ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے اسرائیل کو ایک نہایت سخت اور واضح پیغام دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی کم نہ ہوئی تو ترکی عملی اقدامات سے بھی گریز نہیں کرے گا۔
صدر اردوان نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ “اسرائیل آگ سے کھیلنا بند کرے، ورنہ اسے عبرتناک سبق سکھایا جائے گا”۔ انہوں نے زور دیا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ بن چکی ہے۔
لبنان اور ایران پر حملہ، ترکی پر حملہ تصور ہوگا
ترک صدر نے مزید کہا کہ اگر اسرائیل نے لبنان یا ایران پر کسی بھی قسم کی جارحیت کی، تو ترکی اسے براہِ راست اپنے خلاف حملہ تصور کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکی اپنے اتحادیوں اور خطے کے امن کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کے لیے تیار ہے۔
جنگ جاری رہی تو اسرائیل پر حملہ فرض ہوگا
صدر اردوان نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ اگر جنگ کا سلسلہ جاری رہا اور امن قائم نہ ہو سکا، تو اسرائیل کے خلاف کارروائی کرنا ترکی کا فرض بن جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکی کسی بھی ناانصافی اور ظلم کے خلاف خاموش نہیں بیٹھے گا۔
کارا باغ اور لیبیا جیسی مثالیں دیں
اپنے مؤقف کو مزید واضح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ
“جس طرح ہم کارا باغ اور لیبیا میں داخل ہوئے، اسی طرح اسرائیل کے معاملے میں بھی قدم اٹھا سکتے ہیں”۔
یہ بیان ترکی کی ممکنہ فوجی حکمت عملی کی طرف اشارہ کرتا ہے، جس نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کر لی ہے۔
پاکستان کی ثالثی کا ذکر
صدر اردوان نے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان ثالثی کا کردار ادا نہ کر رہا ہوتا، تو ترکی اب تک عملی اقدام اٹھا چکا ہوتا۔ انہوں نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا اور امن کے قیام کے لیے اسے اہم قرار دیا۔
نیتن یاہو پر شدید تنقید
ترک صدر نے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ
“نیتن یاہو خون اور نفرت میں اندھا ہو چکا ہے”۔
انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر مداخلت کرے اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔
نتیجہ
ترکی کے صدر کا یہ بیان نہ صرف مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ آنے والے دنوں میں ممکنہ بڑے سفارتی اور عسکری اقدامات کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ کشیدگی کم ہوگی یا مزید شدت اختیار کرے گی۔
Comments are closed.