سرورفاؤنڈیشن

KAONAIN ... MUHAMMAD Nasir Iqbal Khan

KAONAIN ... MUHAMMAD Nasir Iqbal Khan

قیام پاکستان سے اب تک آنیوالی مختلف زمینی اورآسمانی آفات وبلیات کے باوجود مادروطن پرمعبود برحق کامہربان اور کاوجودبرقراررہنایقینا بانیان پاکستان کی کلمہ طیبہ کے نام پرسیاسی”سعادتوں“، بینظیر ”شہادتوں“ اور قابل قدر قربانیوں کاشیریں ثمر ہے۔ الحمدللہ ابھی اس پاک سرزمین سے نیک نیت،نیک سیرت اور در د مند انسان ختم نہیں ہوئے، یہ وہ نیک بخت لوگ ہیں جوحقوق اللہ اداکرنے کے ساتھ ساتھ حقوق العباد سے بھی چشم پوشی نہیں کرتے۔پاکستان میں جہاں مخصوص بااثر لوگ”زر“اور”زور“کے بل پرمعاشرے کے کمزوروناتواں انسانوں کواپنے زیرکرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے وہاں ایک روشن خیال اورزندہ ضمیرطبقہ وہ بھی ہے جو متعدد رکاوٹوں اورشدیددشواریوں کے باوصف اپنے ہم وطنوں کیلئے آسانیاں پیدا اورانہیں زندگی سے بھرپور توانائیاں فراہم کرتا ہے۔جودوسروں میں آسانیاں تقسیم کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان”اہل“ شخصیات کی اپنی زندگی بھی”سہل“ہوتی چلی جاتی ہے۔ثروتمند شخصیات کے صدقات وعطیات سے مستفیدہونیوالے مستحق افراد کی دعا ؤں میں بہت اثرہوتا ہے جو ڈونرز کوکئی خطرات،زمینی وآسمانی آفات اوردلخراش اموات سے بچانے کیلئے ڈھال بن جا تی ہیں۔زندگی کی بنیادی ضروریات کیلئے کسی نہ کسی انداز میں تجارت توسبھی کرتے ہیں لیکن اللہ ربّ العزت کے ساتھ تجارت زیادہ منفعت بخش ہے۔ روحانیت،راحت اورفرحت والی زندگی جبکہ نیک نام شخصیات کے نیک انجام کا راز انسانیت کے ساتھ محبت اورانسانوں کی خدمت میں پنہاں ہے۔یہ لوگ کسی صلہ اورستائش کی امید کے بغیر دوسروں کی خوشی غمی میں شریک ہوتے ہیں۔دوسروں کی محرومیوں کامداوا اور ان کی اشک شوئی کرنیوالے معاشرے کے منتخب ومحبوب افراداورنجی فلاحی اداروں کادم غنیمت ہے، اللہ تعالیٰ غیب سے ان کی مدد کے اسباب پیدافرماتے ہیں۔یقیناایک صادق اورصدیق مسلمان کیلئے اس کے معبود ِبرحق کی رضاسے بڑھ کراس ”کونین“میں کوئی اطمینان، انعام اورافتخار نہیں ہوسکتا۔ جو صرف اورصرف صلہ رحمی کے تحت محروم مسلمان بھائی بہنوں کی مددکرتے ہیں عہدحاضرمیں ان کا کوئی متبادل نہیں۔  ملک عزیزپاکستان روحانی اور وجدانی اعتبار سے بہت زرخیز ہے۔جوزمین پراللہ سبحانہ وتعالیٰ کے بندوں کی پیاس بجھاتااورانہیں سیرا ب کرتا ہے وہ روزمحشر سرورکونین حضرت سیّدنا محمدرسول اللہ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ واصحبہٰ وبارک وسلم کے دست مبارک سے جام کوثر نوش کرے گا۔

