تحریر : شکیل احمد
مبینہ طور پر جو جنگ ایپسٹین اور جنگی مجرم ٹرمپ نے نیتن یاہو کے حکم پر شروع کی، اس نے دنیا کو سیاسی اور اقتصادی طور پر تباھی سے دو چار کر دیا ہے۔ تاریخی طور پر امریکہ جنگوں اور ہتھیاروں کی تجارت کی وجہ سے سپر پاور ہے۔ پہلے یہ جنگ کے لیے اکساتا ہے اور دونوں فریقوں کو ہتھیار بیچتا ہے پھر سفارت کاری کا منافقانہ ڈرامہ کرکے تعمیراتی ٹھیکے لیے کر دوبارہ جنگ کے شعلے بھڑکاتا ہے۔ اسی طرح انکی معیشیت چلتی ہے۔ ایسا ہی انہوں نے جنوبی اور شمالی کوریا، چین اور ہندوستان، عرب اور ایران، پاکستان اور ہندوستان کی جنگوں میں کیا۔
اس کے علاوہ، انہوں نے ویتنام، افغانستان، فلپائن وغیرہ میں اپنی ذلت آمیز شکستوں سے کچھ نہیں سیکھا۔ یہاں تک کہ ان کے پاس دنیا بھر میں 800 فوجی اڈے ہیں جس سے وہ پراکسی لیڈروں اور خانہ جنگیوں کے ذریعے حکومتوں کو کنٹرول کرتے ہیں، لیکن وہ وہاں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے سیکورٹی فراہم کرنے کے لیے دنیا کو بے وقوف بنا رہے ہیں لیکن ان کی جنگ فروشی نے پوری دنیا کو میدان جنگ بنا دیا ہے۔
اب ایران کے خلاف جنگ سے امریکی سپر پاور کا زوال قریب ہے۔ انہوں نے ایرانیوں کی غیرت و بہادری کو نہیں سمجھا جنہوں نے 48 سالہ پابندیوں کے باوجود اپنی خود مختاری کا سودا نہیں کیا۔ ایران مسلم دنیا کا واحد ملک ہے جس نے کبھی امریکہ کی غلامی قبول نہیں کی۔ چنانچہ روس اور چین ہتھیاروں، انٹیلی جنس اور بیڈو سیٹلائٹ کے ذریعے ایران کی حمایت کر رہے ہیں تاکہ ایران کے ذریعے امریکہ کو معاشی اور سیاسی طور پر تباہ و برباد کیاجا سکے۔ ان کی مدد سے ایران نے خلیج میں امریکی اڈوں، سفارت خانوں، ریڈارز، میزائل شکن بیٹریوں اور لڑاکا طیاروں کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔ اس کے علاوہ ان عمارتوں، ہوٹلوں اور بنکروں کو نشانہ بنایا جو ان کے فوجی، سی آئی اے کے ایجنٹ اور ان کے کارندے استعمال کرتے ہیں۔
مزید ایران نے اسرائیل میں شدید نقصان پہنچایا۔ ڈی ونچی سڑک پر اسرائیلی ملٹری ہیڈکوارٹر، نیتن یاہو کا دفتر، ریڈارز، میزائل شکن بیٹریوں، ائیر پورٹ، فوجی بنکروں کی تباھی کے ساتھ بھاری جانی نقصان پھنچایا۔ نیتن یاہو کا غائب ہونا اور اسرائیلی جرنیلوں کی باڈی لینگویج سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیتن یاہو کی موت ہو چکی ہے۔ جبکہ وہ AI ویڈیوز میں زندہ نظر آتا ہے۔ اسرائیل اور خلیج میں سخت میڈیا سنسر شپ کی وجہ سے اصل نقصان کا پتہ نہیں لگتا۔ اگرچہ درست اعداد و شمار پتہ نہیں، لیکن نقصانات بتاتے ہیں کہ ایرانی حملوں میں تقریباً 200 امریکی، 500 اسرائیلی اور 250 عرب مارے گئے۔ جبکہ ایران میں 15,000 اہداف کو نشانہ بنایا جاتا ہے جن میں اسکول، ہسپتال، ریفائنری، ہوائی اڈے وغیرہ شامل ہیں جس سے تقریباً 1500 افراد شہید ہوئے اور 16000 زخمی ہوئے۔ جب کہ لبنان پر اسرائیلی بمباری سے تقریباً 1000 افراد شہید، 3000 زخمی اور 30 لاکھ سے زائد بے گھر ہوگئے ہیں۔
جنگ میں اپنی ناکامی کو دیکھتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل نے عربوں اور یورپی ممالک کو جنگ میں گھسیٹنے کی کوشش کی۔ ان کو اکسانے کے لیے انہوں نے خلیجی ہوائی اڈوں اور ریفائنریوں اور ترکی، برطانیہ اور آذربائیجان کے اڈوں پر جعلی آپریشن کیے۔ لیکن لگتا ہے کہ امریکہ کی کئی دہائیوں کی غلامی کے بعد اب عرب اور یورپی ممالک اپنی بقا کے لیے کھڑے ہوتے نظر آرہے ہیں۔ کیونکہ امریکہ نے جنوبی کوریا سے اپنی فوجیں اور اینٹی میزائل نکال کر انہیں شمالی کوریا کے رحم وکرم پر چھوڑا، اپنے طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن کو خلیج میں لا کر تائیوان کو چین کے خلاف بے سہارہ چھوڑا اور گلف سے اپنی آدھی فوج نکال کر عربوں کو ایران کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ امریکہ صرف اسرائیل کے لیے جیتا اور مرتا ہے۔ اسی وجہ سے یورپی ممالک نے ٹرمپ کو 2 ہفتوں سے بند آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے اپنے جنگی جہاز بھیجنے سے انکار کر دیا۔ بلکہ وہ اپنے جہازوں کو اجازت دینے کے لیے ایران کی منتیں کر رہے ہیں اور تیل، گیس اور دفاع کے لیے روس اور چین سے مذاکرات کر رہے ہیں۔ اسلئے لگتا ہے کہ اب معاشی اور سیاسی بقا کے لیے، خلیج اور یورپ میں نئے سیکورٹی اتحاد جلد ابھریں گے۔
پاگل اور انسان دشمن ٹرمپ کی وجہ سے تیل کی قیمتیں قابو نہیں آرہیں، سٹاک مارکیٹ کریش کر رہی ہے، مہنگائی بڑھ رہی ہے اور پناہ گزینوں کا ایک سمندر بپا ہے۔ نہ گھر، نہ خوراک نہ دوا، صرف جنگ و تباھی کب تک۔ بہت ہو چکا۔ دنیا کو اب ٹرمپ کے خلاف متحد ہو کر امریکیوں پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ اسکی صدارت ختم کریں۔
بصورت دیگر، ٹرمپ یا نیتن یاہو ایران پر جوہری بم استعمال کریں گے اور بدلے میں WWIII کی وجہ سے دنیا ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی۔ مذید یہ کہ، ٹرمپ پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ ایران کی جنگ بندی کے لئے جائز مطالبات کو قبول کرے۔ جیسا کہ اس پر سے پابندیاں ہٹائی جائیں، توانائی کے لیے جوہری پروگرام کی اجازت دی جائے، مستقبل میں اس پر حمہ نہ کرنے کی ضمانت دی جائے اور خطے میں موجود تمام امریکی اڈے ختم کیے جائیں۔
دنیا و انسانیت کی بھلائ کے لیے ٹرمپ اور نیتن یاہو سے فورا استفع مانگا جائے۔ Enough is Enough
Comments are closed.