اسلام آباد(وقائع نگار) وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سیلاب متاثرین کے ہاؤسنگ منصوبہ کیلئے 50 ارب کا تخمینہ رکھا گیا ہے، ہاؤسنگ منصوبہ کیلئے 25 ارب وفاقی حکومت دے گی، بلوچستان کے تمام امور اتفاق رائے سے حل کیے گئے ہیں۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اچھے کام کی نیت کریں تو اللہ تعالیٰ مدد کرتا ہے، مستحق خواتین کی مالی مدد حکومت کی ذمہ داری ہے، تقریباً 100 ارب روپے سیلاب متاثرین کیلئے فوری ضرورت تھی، 100ارب روپے سیلاب متاثرین کا حق تھا، حالیہ سیلاب سے سندھ زیادہ متاثر ہوا، سیلاب متاثرین میں 80 ارب روپے تقسیم کیے گئے۔وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ سیلاب سے پاکستان کو 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، سندھ کے سیلاب متاثرین کیلئے 16.3 ارب ڈالر کا ماسٹر پلان بنایا جائے گا، بجٹ پاس ہونے کے بعد ماسٹر پلان بنایا جائے گا، سیلاب متاثرین کو بالکل نہیں بھولیں گے، سیلاب متاثرین کی مکمل بحالی کیلئے 16.3 ارب ڈالر کی ضرورت ہے، گیارہ بلین ڈالر کے سیلاب زدہ علاقوں میں منصوبے ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ سیلاب متاثرین کی امداد کے حوالے سے این ڈی ایم اے کیلئے 12 ارب روپے کی منظوری دی، سندھ حکومت نے سیلاب متاثرین کیلئے ہاؤسنگ منصوبہ بنایا ہے، کے فور منصوبہ کیلئے بھی وفاقی حکومت سندھ حکومت کے ساتھ تعاون کرے گی، کے فور منصوبے کیلئے 3 بلین ڈالر سندھ، 3 بلین ڈالر وفاق دے گا، اچھے فیصلے ہوئے ہیں جو قومی اسمبلی کے سامنے رکھ دیئے ہیں۔
Trending
- اسلام آباد کا ماحولیاتی بحران: سی ڈی اے انوائرمنٹ ونگ میں پیشہ ورانہ کمی کے سنگین انکشافات
- اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن، درجنوں مشکوک افراد حراست میں
- ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی: حقیقت، بیانیہ اور زمینی صورتحال کا جائزہ
- پرویز الٰہی کی پی ٹی آئی سے علیحدگی اور پیپلز پارٹی میں شمولیت؟ اہم سیاسی پیش رفت کی اطلاعات
- سی ڈی اے بھرتیاں: نسٹ (NUST) کا شفاف ترین انتخابی عمل ‘اپنوں’ کی بھینٹ چڑھنے کا خدشہ
- کسٹم کلکٹریٹ سرگودھا میں کرپشن اور سرکاری سامان کی غیر قانونی فروخت کا انکشاف
- سی سی پی نے ”آئس کریم“کیس میں 35 ملین روپے جرمانہ وصول کر لیا
- ایران جنگ سے عرب معیشت کو 186 ارب ڈالر نقصان، عالمی بحران سنگین ہونے لگا
- امریکا کی ایران حکمت عملی ناکام، بدلتے اہداف پر ماہرین کے سوالات
- ای چالان کے نام پر جعلی SMS فراڈ، سیف سٹی کی وارننگ — شہری محتاط رہیں
Comments are closed.