اسلام آباد میں برطرف کانسٹیبل کی خودکشی، محکمانہ بے حسی اور نظام پر سنگین سوالات

اسلام آباد پولیس کے برطرف کانسٹیبل کی خودکشی، محکمانہ بے حسی پر سوالات اٹھ گئے

ملزم کے فرار پر نوکری سے برطرفی، بحالی کی اپیلیں نظر انداز، مالی و ذہنی دباؤ جان لے گیا
وفاقی دارالحکومت میں اسلام آباد پولیس کے ایک برطرف کانسٹیبل کی خودکشی کے افسوسناک واقعے نے محکمانہ نظام، اہلکاروں کی فلاح و بہبود اور افسران کے رویے پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق کانسٹیبل امجد صدیق (نمبر 8390) نے مبینہ طور پر خودکشی کر لی۔ اطلاعات کے مطابق چند روز قبل حوالات لے جانے والی پولیس گاڑی سے ایک ملزم فرار ہو گیا تھا، جس کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کانسٹیبل کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا تھا۔
مزید بتایا گیا ہے کہ کانسٹیبل امجد صدیق طویل عرصے تک برطرفی کا سامنا کرتے رہے۔ بعد ازاں فرار ہونے والا ملزم دوبارہ گرفتار بھی ہو گیا، تاہم اس کے باوجود مرحوم کی ملازمت بحال نہ کی جا سکی۔ وہ مسلسل اعلیٰ حکام سے اپیلیں کرتے رہے لیکن ان کی شنوائی نہ ہو سکی۔
قریبی ذرائع کے مطابق بے روزگاری، شدید مالی مشکلات اور ذہنی دباؤ کے باعث کانسٹیبل شدید پریشانی کا شکار تھے، جس کے نتیجے میں انہوں نے انتہائی قدم اٹھایا۔
اس افسوسناک واقعے کے بعد پولیس ڈیپارٹمنٹ میں اہلکاروں کے ساتھ رویے، انصاف کی فراہمی اور فلاحی نظام پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ مختلف حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داران کا تعین کرتے ہوئے مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

Comments are closed.