تحریر: ناصر محمود بٹ
ایرا ن اور امریکہ کے درمیان حالیہ جنگ دراصل اسرائیل کی کارگزاری اور اس کے مفادا ت سے جڑی ہوئی تھی، جو مشرق ِ وسطیٰ کی عدم استحکام کی ایک بڑی وجہ بنے ہوئے ہیں۔یہ معاملہ امریکہ کے گلے میں ہڈی کی طرح اٹک گیا ہے، امریکہ کو یہ باور کروایاگیا تھا کہ ایران چار دن کی مار ہے اور اس کے بعد معاملہ ختم ہوجائے گا، لیکن جب عملی طور پر مقابلہ ہوا تو امریکہ کو اندازہ ہوا کہ صورتحال اتنی سادہ نہیں۔ اسرائیل کو پہلے ہی معلوم تھا کہ وہ اکیلے کسی بڑی جنگ کا بوجھ نہیں اُٹھا سکتا، اسی لیے اس نے اپنے اتحادیوں کو بھی اس تنازع میں کھینچ لیا۔ امریکہ اور اسرائیل کی بمباری سے ایران کو یقینا نقصان پہنچا مگر ایران نے جو جوابی کاروائی کی اس نے امریکہ اور اسرائیل دونوں کو سخت مشکلات میں ڈال دیا اور یہ منظر پوری دنیا نے دیکھا اور اب تک دیکھ رہی ہے۔صرف دو ہفتوں کے اندر ہی امریکہ اس صورتحال سے تنگ آچکا تھا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے بھی اس معاملے سے باعزت طریقے سے نکلنے کے راستے تلاش کرنا ضروری ہوگیا تھا۔ ایک طرف سخت بیانات جاری رکھے گئے اور دوسری طرف کسی ایسے راستے کی تلاش شروع ہوئی جو بحران کو کم کرسکے۔ ایسے میں پاکستان ایک ممکنہ ثالث کے طور پر سامنے آیا، پھر یہ بات کہی گئی کہ جیسے امریکہ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں ثالثی کی کوشش کی تھی ویسے ہی اب پاکستان بھی اس معاملے میں کردار ادا کرے۔
چنانچہ پاکستان کے وزیراعظم، نائب وزیر اعظم اور پاکستان کے فیلڈ مارشل میدان میں آئے اور ایک تباہ کن جنگ کو مذاکرات کی میز تک لانے کی کوشش کی۔ان دنوں اسلام آباد عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے اور دنیا کے مختلف حلقے پاکستانی قیادت کی کوششوں کو تسلیم بھی کررہے ہیں اور ان سے اُمیدیں بھی وابستہ کیے ہوئے ہیں کہ شاید ان کی مخلصانہ کوششیں کوئی مثبت نتیجہ پیدا کردیں۔
اصل مسئلہ ان لوگوں کا ہے جو مختلف وجوہات کی بنا پر اس صورتحال کو برداشت نہیں کرپارہے، ایک طرف انہیں یہ خدشہ ہے کہ کہیں پاکستان کو اس عمل کے نتیجے میں کوئی بڑی عزت اور وقار نہ مل جائے(حالانکہ اصل عزت دینا صرف رب عظیم کے اختیار میں ہے) اور دوسری طرف انہیں یہ بھی اندیشہ ہے کہ ان کے دیرینہ اور منفی منصوبوں میں رکاوٹ پیدا نہ ہوجائے۔ اسی لیے امن قائم کرنے کی ہر کوشش کے راستے میں طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں اور بعض عناصر نہ خود سکون سے ہیں اور نہ دوسروں کو سکون سے رہنے دینا چاہتے ہیں۔
ایک طرف شیطانی چالیں ہیں اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی حکمت، یقینا آخر کار اللہ کی حکمت ہی غالب آئے گی البتہ موجودہ حالات میں صدر ٹرمپ ایک مشکل صورتحال میں پھنسے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ بظاہراس مشکل سے نکلنے کا راستہ بھی تلاش کرلیاگیا ہے “Islamabad Accord” کی شکل میں۔اب اللہ ہی خیر کرے۔کیونکہ تاریخی اعتبار سے یہودنصاریٰ آج تک کسی بھی معاہدے کی پاسداری کرتے نہیں ملتے۔
Comments are closed.