لاہو(سپیشل رپورٹر) لاہور میں بارش کا 30 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا، لکشمی چوک میں سب سے زیادہ 291 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔
لاہور سمیت پنجاب کے کئی شہروں میں گزشتہ رات شروع ہونے والی بارش کا سلسلسہ وقفے وقفے سے ابھی بھی جاری ہے، جس سے جل تھل ایک ہو گیا اور نشیبی علاقے زیر آب آ گئے ہیں۔مون سون کا طاقتور سپیل، لاہور میں کئی گھنٹوں کی نان سٹاپ طوفانی بارش نے 30 سالہ ریکارڈ توڑ دیا، سڑکیں تالاب بن گئیں، نشیبی علاقوں میں کئی فٹ پانی جمع ہو گیا، گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں ڈوب گئیں، شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ پنجاب کے دیگر کئی شہروں میں بھی بادل جم کر برسے ہیں۔لاہور میں سب سے زیادہ بارش لکشمی چوک کے علاقے میں ریکارڈ کی گئی، مذکورہ علاقے میں 291 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ صوبائی دارالحکومت کے بیشتر علاقوں میں 200 ملی میٹر سے زائد بارش ہوئی ہے۔دوسری جانب لیسکو کے متعدد فیڈرز ٹرپ کر جانے کی اطلاعات سامنے آئیں، فیڈرز ٹرپ ہونے اور دیگر تکنیکی خرابی کی وجہ سے متعدد علاقے بجلی سے محروم ہو گئے جس کے باعث شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ادھر شرقپور شریف میں بارش کے باعث بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی، چونیاں شہر اور اس کے مضافات میں موسلا دھار بارش ہوئی، جبکہ شیخوپورہ شہر اور گردونواح میں بھی موسلا دھار بارش سے گرمی کی شدت میں کمی آگئی۔دارالحکومت مظفرآباد سمیت آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں مون سون کی گزشتہ شام اور رات کے وقت ہونے والی بارش نے جل تھل ایک کردیا۔
Trending
- اسلام آباد معاہدہ: پاکستان کی سفارتی پیش رفت
- سی سی پی نے جاز انٹر نیشنل کو ٹی پی ایل انشورنس کے حصول کی منظوری دے دی
- سی ڈی اے مزدور یونین کا ورکرز ویلفیئر فنڈ کے تعلیمی فیصلے پر شدید احتجاج
- لیڈی کانسٹیبل عائشہ ریاض کے اغواء کا معاملہ: پولیس کی تحقیقات تیز
- آسٹریلیا میں پہلی بار خاتون آرمی چیف مقرر — تاریخ ساز فیصلہ
- کینیڈا کا امریکہ کو بڑا جھٹکا، دفاعی پالیسی میں اہم تبدیلی کا اعلان
- کینیڈا کا امریکہ کو بڑا جھٹکا، دفاعی پالیسی میں اہم تبدیلی کا اعلان
- ترکی کا اسرائیل کو سخت پیغام، جنگ بڑھی تو مداخلت کریں گے: صدر اردوان
- اسلام آباد کا ماحولیاتی بحران: سی ڈی اے انوائرمنٹ ونگ میں پیشہ ورانہ کمی کے سنگین انکشافات
- اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن، درجنوں مشکوک افراد حراست میں
لاہور بارش نے 30سالہ ریکارڈ توڑ دیا
Next Post
Comments are closed.