18  اگست  1952 ء  کو پیداہونیوالے چوہدری محمدسرور کے باپ دادا جالندھر سے ہجرت کرکے پاکستان میں فیصل آبادکے ایک سرسبزوشاداب گاؤں میں آباد ہوئے تھے،یوں  1976ء  میں چوہدری محمدسرورکو اپنے اہل خانہ سمیت ہجرت کرتے ہوئے پاکستان سے برطانیہ جانا پڑا،جہاں انہوں نے انتھک محنت سے تجارت اورسیاست کے میدان اورمنتخب ایوان میں اپنامنفرد نام اورمقام بنایا۔ برطانیہ میں ان کی سیاست انتہائی بلندیوں پرتھی لیکن وطن اورہم وطنوں کی محبت انہیں  2013ء  میں مستقل پاکستان واپس لے آئی۔ چوہدری محمدسرور نے  15اگست 2013ء سے  29  جنوری2015ء  کے دوران بحیثیت گورنر پنجاب مادروطن کی آئی سی یومیں پڑی نحیف معیشت کو جی ایس پلس ا سٹیٹس کی صورت میں آکسیجن کی فراہمی کیلئے اپنا کلیدی کرداراداکیا تھا، ان کایہ کام انہیں دوسرے گورنرز سے منفرداورممتاز کرتا ہے۔ قومی سیاست میں نظریاتی اقدار کے فروغ اور معیشت کی مضبوطی کیلئے ان کی گرانقدر خدمات ناقابل فراموش ہیں۔چوہدری محمدسرور کی شخصیت ”ثروت“ اور”مروت“ کی آئینہ دار ہے۔ ان دنوں وہ سیاست سے زیادہ انسانیت کی خدمت میں پیش پیش ہیں، اس طرح کی سنجیدہ اورفہمیدہ باصلاحیت سیاسی قیادت کاضیاع ریاست کی بدقسمتی ہے۔سرورفاؤنڈیشن(رجسٹرڈ) کی فلاحی سرگرمیوں کے میدان میں ”سروری“ اور”برتری“سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔اللہ ربّ العزت نے پاکستانیت کے علمبردار اور انسانیت کے غم خوار چوہدری محمدسرور کو اپنے نادارومفلس بندوں کی خدمت کیلئے منتخب کرلیا ہے کیونکہ خالق کی مشیت اور توفیق کے بغیر کوئی انسان اس کی مخلوق کی ضروریات پوری نہیں کرسکتا۔ وہ سرورفاؤنڈیشن کے پلیٹ فارم سے متعدد فلاحی منصوبوں کے روح رواں اورانسانیت کی خدمت کیلئے رواں دواں ہیں،وہ مسلسل کئی برسوں سے معاشرے کے مستحق طبقات کو پینے کے صاف پانی سمیت تعلیم اورصحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی یقینی بنارہے ہیں۔سرورفاؤنڈیشن کی مدبرومخلص قیادت مستحق افراد کی کوئی بھی ضرورت پوری کرتے وقت ان کی عزت نفس کا بھی بہت خیال رکھتی ہے۔ملک بھر میں ”سرورفاؤنڈیشن“کے متعدد فلاحی مراکز کام کررہے ہیں،ان کے”منصوبوں“ نے چاروں ”صوبوں“ کو مضبوطی سے آپس میں جوڑدیا ہے۔ چوہدری محمدسروراوران کی باوفاوباصفا اہلیہ بیگم پروین سرور کو”تشہیر“ نہیں ”تعمیر“  پسند ہے، وہ خوشی خوشی مگرخاموشی سے ضرورت مندوں اورمحتاجوں کی مدد کرتے ہیں۔ سرورفاؤنڈیشن کے تعلیمی اورطبی مراکز میں آنیوالے مستحق پاکستانیوں کو کسی امتیاز کے بغیر جدیدتعلیمی وطبی سہولیات اورمفت ادویات فراہم کی جاتی ہیں۔اس ہوشربا مہنگائی کے دور میں ان گرانقدر خدمات کے بدلے میں مستحقین ومفلسین سے صرف ڈونرز کیلئے خصوصی دعاؤں کاتقاضاکیا جاتا ہے۔ چوہدری محمدسرور کی سنجیدہ اور سحر انگیز شخصیت اورانسانیت کیلئے انتھک خدمات نے سرورفاؤنڈیشن سے منظم و متحرک ”ٹرسٹ“کو”ٹرسٹ وردی“ بنادیا ہے۔ سرورفاؤنڈیشن کی انتظامیہ کی طرف سے مختلف آبادیوں میں عا م عوام کیلئے پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے ان گنت فلٹریشن پلانٹس کے قیام کومستحسن اقدام کہنا بیجانہیں ہوگا، جو یقینا سرورفاؤنڈیشن سے وابستہ مستقل مزاج اور مخلص ڈونرز سمیت ان کے ماں باپ اور اہل خانہ کیلئے بہت بڑاصدقہ جاریہ ہے۔پانی اورپیاس کی اہمیت کوسمجھنا ہوتوحضرت امام حسین ؑ اوران کے پیاروں کی شہادتوں کویادکرناکافی ہوگا۔ سرورفاؤنڈیشن کی انتظامیہ نے متعددبیوہ خواتین اوریتیم بچوں کی کفالت کابیڑااٹھایاہے،وہ ناخواندگی اورپسماندگی پرکاری ضرب لگارہے ہیں۔ یتیموں کے سرپردست شفقت رکھنا اوران کی کفالت کرنااللہ عزوجل اوراس کے محبوب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحبہٰ وبارک وسلم کوبیحدپسندہے۔
