لاہور، قصور(بیورورپورٹ )بھارت کی جانب سے دریائے ستلج میں پانی چھوڑے جانے کے بعد گنڈا سنگھ والا میں درجنوں دیہات زیر آب آ گئے ہیں، دیہاتی اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ علاقوں کا رخ کرنے لگے ہیں۔دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے، پانی کی آمد 1 لاکھ 14 ہزار 260 کیوسک تک پہنچ گئی، اگلے 24 سے 48 گھنٹوں میں دریائے ستلج گنڈا سنگھ والا میں اونچے درجے کا سیلاب متوقع ہے۔ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بھکی والا ، مستے کی ، فتح والی ، ماہی والا اور چندا سنگھ کے دیہاتوں میں بھی ریسکیو کیمپس قائم کر دیئے گئے، قصور کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 211 افسران و اہلکار ڈیوٹی دے رہے ہیں۔پی ڈی ایم اے کے مطابق ہیڈ سلیمانکی کے مقام پر پانی کی آمد 62118 اور اخراج 62118 ہے، سیلابی پانی سے قصور اور اوکاڑہ سمیت متعدد دیہات زیر آب آئے ہیں۔دریائے ستلج میں پاکپتن کے مقام پر بھی درمیانی سطح کے سیلابی ریلے کا الرٹ جاری کر دیا گیا، دریا میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث قریبی آبادیاں خالی کرا لی گئیں۔ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سیلابی صورتحال کے ممکنہ اقدامات کیلئے ریلیف کیمپ قائم کر دیئے ہیں، مشینری اور بوٹس کے ساتھ ریسکیو عملہ موجود ہے، متعلقہ محکموں کو 24 گھنٹے ڈیوٹی پر الرٹ رہنے کے احکامات بھی جاری کر دیئے گئے ہیں۔ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ انسانی جانوں کو بچانے کے لئے تمام تر وسائل کو بروئے کار لایا جا رہا ہے۔
Trending
- ادارے کے وسیع تر مفاد میں سی بی اے یونین کے ساتھ باضابطہ اجلاس منعقد کر کے اعتماد میں لیا جائے
- آئی ایس ایس آئی اور انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل پولیٹکس اینڈ اکونومکس کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کی تقریب
- امام بارگاہ حملہ کے شہداء کو خراج عقیدت، وزیراعظم کا مالی امداد کا اعلان
- شوق اورشاک
- ہمارے بزرگ جوشجرسایہ دار تھے
- مسئلہ کشمیر دنیا بھر میں اجاگر ہوچکا،معرک? حق میں بھارت کا گھمنڈ خاک میں ملا دیا ، کشمیر میں کوئی بھی حکومت ہو وفاق کا تعاون جاری رہے گا،وزیر اعظم محمد شہباز شریف
- فلسطین ایک دو راہے پر: بورڈ آف پیس کے تحت فلسطینی مقصد کا مستقبل
- مزدوررہنماؤں کا پاکستان ورکرزفیڈریشن کے وائس چیئرمین چوہدری محمد اشرف کے بھتیجے کی وفات پر اظہارتعزیت
- باتسلیمات ڈپٹی ڈائریکٹر اطلاعات و تعلقات عامہ حکومت پنجاب اٹک
- پاکستان کے بیدار محافظ ہرفتنہ فنا کردینگے
ستلج نے درجنوں دیہات ڈبو دیئے
Next Post
Comments are closed.