Trending
- وائٹ ہاؤس کے سالانہ صحافتی ڈنر میں فائرنگ، ڈونلڈ ٹرمپ بال بال بچ گئے، محفوظ مقام پر منتقل
- بدمست ہاتھی
- اسلام آباد معاہدہ: پاکستان کی سفارتی پیش رفت
- سی سی پی نے جاز انٹر نیشنل کو ٹی پی ایل انشورنس کے حصول کی منظوری دے دی
- سی ڈی اے مزدور یونین کا ورکرز ویلفیئر فنڈ کے تعلیمی فیصلے پر شدید احتجاج
- لیڈی کانسٹیبل عائشہ ریاض کے اغواء کا معاملہ: پولیس کی تحقیقات تیز
- آسٹریلیا میں پہلی بار خاتون آرمی چیف مقرر — تاریخ ساز فیصلہ
- کینیڈا کا امریکہ کو بڑا جھٹکا، دفاعی پالیسی میں اہم تبدیلی کا اعلان
- کینیڈا کا امریکہ کو بڑا جھٹکا، دفاعی پالیسی میں اہم تبدیلی کا اعلان
- ترکی کا اسرائیل کو سخت پیغام، جنگ بڑھی تو مداخلت کریں گے: صدر اردوان
اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت کی کہ وہ 24 مارچ کے حکم پر عملدرآمد کرے، جس کے تحت سابق وزیرِ اعظم عمران خان سے ہفتے میں دو بار ملاقاتوں کا شیڈول بحال کیا گیا تھا۔
اس موقع پر جنید اکبر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج بھی ملاقات نہیں دی تو میرا پارٹی کو مشورہ ہے ہم عدالتوں پر عدم اعتماد کریں، اگر عدالتیں انصاف نہیں دے سکتیں تو ان عدالتوں میں یونیورسٹیز کھولی جائیں کسی کا فائدہ ہوگا۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ افغانستان ہمارا سینٹرل ایشیا کا گیٹ وے ہے، خیبرپختونخوا کی بہترین تجارت ان کے ساتھ 78 سال سے ہوتی رہی ہے، قبائلی اپنے ملک، بارڈ سمیت اپنی حفاظت جانتے ہیں، 2001 کے بعد وہاں فوج آئی اور ملٹری آپریشن کے بعد وہاں حالات تھوڑے خراب ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں ڈیمانڈ کرتا ہوں کہ این ایف سی کا میٹنگ جلدی بلائیں اور ہمارا 350 ارب شیئر دیں، این ایف سی میں ہمارے بقایا جات 2200ارب سے زائد ہیں، یہ دہشت گردی ختم کرنے میں سیریس ہوتے تو ہمارے پیسے دیتے یہ سیدھی سیدھی ان کی بے حسی ہے۔

Comments are closed.