یتیمی ساتھ لاتی ہے زمانے بھر کے دکھ
سناہے باپ زندہ ہوتوکانٹے بھی نہیں چبھتے
سرورکونین حضرت سیّدنا محمد رسول اللہ خاتم الاانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ واصحبہٰ وبارک وسلم نے ارشاد فرمایاتھا ”وہ شخص مومن نہیں جوخودتوپیٹ بھر کے کھاناکھائے اوراس کاپڑوسی جواس کے پہلومیں رہتاہے وہ بھوکا رہے”۔ تاجدارانبیاحضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ واصحبہٰ وبارک وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایاتھا ”احسان کرنے میں تین ہاتھ کام کرتے ہیں،اللہ تعالیٰ کاہاتھ سب سے اوپرہوتا ہے،اس سے ملاہواہاتھ دینے والے کاہاتھ ہوتا ہے اورسب سے نیچے وصول کرنیوالے کاہاتھ ہوتا ہے لہٰذاء زیادہ احسان کیا کرواور بخیلی نہ کیا کرو”۔حضرت امام محمدباقر  ؑنے فرمایاتھا ”چھپا کرصدقات دینا فقروتنگدستی کودورکرتا ہے،زندگی کوبڑھاتا ہے اورسترقسم کی بری اموات سے بچاتاہے ”۔امام علی رضا  ؑ نے فرمایاتھا ”وہ شخص جوصلہ رحمی کرے اس کی عمر تین سال باقی ہے تواللہ تعالیٰ اس کی عمرتیس برس کردیتا ہے اوراللہ تعالیٰ جوچاہتا ہے انجام دیتا ہے”۔دانابزرگ اشفاق احمدخان  ؒ کاکہنا تھا”ہم میں سے وہ زندہ رہے گاجو قلوب میں زندہ رہے گااورقلوب میں وہی زندہ رہتا ہے جودوسروں میں آسانیاں تقسیم کرے ”۔واصف علی واصف ؒ کاقول ہے، ”ایسے افراد کی مددکروجن کی زبان بے سوال مگران کاچہرہ سوال ہوتا ہے “۔سرور فاؤنڈیشن کے پرعزم اورپرجوش روح رواں چوہدری محمدسرور کے ہاں کسی ضرورتمند کوسوال نہیں کرناپڑتابلکہ وہ خود سفیدپوش افراد کی مدد کیلئے انہیں تلاش کرتے اوراپنے ٹیم ممبرز کے ساتھ ان کی دہلیز تک جاتے ہیں۔ ان کی طرف سے ماہانہ بنیادوں پر ہزاروں طلبہ وطالبات کے تعلیمی واجبات اداکئے جاتے ہیں،انہیں قلم کتاب اورکاپیاں فراہم کرنابھی سرورفاؤنڈیشن کی قیادت کے نزدیک ان کافرض منصبی ہے۔یادرکھیں اگردستیاب مال سے سخاوت نہ کی جائے تووہ انسان کیلئے وبال جان بن جاتا ہے۔ ہم انسانوں کامال ہماری قبورمیں ساتھ نہیں جاتا لیکن ہمارے نیک اعمال ضرورقبرسے حشر تک ساتھ جاتے اورہمیں جہنم کی آگ سے بچاتے ہیں۔مال سے مزید مال بناناکوئی بڑا کمال نہیں بلکہ انسانیت دوست چوہدری محمدسرور اورسرورفاؤنڈیشن کے سراپااخلاص ڈونرز کی طرح ”مال“ کو”اعمال“ اورآتش جہنم کیلئے ”ڈھال“ کاذریعہ بنانازیادہ منفعت بخش سوداہے۔ جوانسان مال بٹورنے کی بجائے اعمال جوڑنے کی ”ہوس“ رکھیں وہ زندگی بھر کبھی ناکام ونامرادنہیں ہوتے۔ چوہدری محمدسرور اوربیگم پروین سرور کی طرح جودانالوگ اپنے آس پاس ضرورت مندافرادکی خالی جھولیاں اوران کاپیٹ بھر تے ہیں ان کااپنادامن یاآنگن کبھی بھی”رحمت الٰہی“ اور”نعمت الٰہی“ سے خالی نہیں ہوتا۔ سرورفاؤنڈیشن کی طرف سے خدمت خلق کاانتھک سفرپچھلی کئی دہائیوں سے جاری ہے،ان کی خدمات سے مستفیدہونیوالے زیادہ ترلوگ تو چوہدری محمدسرور کی صورت اورنام تک سے واقف نہیں ہیں، بیشک صلہ رحمی اسی کانام ہے۔جونیکیاں کرکے دریامیں ڈال دی جاتی ہیں،اللہ پاک انہیں رد نہیں فرماتا۔زکوٰۃ،صدقات،عطیات اورسخاوت پرسیاست چمکانے والے لوگ شہرت کے روگ میں گرفتارہوجا تے ہیں۔ چوہدری محمدسرور کوعبدالستار ایدھیؒ کاجانشین بھی کہا جاسکتا ہے۔وہ اپنے فلاحی منصوبوں کی تشہیر پسندکرتے ہیں لیکن پھر بھی ان کا کام بولتا ہے۔ کئی ملین مستحق خاندان کئی دہائیوں سے ”سرورفاؤنڈیشن“ کی سماجی خدمات اوراصلاحات کے ثمرات جبکہ ڈونرز اپنے دونوں ہاتھوں سے ان کی”دعاؤں“ اور”وفاؤں“ کانذرانہ سمیٹ رہے ہیں۔اگر”زندگی“ میں ”بندگی“ کا”رنگ“ نہ ہوتوقلوب کا”زنگ“ صاف نہیں ہوتا۔

Comments are closed.