سانحہ کربلا اور شہادت امام حسین رضی اللہ عنہ

تحریر :محمد نفیس دانش

تاریخ عالم کا ورق ورق انسان کے لئے عبرتوں کا مرقع ہے ۔ بالخصوص تاریخ کے بعض واقعات اور سانحات تو انسان کے ہر شعبہ زندگی کے لئے ایسے عبرت ناک ہیں کہ جن سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا ۔ انہیں واقعات میں سے ایک واقعہ میدانِ کربلا میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت کابھی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو وجود بخشا ہے اس وقت سے لے کر آج تک اور شاید قیامت کی صبح تک کوئی ایسا واقعہ رُونما نہ ہوکہ جس پر خود تاریخ کو بھی رونا آگیا ہو ، لیکن امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا سانحہ ایسا درد ناک اور اندوہ ناک سانحہ ہے کہ جس پر انسانوں کی سنگ دل تاریخ بھی ہچکیاں لے لے کر روتی رہی ہے۔ اس میں ایک طرف ظلم و ستم ، بے وفائی و بے اعتنائی اور محسن کشی و نسل کشی کے ایسے الم ناک اور درد انگیز واقعات ہیں کہ جن کا تصور کرنا بھی آج کل ہم جیسے لوگوں کے لئے ناممکن ہے ۔ اور دوسری طرف اہل بیت اطہار ، رسول پاک  کے چشم و چراغ اور اُن کے ستر، بہتر متعلقین کی ایک چھوٹی سی جماعت کا باطل کے مقابلہ کے لئے ثابت قدمی اور جان نثاری جیسے ایسے محیر العقول واقعات ہیں کہ جن کی نظیر تمام عالم انسانیت کی تاریخ میں ملنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے.

