راولپنڈی ستھرا پنجاب پروگرام مریم نواز کا پنجاب راولپنڈی کی تحصیلوں میں ماہ رمضان کے مقدس ماہ کو ورکروں اور ڈرائیوروں کے لیے عذاب بنا دیا گیا تھا اور ورکر اپنی ڈیوٹی کے دوران بے ہوش ہونے لگے تھے جن کو بغیر نوٹس دیے برطرف کر دیا جاتا تھا جس کی نشاندہی روزنامہ زور اور نے گزشتہ روز کی۔ اور برطرف کیے گئے ورکر کو بحال کر دیا گیا ہے۔ جس پر ستھرا پنجاب پروگرام کے ورکر نے روزنامہ زور اور کو دعائیں دی اور کہا کے روزنامہ زور اور مظلوم کی اواز بلند کی ہے اور دعا ہے کہ ائندہ بھی مظلوم کی اواز بلند کرتی رہے اور اللہ سے دعا ہے کہ دن دگنی رات چگنی ترقی کرتے ہوے اسمان کی بلندیوں کو چھوئے ۔گزشتہ روز روزنامہ زور اور نے نشاندہی کی تھی کہ ستھرا پنجاب پروگرام راولپنڈی کی تحصیلوں میں ورکروں اورڈرائیوروں کے لیے ماہ رمضان عذاب بنا دیا گیا روات پوائنٹ سے شفٹ انچارج فرض شناس حافظ محمود حمزہ کو ہٹا کر بسالی کے کرپٹ ترین سپروائزر معین مغل کو اس سیٹ پر لانے کے ساتھ ہی مبینہ طور پر کرپشن کی بدبو انے لگی معین مغل کا ورکروں کے ساتھ بتمیزی سے پیش انا اس نے معمول بنا لیا ۔ معین مغل اسسٹنٹ کمشنر حاکم خان نیازی اور ڈپٹی کمشنر کے دورہ کاجواز بنا کر ڈبل شفٹ کا کام لینے لگا جس سے روزے دار ورکر اور ڈرائیور بے ہوش ہونے لگے اورگاڑیوں کو لوڈ کرنے سے ورکر بے ہوش ہو کرگرنے لگے اور ان کو بغیر نوتس دیے نوکریاں سے برطرف کیا جا رہا ہے ۔ جس کا کوئی پراحسان حل نہیں ۔جب کہ راولپنڈی لیاقت باغ ستھرا پنجاب کا ماہ رمضان میں 4گھنٹے ڈیوٹی ٹائم ہے اور راولپنڈی کے روات پوائنٹ پر ادھے سے زائد ماہ رمضان گزر جانے کے باوجود ڈیوٹی ٹائم میں کمی نہیں کی گئی معین مغل ورکروں اور ڈرائیوروں سے دو شفٹوں کا کام لینے لگا۔ ذرا ئع سے معلوم ہوا کہ کوئی ورکر یا ڈرائیور اس کے ساتھ ٹائم کی بات کرتا ہے تو یہ اگے سے اگ بگولا ہو کر بدتمیزی اور گالم گلوچ پر اتر اتا ہے ۔ اور کہتا ہے جو میرا جس نے جو کچھ کرنا ہے کر لےذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے پاس کسی قسم کے کوئی اختیارات نہیں ہیں فرض شناس حافظ محمود کی جگہ پر قبضہ جمائے ہوئے بیٹھا ہے ۔اور ورکروں کے لیے عذاب بن گیا ہے گزشتہ تین دن پہلے ایک ورکر گاڑی لوڈ کرتے ہوئے تخت پڑی کے مقام پر گرا اور بے ہوش ہو گیا ۔معین مغل کو اطلاع دیتے ہی اس نے اس کو برطرف کر دیا ۔نہ دفتر میں اطلا ع دی اور نہ کسی اور کو بتایا اپنا بندہ لانے کے لیے فوری طور پر زخمی ورکر کو نوکری سے برطرف کر دیا ۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ معین مغل کواسسٹنٹ کمشنر حاکم خان نیازی اور توقیر خان کی شیرأباد ہے اورمعین مغل کہہ رہا ہے کہ جب تک حاکم خان نیازی اور توقیر خان ہے میرا کوئی بھی کچھ بگاڑ نہیں سکتا ۔فیلڈ کے اے ایم نے حافظ محمود کو کھڈے لائن لگا کر اس کو اگے لے کر اگیا اس ضمن میں معین مغل سے روزنامہ زور أور نےرابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا اسسٹنٹ کمشنر حاکم خان نیازی میرا اپنا بندہ ہے اور جس نے میرا جو کچھ کرنا ہے بے شک کر لے جا کے توقیر خان کو بتائے ۔جبکہ اے ایم کا کہنا تھا کہ میں اس سے شفٹ کا بھی کام لے رہا ہوں اور سپروائزر کا بھی کام لیتا ہوں۔ ورکروں اور ڈرائیوروں نے وزیر اعلی مریم نواز شریف سے اپیل کی ہے کہ بے ہوش ہونے والے ورکر کو نوکری پر بحال کیا جائے اور فرض شناس حافظ محمود جو کہ اصل شفٹ انچارج ہے اس کو سیٹ پر دوبارہ لانے سے کرپشن کے پول کھل کر سامنے لانے لگے گے اور ہماری جان اس معین مغل سے چھڑائی جائے ۔کل کے شمارہ میں ثبوتوں کے ساتھ کرپشن کی خبر شائع کی جاے گی۔
Comments are closed.