ریاستہائے امریکہ

تحریر: ناصر محمود بٹ

1776؁ء میں برطانیہ کے تسلط سے امریکہ نے آزادی پائی تو ریاستہائے امریکہ میں جلد ہی دو سیاسی جماعتوں نے عوامی حمایت حاصل کرلی۔ 1820؁ء میں Democratic Partyکی بنیادAndrew Jacksonنے رکھی۔ اس جماعت کا ابتدائی مقصد عا م لوگوں، خاص طور پرکسانوں اورمزدوروں کے حقوق کا تحفظ کرنا تھا، وفاق کی بجائے ریاستوں کے زیادہ اختیارات کو بڑھاوا دینا تھا، طاقت کا سرچشمہ اشرافیہ کی بجائے عام آدمی کو بنانا اور معاشی طور پر آسان اور عوام دوست حکمت ِ عملی کو فروغ دینا تھا۔ اسی وجہ سے اس جماعت کو عام آدمی کی جماعت تصور کیاجاتارہا۔
دوسری بڑی سیاستی جماعتRepublican Partyتھی جس کی بنیاد مشہور امریکن مسٹر ابراہیم لنکن نے رکھی۔ اس جماعت کا بنیادی ایجنڈا تھا کہ تمام ریاستوں کو ایک مضبوط وفاقی حکومت کے تحت متحد رکھا جائے اور تمام غلامی کی زنجیروں کو توڑ دیاجائے۔ معیشت کے فروغ کیلئے صنعتکاری کو اول ترجیح دی جائے۔ اس میں شک نہیں کہ کئی سوسال سے امریکی ریاستوں کا اختیار، ضبط یا نگرانی مذکورہ بالا دو جماعتوں کے درمیا دولاب(Pendulum)کی طرح منتقل ہوتی آرہی ہے۔ کبھی عوامی جھکاؤ بائیں بازو کی جماعتDemocratic Partyکی طرف رہا اور کبھی دائیں بازو کی جماعتRepublican Partyکی طرف رہا اور امریکہ دنیاوی اعتبار سے ترقی کی منازل طے کرتا ہوا سپرپاور کہلاتا رہا۔۔
ایک طرف انہیں سیاسی جماعتوں کا متحدہ امریکی ریاستوں میں اندرونی کردار کا معاملہ ہمیشہ دنیا بھر میں ذکر ہوتا رہا اور دوسری طرف جب انہیں دو جماعتوں کے فیصلو ں کو جنگوں کے آئینے میں جانچا جائے تو تصویر اک نیا رخ دکھاتی ہے۔ زیادہ دور کی بات نہیں، پہلی عالمی جنگ (Wilson Woodrow)کے دور سے لے کر جارج ڈبلیو بش، بارک اوباما تک اور پھر ڈونلڈ ٹرمپ جو آج تک سامراجی نظام کے نفاذ کی جدوجہد کرتے آئے ہیں، کسی بھی شعوری شخص یاملک سے ڈھکی چھپی نہیں۔ اپنا تسلط قائم کرنے کے لئے امریکی صدور ایک Pageپر ہی دکھائی دیئے۔ صرف اقتدار اور نظام پر قبضہ رکھنے کی خاطر اندرونی لڑائیوں کا ڈھونگ رچایا لیکن بیرونی دنیا میں حکمت ِ عملی جارحانہ اور غالبانہ ہی رہی۔ جاپان، ویتنام، عراق، لیبیاء، شام، لبنان، افغانستان سے لے کر آج فلسطین اور ایران تک بربریت کی تمام داستانوں کے پیچھے متحدہ ریاستوں کا کھیل ہی نمایاں ہے۔1900؁ء سے لیکر موجودہ حالات تک جنگوں کا احوال پڑھیں تو واضح پتہ چلتا ہے کہ قدرتی وسائل پر قابض ہونے کے ساتھ ساتھ جنگوں کا تعلق مذہب سے ہے جو صرف اور صرف مسلم ممالک کو کمزور کرنے کے لئے لڑ لی گئیں اور یقینا یہودونصارا اپنے مقاصد میں ابھی تک کامیاب دکھائی دیتے ہیں۔ پیغمبروں، رسولوں کی پیش گوئیوں (Prophecies)اور قرآن و حدیث کے تناظر میں بھی موجودہ حالات کا جائزہ لینے سے حقیقت واضح ہورہی ہے کہ آج کی جنگوں کا سلسلہ مذہبی اختلافات سے جڑا ہوا ہے جو قیامت تک تھمنے والا نہیں۔
اسلامی فکر اس پورے منظرنامے میں ایک واضح اصول پیش کرتی ہے کہ طاقت بذات ِ خود مقصدنہیں بلکہ ایک امانت ہے، جنگ صرف دفاع کے لیے جائز ہے، اور اس میں بھی عدل، انصاف اور انسانی جان کے احترام کو بنیادی حیثیت حاصل ہے، اسلام یہ نہیں سکھاتا کہ طاقت غالب آئے بلکہ یہ سکھاتا ہے کہ عدل قائم ہو، شہری آبادیوں پر اثر انداز ہونے والی جنگیں،معاشی پابندیاں اور جدید عسکری حکمت عملیوں کے اثرات اکثر عام انسان کو نشانہ بناتے ہیں، جس سے یہ سوال مزید اہم ہوجاتا ہے کہ کیاموجودہ عالمی نظام واقعی انصاف کی طرف بڑھ رہا ہے یا صرف مفادات کے گرد گھوم رہاہے۔یوں دیکھا جائے تو امریکی سیاست کی یہ دو بڑی جماعتیں محض نظریاتی اختلاف نہیں بلکہ ایک بڑے عالمی نظام کے مختلف انداز ِکار ہیں،مگر جنگوں کی تاریخ یہ سوال ضرور چھوڑ جاتی ہے کہ طاقت کے باوجود امن کیوں مستقل صورت اختیار نہیں کرپاتا، یہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ طاقت عارضی ہے، جبکہ انصاف اور عدل ہی وہ معیار ہیں جو کسی بھی نظام کو حقیقی استحکام دے سکتے ہیں۔

Comments are closed.