یہ پڑھیں: حفصہ کی تحریر کردہ امید کی بہار


جب حضرت حسین رض پیدا ہوئے تو ان کا نام خود نبی کریم ﷺ نے حسین رض رکھا ، وہ بچپن سے ہی نیک سیرت انسان تھے ، نبی کریم ﷺ حضرت حسین رض سے بے پناہ محبت کرتے تھے ، حضرت حسین رض نبی کریم ﷺ کے مشابہ تھے ، یعنی نبی کریم ﷺ سے سب سے زیادہ چہرہ و جسم حضرت سیدنا حسین رض کا ملتا تھا ، جب حضرت حسین رض کی عمر مبارک تقریبآ 8 برس ہوئی تو نبی کریم ﷺ 11 ھجری میں رحلت فرما گئے ، 8 سال کے بچے کی بات کا عمومی طور پر زیادہ اعتبار نہیں ہوتا ، لیکن یہ حضرت حسن رض و حضرتِ حسین رض کا اعزاز ہے کہ ان سے کم عمری میں نقل کی گئیں احادیث بھی بلا شک و شبہ صحیح تسلیم کی جاتی ہیں ، نبی کریم ﷺ کی رحلت کا صدمہ ابھی کم بھی نہ ہوا تھا کہ صرف 6 ماہ بعد حضرت حسین رض کی والدہ محترمہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا بھی وصال ہوگیا ، والدہ کا انتقال کتنا بڑا صدمہ ہے ، اس کا اندازہ انہیں کو ہوتا ہے کہ جن کی والدہ دنیا سے رخصت ہو جاتی ہیں ، حضرت سیدنا حسن رض و حضرت حسین رض نے بچپن میں اس صدمے کو برداشت کیا ، حضرت حسین رض کی ولادت پر نبی کریم ﷺ  بہت مسرور ہوئے تھے ، حضور اکرم ﷺ نے اپنے دہن مبارک سے کجھور چباکر تحنیک فرمائی اور برکت کے لیے اپنے لعابِ دہن کو نواسے کے منہ میں ڈالا ، حضرت حسین رض کے جسم مبارک میں نبی کریم ﷺ و حضرت علی رض کا لہو پہلے سے گردش کر رہا تھا اب گٹھی بھی نبی کریم ﷺ  کے لعاب مبارک کی مل گئی ،  سیدنا حسین رض کے کانوں میں اذان واقامت بھی اللہ کے نبی ﷺ نے ارشاد فرمائی ، ساتویں دن سر کے بال بھی نبی کریم ﷺ نے اتروائے اور بالوں کے وزن کے برابر چاندی بھی نبی کریم ﷺ ہی نے خیرات کی ، پھر عقیقہ بھی رسول اللہ ﷺ نے خود کیا ، حضور اکرم ﷺ کے فرمان کی روشنی میں صحابہ کرام رض بھی حضرت حسین رض سے بہت محبت کرتے تھے ، سانحہ کربلا کے بعد حضرت عبداللہ بن عمر رض سے ایک عراقی نے پوچھا کہ کیا حالتِ احرام میں مکھی مارنا جائز ہے ، تو حضرت عبداللہ ابن عمر رض نے فرمایا ، عراقیوں نے حضرت حسین رض کو تو شہید کر ڈالا اب مکھی مارنے کے احکام پوچھنے لگ گئے ہیں ، اللہ کے رسول ﷺ اپنی لاڈلی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے اکثر فرمایا کرتے تھے کہ حسین کو میرے پاس بھیجو تاکہ میں ان کو اپنے سینے سے لگاؤں اور پیار کروں ، ایک روایت میں حضرت اسامہ بن زید رض سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ،
اے اللہ ! میں حسن و حسین سے محبت کرتا ہوں آپ بھی ان سے محبت فرمائیں اور ہر اس شخص سے محبت فرمائیں جو ان سے محبت کرتا ہے ،
ایک اور حدیث میں آقا ﷺ نے ارشادفرمایا ، حسین میری اولاد ہے اور میرا حسین سے خصوصی تعلق ہے ، اللہ تعالیٰ اس شخص سے محبت فرماتے ہیں جو حسین سے دعویٰ محبت میں عملاً سچا ہو ، صحابی رسول ﷺ حضرت امیرمعاویہ رض اسلامی تاریخ کے ہیرو ہیں ، ان کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد مسلمان آج تک متحد نہیں ہو سکے ، وہ 22 رجب 60 ھجری کو دنیا سے رخصت ہوئے ، ان کی شہادت کے 6 ماہ بعد سانحہ کربلا پیش آیا ، حضرت امیرمعاویہ رض کے دور میں کوفہ کے گورنر حضرت نعمان بن بشیر رض تھے ، حضرت امیر معاویہ رض کی وفات کے بعد سانحہ کربلا سے کچھ ہفتے قبل حضرت نعمان بن بشیر رض کو معزول کر کے عبیداللہ ابن زیاد کو گورنر بنایا گیا تھا ، دوسری طرف حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے جب اہل کوفہ کے پر زور اصرار پر رخت سفر باندھنے کا ارادہ فرمایا تو حضرت عبداللہ بن عمر رض ،
حضرت عبداللہ بن عباس رض اور آپ کے بھائی محمد بن حنیفہ رح نے خیرخواہانہ طور پر انہیں جانے سے روکا ، چونکہ سیدنا حسین رض سفر کا عزم کر چکے تھے اس لیے یہ مشورہ قبول نہ کیا اور سفر پر روانہ ہوگئے ، دوران سفر آپ نے اپنے چچازاد بھائی حضرت مسلم بن عقیل کو کوفہ میں قاصد بنا کر بھیجا ، تاکہ وہاں کے حالات دیکھیں اور ہمیں مطلع کریں کہ اگر حالات درست ہوں تو ہم یہ سفر اختیار کریں ، جب حضرت مسلم بن عقیل کوفہ پہنچے تو بارہ ہزار کوفیوں نے آپ کی بیعت کی ، ان حالات کے پیش نظر آپ نے حضرت حسین رض کو اطلاع دی کہ حالات سازگار ہیں آپ تشریف لے آئیں ، حضرت حسین رض سفر ہی میں تھے کہ اطلاع ملی کہ گورنر کے اختیارات پاتے ہی عبیداللہ ابن زیاد نے حضرت مسلم بن عقیل کو شہید کروا دیا ہے ،
یہ خبر سن کر پھر مشاورت ہوئی ، رفقاء نے قصاص لئے بغیر جانے سے انکار کر دیا ، قافلہ روانہ ہوا اور میدان کربلا میں پہنچ گیا ، ادھر ابن زیاد نے عمرو بن سعد کو ایک لشکر کا سپہ سالار بناکر میدان جنگ کی طرف روانہ کردیا ، جب اس کی آپ سے ملاقات ہوئی تو آمد کا مقصد پوچھا تو حضرت حسین نے عمرو بن سعد کے سامنے تین شرطیں رکھیں کہ مجھے واپس مکہ جانے دو، یا مجھے کسی سرحد پر جانے دو میں کسی جہاد میں شریک ہو جاؤں گا، یا پھر میں یزید کے پاس چلا جاتا ہوں۔ مسلم بن عقیل کے قتل میں براہ راست شریک اور خطوط بھیجنے والے غدار کوفیوں نے سمجھ لیا کہ اگر حسین یزید کے پاس پہنچ گئے تو اصل سازش فاش ہو جائے گی۔
ہزاروں خطوط ہمارے خلاف گواہ ہوں گے،حکومت کے ساتھ ان کی مفاہمت ہو جائے گی اور ہمیں پھر کوئی نہیں بچا سکے گا۔ اس لیے ابن زیاد نے حکم بھیجا کہ میں صرف ایک بات قبول کرتا ہوں کہ حسین بن علی رض اپنے پورے لشکر کے ساتھ ہماری اطاعت کرلیں ، حضرت حسین رض کو جب اس بات کی خبر ہوئی تو اپنے متبعین کو نہایت پرجوش انداز میں خطبہ دیا ، تمام رفقاء نے وفاداری کا بھرپور یقین دلایا ، دشمن کے مسلح سوار ساری رات خیموں کے گرد گھومتے رہے ، آخر 10 محرم الحرام کو فجر کی نماز کے بعد حضرت حسین نے اپنے اصحاب کی صفیں قائم کیں جن کی کل تعداد 72 تھی ، میدان کربلا میں عمرو بن سعد اپنے لشکر کے ساتھ حملہ آور ہوا ، اس طرح باقاعدہ لڑائی شروع ہوگئی ،

