کسٹم ہاؤس بلوچستان چاندی کی اینٹیں بدلنے کے بعد اب آج گودام میں پراسرار آتشزدگی، بڑے اسکینڈل کا خدشہ

بلوچستان کسٹم، جو پہلے ہی اربوں روپے مالیت کی چاندی کی اینٹیں مبینہ طور پر تبدیل کیے جانے کے سنگین اسکینڈل کی زد میں ہے، اب ایک نئے اور ہولناک تنازع کا شکار ہو گیا ہے جہاں لکپاس کسٹم گودام میں اچانک بھڑک اٹھنے والی آگ نے دراصل کرپشن کے ثبوت مٹانے کا کام کیا ہے۔ باوثوق ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ واقعہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ شواہد مٹانے کی ایک دانستہ اور منظم کوشش ہو سکتی ہے، کیونکہ اس آگ کے نتیجے میں کروڑوں روپے کا وہ سامان راکھ کا ڈھیر بن گیا ہے جو مختلف کارروائیوں میں ضبط کیا گیا تھا۔
گودام میں موجود قیمتی سامان جس میں غیر ملکی سگریٹ، چھالیہ، چائے، خشک دودھ اور دیگر قمیتی ترین اشیاء شامل تھیں مبینہ طور پر اصل اشیاء کو پہلے ہی مارکیٹ میں فروخت کیا جا چکا تھا اور اب سرکاری ریکارڈ کو برابر کرنے کے لیے آگ کا سہارا لیا گیا تاکہ تمام تر ثبوتوں کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے۔ اندرونی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ محکمے میں موجود چند مفاد پرست عناصر ایک منظم نیٹ ورک کے تحت کام کر رہے ہیں، جو بلوچستان بھر میں قبضے میں لی گئی قیمتی اشیاء کو جعلی یا کم تر معیار کے سامان سے بدل کر اسے سرکاری ریکارڈ کا حصہ بنا دیتے ہیں، جبکہ اصلی سامان ملی بھگت سے نجی منڈیوں میں فروخت کر دیا جاتا ہے۔
حال ہی میں چاندی کی اینٹوں کی تبدیلی سے جڑی جو داستان سامنے آئی تھی، اس کی انکوائری پہلے ہی جاری ہے مگر اب اس نئے واقعے نے تحفظات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اس تناظر میں ضرورت اس امر کی ہے کہ لکپاس گودام کی آگ کو چاندی کی اینٹوں کے اسکینڈل کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جائے اور ایک اعلیٰ سطحی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائے، جو گودام کی باقیات کا فرانزک آڈٹ کر کے یہ معلوم کرے کہ جلنے والا سامان وہی تھا جو ریکارڈ میں درج تھا یا صرف کچرا جلا کر خانہ پری کی گئی۔ کسٹم بلوچستان میں حالیہ واقعات کا یہ تسلسل ظاہر کرتا ہے کہ کرپشن کی جڑیں انتہائی گہری ہو چکی ہیں۔ اگر شفاف تحقیقات کے ذریعے کالی بھیڑوں کا احتساب نہ کیا گیا تو قومی خزانے کو پہنچنے والے اربوں روپے کے اس نقصان کا ازالہ نامکن ہو جائے گا۔

Comments are closed.