی اور میڈیا سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے پر خاموش رہنے کے بجائے آواز بلند کریں کیونکہ ایک بیمار خاتون کے ساتھ غیر انسانی سلوک کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے باعثِ شرم ہے۔

Comments are closed.