یہ پڑھیں: کربلا کی جنگ


72 کے مختصر لشکر نے دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا ، لیکن آخر کار دغابازوں کا لشکر حاوی ہوا ، نتیجتاً دشمنوں نے انتہائی سفاکی اور بیدردی سے معصوم بچوں کو بھی خون میں نہلانے سے دریغ نہ کیا ، چشم فلک نے یہ منظر بھی دیکھا کہ خاندان رسول ﷺ کو بیدردی سے شہید کر دیا گیا ، اس خون ریز معرکہ میں حضرت حسین کے 72 ساتھی شہید ہو گئے ، ظلم بالائے ظلم یہ ہوا کہ حضرت حسین رض کا سر کاٹ کر ابن زیاد کے دربار میں پیش کیا گیا تو اس نے انتہائی گستاخی کر کے چھڑی کے ذریعے نواسہ رسول ﷺ کے ہونٹوں کو چھیڑ کر جسد خاکی کی توہین کی اور یزید کو لکھ بھیجا کہ میں نے حسین کا سر قلم کردیا ہے ،
جنت اپنے سردار کی راہ تک رہی تھی ، دسویں محرم کے ڈھلتے سورج نے انسانیت کی تاریخ کا یہ درناک واقعہ دیکھا جس کو خون سے رنگین دھرتی نے اپنے سینے پر ہمیشہ کیلئے نقش کردیا نوجوانان جنت کے سردار اور خانہ نبوت ﷺ کے چشم و چراغ نے اپنے خون سے شجر اسلام کو سیراب کر کے نہ مٹنے والی داستان رقم کر دی ، جو آنے والی نسلوں کے لئے مشعل راہ ہے ، سانحہ کربلا طاقت کے نشے میں چور بدمست حکمرانوں کے ظلم کا ایک باب ہے،
قاتلانِ حسین رضی اللہ عنہ پر طرح طرح کی آفاتِ ارضی وسماوی کا ایک سلسلہ تو تھا ہی، لیکن واقعہ شہادت سے پانچ ہی سال بعد جب مختار بن ابی عبید نے قاتلانِ حسین رضی اللہ عنہ سے قصاص لینے کا ارادہ ظاہر کیا تو عام مسلمان اس کے ساتھ ہوگئے اور تھوڑے ہی عرصہ میں اس کو یہ تقویت مل گئی کہ کوفہ اور عراق پر اس کا تسلط ہوگیا، اُس نے اعلانِ عام کردیا کہ: ’’قاتلانِ حسین رضی اللہ عنہ کے سوا سب کو امن دیا جاتا ہے۔‘‘
اور قاتلانِ حسین رضی اللہ عنہ کی تفتیش و تلاش پر اُس نے اپنی ساری قوت خرچ کردی اور ایک ایک کو گرفتار کرکے سب کو قتل کردیا،حتیٰ کہ ایک روز میں دو سو اڑتالیس آدمی اِس جرم میں قتل کیے گئے کہ وہ قتل حسین رضی اللہ عنہ میں شریک تھے،اِس کے بعدخاص لوگوں کی تلاش اور گرفتاری شروع ہوئی الغرض وہ ظالم حکمران اس دنیا سے چلے گئے لیکن اسلام پر انہوں نے ایسی کاری ضرب لگائی کہ اسلام کو شدید نقصان پہنچا ، ظالموں کے ظلم سہہ کر بھی حضرت حسین رض آج بھی زندہ ہیں ، پائندہ ہیں ،
ان کے ذکر پوری دنیا میں فخر سے کیے جا رہے ہیں ، یقیناً وہ مظلوم تھے ، مظلومانہ شہید کئے گئے۔عام مؤرخین ابن اثیر وغیرہ نے لکھا ہے کہ جب سورج طلوع ہوتا، دھوپ در و دیوار پر پڑتی تو اتنی سرخ ہوتی تھی جیسے دیواروں کو خون سے رنگ دیاگیا ہو۔ امام حسینؓ کی شہادت کے بعد تقریباً دو تین مہینوں تک آسمانی فضا کی  کیفیت سرخی مائل رہی۔

Comments are closed.