ایران جنگ سے عرب معیشت کو 186 ارب ڈالر نقصان، عالمی بحران سنگین ہونے لگا

اقوام متحدہ کی وارننگ، جنگ بندی میں تاخیر سے عالمی معیشت متاثر، لاکھوں نوکریاں خطرے میں

نیویارک: اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل عبداللّٰہ درداری نے خبردار کیا ہے کہ ایران سے جاری جنگ کے باعث صرف ایک ماہ میں عرب ممالک کو 186 ارب ڈالر کا بھاری معاشی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مشرقی بحیرۂ روم کے خطے میں یہ نقصان تقریباً 30 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ جنگ بندی میں ہر دن کی تاخیر عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔

عبداللّٰہ درداری کے مطابق ایک ماہ کی جنگ کے نتیجے میں عرب خطے کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں تقریباً 6 فیصد کمی کا خدشہ ہے، جو ایک سنگین معاشی بحران کی نشاندہی کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عرب ممالک میں تقریباً 37 لاکھ نوکریاں ختم ہونے کا اندیشہ ہے، جبکہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران 40 لاکھ افراد غربت کی لکیر سے نیچے جا چکے ہیں یا جانے کے خطرے سے دوچار ہیں۔

دوسری جانب مشرق وسطیٰ کے بحران کے باعث اب تک 12 ملین بیرل یومیہ سے زائد تیل کی سپلائی متاثر ہو چکی ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں بے یقینی بڑھ گئی ہے۔

عالمی توانائی ایجنسی کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ اپریل میں تیل کی سپلائی میں نقصان مارچ کے مقابلے میں دگنا ہونے کا خدشہ ہے۔

رپورٹس کے مطابق مشرق وسطیٰ میں تقریباً 40 اہم توانائی تنصیبات کو نقصان پہنچ چکا ہے، اور ماہرین اس بحران کو 1970 کی دہائی کے تیل بحران اور 2022 میں روسی گیس سپلائی میں کمی سے بھی زیادہ سنگین قرار دے رہے ہیں۔

Comments are closed.