ٹریفک پولیس آفس کو ایک شخص نے تین دہائیوں سے یرغمال بنا لیا ہے

اسلام آباد(زور آور نیوز)تین دہائیوں سے ٹریفک پولیس میں مسلسل تعینات سب انسپکٹر محرر حاجی محمد رمضان اور اس کے ساتھیوں نے پورے سسٹم کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے حاجی محمد رمضان چھ بار سرکاری کھاتے میں حج بھی کر چکے ہیں ۔ٹریفک پولیس سے ملنے والے ریکارڈ کے مطابق حاجی رمضان کی پہلی تعیناتی 90 کی دہائی میں ہوئی تھی پھر اس کے بعد انہوں وفاقی پولیس کے کسی دوسرے شعبے میں جانے کا سوچا بھی نہیں ۔حاجی رمضان جب ہیڈ کانسٹیبل محرر تھا تو اس کے خلاف ایس پی اشفاق خان نے انکوائری کے بعد اس کی فائل پر لکھا کہ اس کو کسی بھی عوامی ڈیلنگ کے عہدے پر تعینات نہ کیا جائے لیکن اس حکم پر آج تک عمل نہیں ہو سکا ۔بعد ازاں خاتون کانسٹیبل کی طرف سے تنگ کرنے اور ہراساں کرنے کی درخواست آئی مگر حاجی رمضان کے سامنے یہ درخواسث غیرموثر ہو گئی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ موصوف نے سب انسپکٹر کے عہدے پر ترقی کے لئے امتحان دیا تو فیل ہو گئے اور آئی جی اسلام آباد جب چھٹی پر گئے تو ان کی عدم موجودگی میں حاجی رمضان کا امتحان سابق اے آئی جی اسٹیبلشمنٹ محمد رضوان نے لیکر فورآ پاس کر دیا۔اس کے باقی ساتھیوں میںمحمد حنیف تنولی اے ایس آئی پروٹوکول آفیسر ایس ایس پی ٹریفک 15سال سے زائد عرصے سے ٹریفک آفس میں تعینات۔امیر احمد خان اے ایس آئی وائرلیس آپریٹر 13سال سے زائد عرصے سے ٹریفک آفس میں ایک ہی سیٹ پر موجود لیاقت علی خان پروٹوکول آفیسر 10سال سے زائد عرصے ٹریفک آفس میں تعینات عبدالغفور ریڈر ایس پی ٹریفک ،لیاقت علی خان پروٹوکول آفیسر 15سال سے ٹریفک آفس میں اہم سیٹوں پر تعینات ہیں ،15سال سے زائد عرصے سے سیٹ پر قابض شاہد زمان تنولی ہیڈ کانسٹیبل آپریٹر ، شبیر خان لائن آفیسر جاوید ارشاد 10سال سے زائد عرصے سے ٹریفک آفس براجمان قابلیت کے باوجود روٹیشن پالیسی پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث سڑکوں پر تعینات ٹریفک اہلکار مایوسی کا شکار ہیں اور ٹریفک پولیس میں عام تاثر یہ ہے کہ یہ سب حاجی رمضان کے نیٹ ورک کا حصہ ہیں اورٹریفک پولیس پورا سال حاجی رمضان کو خوش رکھنے کے لئے "رمضان پیکج "کا اہتمام کرتے ہیں ۔حاجی رمضان کے پاس اس وقت تین گاڑیاں زیر استعمال ہیں اور سرکاری گاڑی مزدا صرف گھر کا سودا سلف لانے کے لئے رکھی ہوئی ہے۔اس حوالے مزید تحقیقات جاری ہیں ۔

 

Comments are closed.